سلسلہ سفرنمبر:6
کرامت
مفتی ارشاد احمد حقانی صاحب نے ہدایت اللہ کو اپنے پاس بلایا ، ہدایت اللہ تقریبا بیس سالہ نوجوان لڑکا ، لنڈی سیڈان کا باشندہ ہے اس کی ایک چھوٹی سی دکان ہے جس سے اپنا ذریعہ معاش چلا تا ہے ،ناظرہ قرآن پڑھا ہوا یہ بچہ صحابہ کی محبت میں دیوانہ تھا اور مفتی صاحب نے ہدایت اللہ سے کہا کہ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دو اور آنکھیں بند کر و جو نظر آئے تو بتلانا اور جب تک میں نہ کہوں تو آنکھیں مت کھولنا ،
مفتی صاحب نے ہدایت اللہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیے کچھ عمل کرنے لگے ،پڑھ کر ہدایت اللہ پر پھونک ماری ،اور پوچھا کچھ نظر آیا ؟،
آنکھیں بند کیے ،کانپتے ہاتھوں سے ہدایت اللہ نے کہا جی نظر آیا ہے
مفتی صاحب نے پوچھا کیا نظر آیا ،؟
تو ہدایت اللہ نے کہا ،کہ صحابہ نظر آرہے ہیں ،یقین کرے جب یہ سنا تو دل کی عجیب کیفیت بن چکی تھی خوشی سے آنکھوں میں آنسو رواں تھے ، اور تکھاوٹ سے چکنا چور وجود بالکل تازہ دم ہوگیا اور تکھاوٹ کا احساس تک ختم ہوگیا تھا ،دلی سکون محسوس ہورہا تھا ،
مفتی صاحب نے ہدایت اللہ کو کہا کہ آپ صحابہ کرام کو سلاپیش کریں ،اور ہدایت اللہ نے سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا ،خیریت پوچھی ،اور تعارف پوچھا ،اور نام کے بارے میں پوچھا ؟
تو بتلایا کہ اس مزار میں حضرت سہل بن عدی رضی اللہ عنہ مدفن ہیں
مفتی صاحب نے ہدایت اللہ سے کہا کہ ان سے اجازت مانگے کہ ہم آپ کے مہمان آپ کی قربانیوں کو سلام پیش کرنے آئے ہیں اجازت ہوتو آجائیں ؟
،تو انہوں نے ہدایت اللہ کو جواب دیا اور ہدایت اللہ نے بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں آپ آجائیں ہم آپ کا انتظار کرررہے ہیں ،اور مفتی صاحب نے یہ عمل ختم کردیا اور ہم صحابی رسول سیدنا سہل بن عدی رضی اللہ عنہ کے مزار پر پہنچے
سلسلہ سفر نمبر:7
حضرت سہل بن عدی رضی اللہ عنہ کی آمد کا تذکرہ
سرزمین ہند پر صحابہ کے اولین نقوش:
امیر الموٴمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت پر فائز ہونے کے چار سال بعد سن ۱۵/ ہجری میں حضرت عثمان بن ابوالعاص کو بحرین اور عمان کا والی مقرر کیا، حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے برادر محترم ”حضرت حکم بن ابی العاص رضی اللہ عنہ“ کو ایک لشکر کا کمانڈر بنا کر ہندوستان کی بندرگاہ ”تھانہ“ اور ”بھروچ“کے لئے روانہ کیا اور اپنے دوسرے بھائی ”مغیرہ بن ابی العاص ثقفی رضی اللّٰہ عنہ“ کو فوج دے کر،”دبیل (کراچی)“کے لئے روانہ کیا ،مگر یہ غیر مستقل جھڑپیں تھیں، کوئی مستقل فوج کشی اور جنگ نہیں تھی، اس لئے عام تاریخ کی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں ملتا، اسی طرح ”مکران، کرمان، رن، بلوچستان، لس بیلا، ملات، ملتان، لاہور، بتوں، کوہاٹ“ اور دیگر علاقوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی مقدس جماعت کا ورود مسعود تاریخ کی بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
