مجھ سمیت ہر کالم نویس کو مدح و ذم سے فرصت نہیں۔ ہم جس پر مہربان ہوتے ہیں اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیتے ہیں۔اُسے قوم کا نجات دہندہ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کا جانشین ثابت کرنے پر تُل جاتے ہیں اور جس پر ناراض ہوتے ہیں اسے اسفل اسافلین پر پہنچا کر دم لیتے ہیں۔ ہمیں فرصت نہیں کہ ہم سر اٹھا کر اپنے گردو پیش اور قرب و جوار کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ دنیا کی سب سے بڑی قوت افغانستان میں زخموں سے چور چور ہے۔ وہ وہاں ہزیمت پر ہزیمت اٹھا رہی ہے۔ وہ ارض افغانستان میں اسی طر ح گھر چکی ہے اور پھنس چکی ہے جیسے روس اپنی مداخلت کے آخری سالوں میں گھر چکا تھا اور راہ فرار تلاش کر رہا تھا۔ چونکہ امریکہ ڈھیٹ اور ضدی ہے اور گرفتار بلا ہونے کے باوجود اس وقت تک نہیں جانتا جب تک کہ پانی اس کے سر تک نہیں پہنچ جاتا اور وہ غوطے کھانے لگتا ہے۔ یہی کچھ ویت نام میں ہوا جہاں امریکہ کی ڈھٹائی اور بے شرمی نے ایک امن پسند اور خطرات سے دور بھاگنے والی قوم کو راتوں رات جنگجو بنا دیا تھا اور کوئی ایسا ویسا جنگجو کہ جس نے دنیا کی سُپر پاور کو ناکوں چنے چبوا دئیے اور اس کی فوجوں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اپنے ملک سے فرار ہونے پر مجبور کردیا ۔ افغانی تو خطرات کی آغوش میں پل کر جوان ہوتے ہیں۔ بندوقیں اور کلاشنکوفیں تو افغان بچوں کے کھلونے ہیں وہ برستے گولوں کے دوران یوں معمولاتِ زندگی سے لطف اند وز ہورہے ہوتے ہیں جیسے کوئی آتش بازی کا مظاہرہ ہورہا ہو۔اسی لئے نو دس برس تک افغانستان میں جنگ کی آگ میں امریکی ووٹرز کے اربوں کھربوں ڈالر جھونک دینے کے باوجود امریکہ شکست پر شکست کھا رہا ہے مالی نقصان کا تو کوئی حساب نہیں اب امریکہ اور اس کے اتحادی زبردست قسم کا جانی نقصان بھی اٹھا رہے ہیں۔
مگر ہمیں کیا، ہمیں تو مدح و ذم سے فرصت نہیں۔ ہمیں اپنے پڑوس میں لڑی جانے والی جنگ کے آخری مراحل پر ہونے کی کوئی خبر نہیں ۔ ہمیں امریکہ کے یہاں سے نکل جانے کے بعد بننے والے منظر نامے کا کوئی اندازہ نہیں۔ مگر جن امریکی شہریوں اور ووٹروں کے خون پسینے کی کمائی ٹیکسوں کی صورت میں ادا کی گئی کمائی آتش نمردو میں جھونکی جارہی ہے انہیں بہت فکر ہے۔
امریکہ میں ایک تازہ ترین نیشنل سروے ریس موسن گروپ نے تین اور چار دسمبر 2010کو منعقد کروایا۔اس گروپ کی سروے رپورٹوں کو سارے امریکہ میں نہایت ذمہ دارانہ اور حقیقت پر مبنی سمجھا جاتا ہے۔اس سروے کے مطابق اب امریکہ میں تقریباً32فیصد ووٹر ز یقین کامل رکھتے ہیں کہ امریکہ جنگ ہار رہا ہے اور طالبان جنگ جیت رہے ہیں جبکہ تقریباً مزید 22فیصد امریکی کارکردگی سے مایوس ہیں۔صرف 30فیصد کے قریب ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اگلے چند ماہ میں امریکی کارکردگی بہتر ہوگی۔ ماہِ نومبر میں45 فیصد امریکیوں نے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں ’’ دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ جیت جائے گا مگر اب صرف تیس فیصد سمجھتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔ امریکہ میں اس وقت صرف18فیصد امریکی ووٹر سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں صورتِ حال امریکہ کے حق میں بہتر ہوگی جبکہ 45فیصد سخت مایوس ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں حالات کی لہر امریکہ کے مخالف ہے اور صورتِ حال اگلے چند ماہ میں بہت خراب ہوگی اور امریکہ کو بھاری نقصان کے ساتھ افغانستان سے خراب و خاسر ہوکر نکلنا پڑے گا۔
امریکی شہریوں میں مایوسی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے ،ہر امریکی خوف کی سیاہ چادرمیں لپٹا دکھائی دیتا ہے اور سابق صدر جارج بش کے الفاظ میں یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ نائن الیون کے بعد اب کبھی پہلے والا امریکہ لوٹ کر نہیں آسکتا۔
