نتائج کی نمائش 1 تا: 1 از: 1

موضوع: ڈپریشن کا پتہ چلانے کا نیا طریقہ

  1. #1
    معاون Baab-Ul-Islam کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2015
    مقام
    North Manchester U.K
    پيغامات
    80
    شکریہ
    26
    41 پیغامات میں 54 اظہار تشکر

    ڈپریشن کا پتہ چلانے کا نیا طریقہ

    تحقیق کاروں نے نوعمر لڑکوں کو طبی ڈپریشن لاحق ہونے کے خطرے کی پیش گوئی کے لیے ایک نیا طریقہ وضع کر لیا ہے۔
    اس طریقے کے تحت معلوم کیا گیا ہے کہ جن افراد میں کارٹی سول نامی ہارمون کی مقدار زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ مایوسی، اکیلاپن اور یہ احساس کہ کوئی ان سے پیار نہیں کرتا، کے جذبات کا شکار ہوتے ہیں، ان کو بعد میں ڈپریشن ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ونیورسٹی آف کیمبرج کے تحقیق کار ڈپریشن کی پیش گوئی کرنے کے لیے ایسا ہی طریقۂ کار وضع کرنا چاہتے تھے جیسا دل کی بیماری کے لیے موجود ہے۔
    تاہم یہ طریقۂ کار لڑکیوں میں اتنا سودمند ثابت نہیں ہو سکا۔
    نوجوانی کا دور دماغی صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے، کیونکہ 75 فیصد ذہنی امراض 24 سال کے عمر تک پہنچنے سے پہلے پہلے نمودار ہو جاتے ہیں۔
    لیکن اس وقت کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں تھا جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ آگے چل کر کس کو ڈپریشن ہو گا اور کسے نہیں۔ لیکن اب سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان انھوں نے ایسا طریقہ دریافت کرنے کے راستے پر ’پہلا قدم‘ اٹھا لیا ہے۔
    1858 ٹین ایج لڑکوں پر نفسیاتی سوالنامے اور ہارمون کورٹی سول کی مقدار کے نتائج برطانیہ کے نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے جریدے میں شائع کیے گئے۔
    اس سے معلوم ہوا کہ ایسے نوجوان جن میں کورٹی سول کی مقدار زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈپریشن کی ابتدائی علامات بھی موجود تھیں، ان کو ڈپریشن لاحق ہونے کا خطرہ 14 گنا کم تھا۔ہر چھ میں سے ایک لڑکا انتہائی خطرے کے زمرے میں شامل تھا اور ان میں سے نصف میں اس مطالعے کے تین سال کے اندر اندر طبی ڈپریشن کی تشخیص ہو گئی۔ایک تحقیق کار پروفیسر این گڈیر نے کہا: ’ڈپریشن ایک ہولناک بیماری ہے اور جو برطانیہ میں ایک کروڑ لوگوں کو ان کی زندگیوں کے کسی نہ کسی موڑ پر متاثر کرتی ہے۔
    تاہم ہم نے اپنی تحقیق سے ان ٹین ایج لڑکوں کی شناخت کرنے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے جنھیں طبی ڈپریشن لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔‘
    انھوں نے کہا: ’اس سے ہمیں ان افراد میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ادویات کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔‘
    اگرچہ خواتین کو ڈپریشن ہونے کے امکانات مردوں سے دوگنا ہوتے ہیں، لیکن اس طریقۂ کار سے ان کے اندر خطرے کا اندازہ لگانے میں کوئی خاص مدد نہیں ملی۔
    یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ عورتوں میں کورٹی سول کی مقدار پہلے ہی زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انھیں پہلے ہی ڈپریشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
    تاہم اب تک یہ ٹیسٹ طبی استعمال کے لیے تیار نہیں ہے۔
    ذہنی امراض کے ادارے ’مائنڈ‘ کے سیم چیلس کہتے ہیں: ’اس تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے ڈپریشن کا پہلے سے پتہ چلایا جا سکتا ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ڈپریشن کے کئی اسباب ہوتے ہیں، جیسے زندگی کے حالات و واقعات، موروثیت، ادویات کے ضمنی اثرات اور خوراک وغیرہ۔
    ’تاہم اس تحقیق سے ایسے لوگوں کی شناخت کی جا سکتی ہے جنھیں مدد کی ضرورت ہے۔‘





    السلام علیکم۔دوستوں آیئے سب ملکر اپنی قومی زبان اردو کو فروغ دیں ۔ آنے والی نسلیں اردو چھوڑ کر انگلش بولنے پر فخر کرتے ہیں۔ساری دنیا اپنی مادری زبان کو جاری و ساری رکھنے میں کوشاں ہیں۔ہماری پہچان
    پاکستان اور ہماری اردو آپکی اردو ہے۔​


  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے Baab-Ul-Islam کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (05-10-2015)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University