قدیم زمانے میں بلوچستان بھی سندھ سے ملحق ہوا کرتا تھا ۔ اس کا ایک قدیم حصہ کرمان کے نام سے مشہور تھا جو کہ آج کل ایران کا حصہ ہے ۔ اسےسنہ 11ھجری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سہل بن عدی نے بالائی بلوچستان یعنی پنجگور تک فتح کیا ۔ جب کہ پاکستانی حصے کا قدیم نام سیستان تھا جسے زیریں بلوچستان بھی کہا جاتا تھا ا
حضرت سہل بن عدی بن مالک بن حرام الخزرجیؓ:
حضرت عمر بن الخطابؓ نے آپ کو حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے پاس بصرہ اس فرمان کے ساتھ بھیجا تھا کہ وہ آپ کو ہندوستان کے جہاد پر روانہ کریں، چنانچہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے حضرت سہل بن عدی کو کرمان کی مہم پر روانہ کیا۔ کرمان آپ کے ہاتھوں فتح ہوا۔
تفصیلی حالات اصابہ لابن حجرعسقلانی وغیرہ میں ملاحظہ فرمائیں۔
موٴرخ اسلامی علامہ قاضی محمد اطہر مبارکپوری رحمة اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق سرزمین ہند کو سترہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین کی قدمبوسی کا شرف حاصل رہا ہے، جبکہ دورِ حاضر کے موٴرخ محمد اسحاق بھٹی کی تحقیق کے مطابق پچیس صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے اقدامِ مبارکہ کی قدم بوسی سرزمین ہند کو حاصل ہوئی،
اب یہاں مناسب معلوم ہوتا ہیکہ ان صحابہ کے نام ہی ذکر کردئیے جائیں جن کا ورودِ مسعود ہندوستان کی سرزمین میں ہوا:
(۱)حَکَم بن ابی العاص (۲)حَکَمْ بن عمرو ثعلبی غفَاری (۳)حضرت خریت بن راشد ناجی سامی (۴)رُبَیَّعْ بن زیاد حارثی مَذْحَجِی (۵)سنان بن سلمہ ہذَلی (۶)حضرت سہل بن عدی خزرجی انصاری (۷)حضرت صحّار بن عباس عبدی (۸)حضرت عاصم بن عَمرو تمیمی (۹)عبداللہ بن عبداللہ بن عِتبان انصاری (۱۰)عبداللہ بن عمیر اَشجعی (۱۱)عبدالرحمن بن سمُرہ قرشی (۱۲)عبیداللہ بن معْمَر قرشی تیمی (۱۳)عثمان بن ابی العاص ثقَفِی (۱۴)حضرت عُمیر بن عثمان بن سعد (۱۵)مجاشع بن مسعود سَلَمِی (۱۶)حضرت مغیرہ بن ابی العاص ثقفی (۱۷)حضرت منذر بن جارود عبدی (رضی اللہ عنہم اجمعین)
یہ وہ نفوسِ قدسیہ تھے جنہوں نے إعلاء کلمة اللہ اور ابلاغِ دین اسلام کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا اور ہم اہل ہند کو اسلام کی تعلیماتِ صحیحہ سے روشناس کیا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بہترین بدلہ عطا فرمائے اور ہم لوگوں کو بھی جاہلیت قرن عشرین کی تاریکیوں سے محفوظ فرما کر ،دوسروں کے لئے ہدایت کا باعث بنا دے، ہمیں ہمارے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یارب العالمین