دیکھنا یہ ہے کہ امریکی اتنی مایوسی کا شکار کیوں ہیں؟ وہ مایوسی کا شکار اس لئے ہیں کہ وہ حقیقت پسند ہیں۔وہ خبروں کا غیر جذباتی ہوکر تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ نوشۂ دیوار پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے حکمران امریکہ کے بے دام غلام ہیں۔اُن کی عقلیں، اُن کی روحیں اور اُن کی سوچیں سب غلام ہیں اور وہ شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار ہیں اس لئے انہیں معلوم نہیں کہ امریکی ووٹروں اور ٹیکس گزاروں کو معلوم ہوچکا ہے کہ کابل کی آبادی دوگنا ہوچکی ہے کیونکہ کابل میں امن و امان کی صورت حال قدرے بہتر ہے۔ اگرچہ وہاں بھی آئے روز امریکی اور اتحادی سپاہیوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور وہ جان سے ہاتھ دھوتے رہتے ہیں۔ امریکی شہریوں کو یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ افغانستان کے 34صوبوں میں سے 31 صوبوں پر عملاً طالبان قابض ہیں۔اُن میں سے بعض صوبوں میں اُن کی اپنی حکومت قائم ہے ،اُن کا نظامِ عدل نافذ ہے۔اُن کے احکامات کی اطاعت کی جاتی ہے اور اُن کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں ہوتی۔ کچھ صوبوں کی لوکل باڈیز میں طالبان کے حمایت یافتہ افغانیوں کی حکمرانی ہے۔
افغانستان کے درودیوار پر جو نوشتہ لکھا جا چکا ہے اس میں امریکہ کی شکست بڑے جلی حروف میں تحریر ہوچکی ہے۔ ہزاروں میل دور یہ شکست امریکی شہریوں کو تو نظر آرہی ہے مگر پڑوس میں واقع پاکستان کے ’’ اہل نظر‘‘ کو کیوں نظر نہیں آرہی۔ کبھی امریکی حملہ آوروں کے خلاف تیغ تبّراں بن کر اپنے قلم کی جولانیاںدکھانے والے قلمکار آج منقار زیر پر کیوں ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی مقامی سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوکر غلامی کے دام میں گرفتار ہوگئے ہیں اور اسی لئے چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے ایسے ہی مواقع کیلئے فرمایا تھاکہ…ع غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔
امریکہ میں امریکی نائن الیون کے بعد ایسی فلمیں بنا رہے ہیں جن میں وہ مسلمانوں کی اپنے دین کے ساتھ وابستگی اور شیفتگی کی حقیقت پسندانہ تصویر کشی کر رہے ہیں۔ وہ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ امریکہ میں بسنے والے صرف تین فیصد یہودی کس طرح امریکی دہشت کو آکٹوپس کی طرح اپنے پنجۂ استبداد میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ایک تازہ ترین فلم میں ایک امریکی مسلمان، جی ہاں! اوریجنل امریکی کا قصہ بیان ہوا ہے جس کی امریکی مسلمان بیوی کو امریکی فوجی اذیت دے کر اور ٹارچر کے شدید ترین طریقے استعمال کرکے ہلاک کردیتے ہیں اور یہ سارا کچھ وہ امریکی مسلمان کی آنکھوں کے سامنے کرتے ہیں۔ اتنے اذیت ناک اور غمناک منظر پر وہ امریکی بلال حبشی ؓکے نقشِ قدم کی پیروی کرتے ہوئے اللہ اکبر اللہ اکبر کے نعرے لگاتا ہے اور کہتا ہے کہ میر ی بھی بوٹیاں بوٹیا ں کردو مگر جو ایمان ہماری رگ و پے میں اتر چکا ہے وہ کبھی ہمارے جسم و جاں سے خارج نہیں ہوسکتا۔اس امریکی فلم کا امریکیوں کیلئے پیغام یہ ہے کہ اپنی حکومت کو سمجھائو کہ اس نے کس قوم سے جا کر متھا لگایا ہے۔
ہزاروں کوس کی مسافت پر امریکی شہریوں کو جو بات سمجھ آگئی ہے وہ ہمیں پڑوس میں ہونے کے باوجود کیوں نہیں سمجھ آتی۔ اس لئے کہ ہم احساس کمتری کا شکار ہیں، اس لئے کہ ہم مقامی سیاسی مصلحتوں کا شکار ہیں، اس لئے کہ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کا شکار ہیں،اس لئے کہ ہم اپنی وابستگیوں اور اپنی عداوتوں کا شکار ہیں اس لئے کہ ہمیں مطالعے اور گہرے غورو فکر کی فرصت نہیں۔اپنے وطن عزیز میں ڈرون حملوں سے اپنے ہی معصوم شہریوں کے اڑتے ہوئے چیتھڑے اور فضا میں بلندہوتے ہوئے خون کے چھینٹے دیکھنے کی فرصت نہیں اور ہمیں آسمان کی پیشانی پر افغانستان میں امریکی شکست کی لکھی ہوئی تحریر پڑھنے کی فرصت نہیں۔ ہمیں مدح و ذم سے ہی فرصت نہیں کہ ہم اپنے گردو پیش کو دیکھ سکیں۔