سلسلہ سفر نمبر:8
مزار پر فاتحہ اور ہدایت اللہ کی روح پرور آواز میں نظم
حضرت سہل بن عدی رضی اللہ عنہ کے مزار پرفاتحہ اور سلام عرض کیا ،بے اختیار آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے ،دل کو اطمینان قلبی نصیب ہوا ، وہاں پر ہدایت اللہ نے صحابہ کی شان میں ایک مختصر سی نعت پڑھی اور سلام کرتے ہوئے بادل نخواستہ رخصت ہوئے ،اور ایک درخت کے سایہ میں بیٹھ کر مفتی صاحب نے ہدایت اللہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں دیتےہوئے دوبارہ یہ عمل دوہرایا ،اور سلام اور تعارف کے بعد
انہوں نے کہا کہ آپ رو کیوں رہے تھے ؟
تو عرض کیا آپ کی قربانیوں کو دیکھ کے
پھر ان سے کہا کہ ہم آپ کے مہمان آپ سے اجازت چاہتے ہیں؟
تو انہوں نے کہا نماز پڑھ کے جائیں بتلایا کہ مسافر ہیں
،تو انہوں نے فرمایا چلیں آپ نے بہت قربانی دی ہے ،آپ سفر کریں ،ان سے اجازت لے کے واپس چل پڑے
پتھر پر قدیمی تحریر
،قریب ہی ایک پتھر پر پرانی زبان اور عربی زبان میں کچھ درج تھا جو کہ آپ تصویر کے عکس میں ملاحظہ کرسکتے ہیں ، اس کالے پتھر پر بادشاہ التمش کا نام بھی لکھا ہے ، اور ایک زبان میں بھی تحریر لکھی ہوئی تھی
سلسلہ سفر نمبر :9
دوبارہ کرامت
اس مقام پرراقم نے مفتی صاجب سے درخواست کی کہ اپنے عمل کے ذریعہ سے اس لکھائی کے بارے میں ،اسلامی لشکروں کے بارے میں پوچھا جائے ،مفتی صاحب نے راقم کی درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے ایک درخت کی اوٹ میں سب دوستوں کو ٹھہرنے کا فرمایا اور ہدایت اللہ کو بلایا ،اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دیتے ہوئے کچھ پڑھنے لگے اور ہدایت اللہ نے آنکھیں بند کرلی ،ان کے ہاتھ ہلکے ہلکے کپکپا رہے تھے ،مفتی صاحب نے پوچھا کچھ نظر آیا ؟
ہدایت اللہ نے جواب دیا ،جی صحابہ نظر آرہے ہیں ،ان کو سلام کریں اور خیریت دریافت کریں ،ہدایت اللہ نے سلام اور خیریت معلوم کی ،تعارف پوچھا ،لیکن انہوں نے تعارف اور نام نہ بتائے
،ہم نے پوچھا ،کہ آپ کس زمانے سے یہاں تشریف لائے ہیں ؟
تو فرمانے لگے ،ہم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ،جس پر بنو امیہ نے ظلم وستم کیا کرتا تھا اور جس کو صدیق اکبر سائیں رضی اللہ عنہ نے آزاد کرادیا تھا ،ہم اسی زمانے سے یہاں آئے ہوئے ہیں ،ہماری شادیا ں بھی نہیں ہوئیں ،اور یہاں کے لوگوں کو ہم کلمہ پڑھاتے ہیں لیکن ان کو کلمہ یاد نہیں ہوتا
،اور مفتی صاحب نے پوچھا ،حضرت سخی صاحب رضی اللہ عنہ{حضرت سہل بن عدی رضی اللہ عنہ } کے کس زمانے میں یہاں تشریف لائے ؟
تو کہنے لگے یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بھیجا تھا ،
اورشکوہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہاں کے لوگ ،شرکیہ الفاظ مزار پر لکھ جاتے ہیں اور کپڑے کے ٹکڑے باندھ جاتے ہیں اور مال ومویشی کو مزار کے قریب لے آکر پیشاپ کرواتے ہیں جس سے تکلیف پہنچتی ہیں ،
ہدایت اللہ نے کہا ،آپ ناراض نہ ہوں ہم ابھی جاکر ان کو روکتے ہیں ،یہ آپ کو گالیاں نہیں دینگے اور ہدایت اللہ کہنے لگے "صحابہ کا جو غلام ہے ہمارا وہ امام ہے " اور صدیق سائیں کے ہم نوکر ہیں ،
ہم نے عرض کی ہم آپ کے مہمان ہیں ہمیں زمزم تو پلائیں
،ہدایت اللہ نے ہماری بات ان تک پہنچائیں اور وہ کہنے لگے دو منٹ صبر کریں ہم آپ کو زمزم پلاتے ہیں ،تو بے ساختہ ہدایت اللہ کی زبان سے نکلا اتنا ٹھنڈا پانی ۔۔۔۔
ہدایت اللہ ان سے پوچھنے لگا یہ کیوں سویاہوا ہے ؟اور یہ نابینا کون ہیں؟ تو کہنے لگے کہ یہ عبداللہ ہے،
ہم نے پوچھا ابن ؟
تو کہنے لگے ابن مکتو م ہیں ،
مفتی صاحب پوچھنے لگے کہ کیا آپ ہمیں جانتے ہیں ؟
،تو کہنے لگے آپ نے قربانی کرکے تشریف لائے ہیں
مفتی صاحب نے کہا قربانیاں تو آپ کی ہیں آپ کی قربانیوں کو سلام پیش کرنے آئے ہیں
،اور وہ کہنے لگے آپ کے ساتھیوں میں دو آدمی ایسے ہیں جو سخی اور بااخلاق ہیں
پوچھا کہ ان کے نام بتائیے تو کہنے لگے ایک کا نام ارشاد احمد ہے
اور ہم نے دوسرا کا نام دریافت کیا تو کہنے لگے وہ کبھی کبھار سخاوت چھوڑ جاتا ہے تو ہم سب کہنے لگے کہ آئندہ سخاوت نہیں چھوڑینگے ،انہوں نے دوسرے کا نام بتانے سے انکار کردیا ،
اور کہنے لگے ہم آپ سے ناراض ہیں ہمارے پاوں کے نیچے زمین نکل گئی یا اللہ خیر ،پوچھا غلطی ہوگئی ہے تو معافی مانگتے ہیں
کہنے لگے آپ کے لیے کھانا تیار تھا آپ کھانا کھائے بغیر چل پڑے ،اس جگہ ہمیں بہت ہی افسوس اور شدید حسرت ہوئی کہ دوبارہ مسجد میں جانا چاہیے تھا چونکہ ہم دوسرے پہاڑ تک کا سفر کرچکے تھے
،خیر ہم نے انہیں نصیحت کرنے کے بارے میں عرض کی
تو کہنے لگے ،آپ تہجد کی نماز پڑھا کریں اور سب نے اپنا اپنا نام لے کر دعاوں کا کہا
،مفتی صاحب نے میرا نام لے کر انہیں کہا کہ اللہ نجم الحسن صاحب کو حج وعمرہ کرنے کی شرف فضیلت بخشے ،
ہدایت اللہ نے پیغام دعا آگے منتقل کیا ،اور دوبارہ ان سے اجازت چاہی ،اور انہوں نے اجازت دے دی
سلسلہ سفر نمبر:10
ہدایت اللہ کی بند آنکھوں کے نظارے ان کی خود زبانی
زندگی میں پہلی بار یہ کراماتی واقعات دے کر حیران رہ گیا ، اور ہدایت اللہ سے بند آنکھوں کے ذریعہ سے نظر آنے والی مقدس شخصیات کے بارے میں پوچھنے لگا
تو ہدایت اللہ نے بتایا ،بہت ہی خوبصورت چہروں والے تھے ،سفید جبے پہنے ہوئے تھے ،پہلی بار چھ خوبصورت چہروں والے نظر آئے ان میں سے ایک نے بات کی
اور دوسری مرتبہ جب عمل کیا تو اس وقت تیرہ خوبصورت چہروں والے نظر آئے انہوں نے مشورہ کر کے ایک کو مقرر کیا جو مجھے ایک منٹ بیت اللہ لے گیا اور آب زمزم والی جگہ دکھلائی اور پھر مدینہ لے گیا ،اور پھر واپس ،ہدایت اللہ بتانے لگے ،ان میں سے کچھ سو رہے تھے خوبصورت حسین وجمیل چہرے والے تھے اور کالے عمامے سر پر باندھے ہوئے تھے اور داڑھیان چہرے پر سجائی ہوئی تھی
یہ منظر دیکھ کر تکھاوٹ ختم ہوچکی تھی ،دل پر ایک عجیب سا اطمینان اور سکون طاری تھا ،اور ایسا سکون زندگی میں پہلی بار راقم نے محسوس کیا ،دل کی عجیب کیفیت تھی آنکھیں آنسو بہارہی تھی ،ہم بادل نخواستہ واپس جارہے تھے ،
بالاخر پیدل پتھروں اور سنگریزوں پر سفر کرتے ہوئے واپس درہ کاہاں سلطان آپہنچے ،جہاں ہماری کار کھڑی تھی اور محافظ محترم عارف صاحب موجود تھے اور عارف صاحب نے بتایا کہ یار لوگ آئے تھے حال احوال معلوم کرنے ،چونکہ سیف اللہ اور عارف اور مولانا مدنی صاحب سے علاقائی بلوچ تھے تو وہ ڈر گئے اور کہنے لگے جب واپس جائیں گے تو ہم کوئی دوسرا شکار کرینگے ،
درہ کاہاں سلطان میں نہانا
ہم درہ کاہاں سلطان میں واقعہ پتھروں سے نکلتے ہوئے چشمے کی نہر سے نہانے کا پروگرام بنالیا ،اور خوب نہائے ،پانی زیادہ ٹھنڈا تو نہیں تھا ،تکھاوٹ اور گرمائش نہانے سے دور ہوگئی ، نہانے کے بعد واپس روانہ ہوئے
کجھوریں اور سخی طیب سلطان کا مزار
اور میزبان مدنی صاحب راستہ میں ایک ایسی جگہ لے گئے جہاں کجھوریں ہی کجھوریں تھی ،بتارہے تھے کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی لشکر کا گذر اسی راستہ سے ہوا ،اور ممکن ہے ان کے ساتھ کجھوریں ہوں ،کجھوریں کھانے کے بعد گھٹلیاں پھینگی ہونگی جن کی کرامت کی وجہ سے کجھوریں اگ آئیں ہونگی ،اس جگہ میں عجیب سا دلی سکون محسوس ہوا ،ہوا سے کجھوروں کے تنے لہلہارہے تھے ،مدنی صاحب نے بتایا کہ ان درختوں کی کجھوریں بہت میٹھی ہوتی ہیں ،
مزار سخی طیب تنیہ رحمہ اللہ

اور اس جگہ کے تھوڑے سے فاصلہ پر سخی طیب سلطان تنیہ رحمہ اللہ کی مزار تھی ،کہا جاتا ہے کہ یہ بزرگ قسطنطنیہ سے آئے تھے ،اور ان کے قدیمی مزار پر حاضری دی ،
سلسلہ سفر نمبر:11
مدنی صاحب کے ادارہ کا وزٹ
مدنی صاحب کی انتھک کاوشوں اور دینی خدمات دیکھ کے دل سے دعائیں نکلی ان مشکلات ومصائب میں بھی اپنی مخلصانہ دینی کاوشوں کا جاری رکھے ہوئے ہیں ،
مدنی صاحب کے ادارہ میں نماز ظہر ادا کی اور شربت سے پیاس بجھائی ،تھوڑا سا آرام کے بعد "لنڈی سیڈان " پہنچے جہاں پر مدنی صاحب نے کھانا تیار کروایا ہوا تھا ،بے تکلف سادہ سے کھانے نے مزا دوبالا کردیا ، اور مدنی صاحب سے اجازت لی ،
دربار امیر حمزہ ابن علی
اور ہمارا یہ کارواں ٹھل حمزہ کی طرف رواں دواں ہوا ،وہاں پرراستہ میں ایک دربار امیر حمزہ سلطان ابن علی پر حاضری دی ،اور اس دربار کے بارے میں عجیب وغریب انکشاف سننے کو ملے ،اور کہا جاتا ہے کہ امیر حمزہ سلطان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اٹھارویں فرزند ہیں اور اس دربار پر دوسروے درباروں کی طرح شرک وبدعت بے حیائی دیکھنے کو ملی ، اللہ تعالی محفوظ فرمائیں آمین
سلسلہ سفر نمبر 12
نوشہرہ غربی
دربار امیر حمزہ سلطان کے بعد نوشہرہ غربی میں جانا ہوا وہاں ایک اور ادارہ میں نماز مغرب ادا کی اور میزبانوں نے بادام کا گھوٹا اور کھانے کی نشست سجا دی،محفل خوب گرم رہی ،میزبانوں سے اجازت چاہی
راجن پور
کھانا کھانے کے بعد رخت سفر باندھا ،راستہ میں مفتی صاحب سے راجن پور کی پسماندگی کے بارے میں باتیں ہوتی رہی ،مفتی صاحب نے بتایا کہ
ضئلع راجن پورپنجاب کا آخری پسماندہ ضئلع ہے جو بنیادی سہولیات سے قطعأ محروم ہے،یہ سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع ہے
ضئلع راجن پور کی تین تحصیلیں اور تینتالیس یونین کونسلز ہیں، کل آبادی آٹھایئس لاکھ سے اوپر ہے اور ا،سکا کل رقبہ ایک کروڑ بہتر لاکھ ایکڑ ہے۔جس میں دو حلقے قومی اور چار حلقے صوبائی اسمبلی کے ہیں۔
راقم کو راجن پور اور گرونواح میں جانے کا اتفاق ہوا تو میری آنکھیں دنگ رہ گئی جب ایک تالاب سے عورتیں اور بچے پانی بھر رہے تھے أسی تالاب سے انکے جانور اور انکا گدھا بھی پانی پی رہے تھے۔ انسانییت کی اتنی بڑی تذلیل اِن گنہگار آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
راجن پور کا علاقہ پچادھ تاریخی لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے،قلعہ ہرنڈ،ماڑی اور قلعہ لال گڑھ اِسی علاقے میں واقع ہیں، لیکن حکومتی عدم توجہی اور پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے سالانہ ہزاروں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔کھیتی باڑی تو دور کی بات لوگوں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں،بارشوں کے لیے یہاں کے مقامی لوگ منتیں اور چڑہاوے دیتے ہیں،اور یہی منتیں اِنکے گلے پڑ جاتی ہیں اور رود کوہی کی شکل میں سب کچھ بہا کر لے جاتی ہیں۔پانی کی جو ناکافی سہولیات موجود ہیں انکا بھی زیرِزمین پانی مسلسل سیلاب اور رود کوہویوں کی وجہ سے متا ثرہ ہو چکا ہے۔جس سے جلدی بیماریاں وجودمیں آ چکی ہیں۔
اِس علاقے کا زمین دوز پانی کڑوا ہے اگر کہیں پر پانی میٹھا ہے تو وہاں نلکے کی نوے فٹ کی مشین نصب ہوتی ہے اور ایک نلکے پر چالیس سے پچاس ہزار تک کے اخراجات اٹھتے ہیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔
بالآخر راجن پور شہر میں داخل ہوگئے اور چونکہ رات کافی بیت چکی تھی راقم نے ادارہ نعمان بن ثابت میں رات کا بقیہ حصہ بسر کیا اور مفتی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صبح صبح اپنے گھر ڈیرہ غاذی خان روانہ ہوگیا ۔
نجم الحسن