نتائج کی نمائش 1 تا: 6 از: 6

موضوع: قربانی کے مسائل

Threaded View

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    قربانی کے مسائل

    قربانی مندرجہ ذیل جانوروں کی ہو سکتی ہے:
    اونٹ، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، دنبہ۔ ان جانوروں میں سے ہر ایک کی قربانی درست ہے، خواہ نر ہو یا مادہ یا خصی۔ ان کے سوا کسی دوسرے جانور کی قربانی درست نہیں، جیسے نیل گائے، ہرن وغیرہ۔ جانروں کی عمروں کی تفصیل:
    قربانی کے اونٹ کی عمر کم از کم پانچ سال، گائے، بھینس کی دو سال اور بھیڑ، بکری، دنبہ کی ایک سال ہونا ضروری ہے۔
    البتہ بھیڑ یا دنبہ چھ ماہ کے ہوں، مگر اس قدر فربہ( صحت مند اور موٹے) ہوں کہ دیکھنے میں پورے سال کے معلوم ہوتے ہوں، جس کی علامت یہ ہے کہ انہیں سال کی بھیڑوں، دنبوں میں چھوڑ دیا جائے تو دیکھنے والا ان میں فرق نہ کر سکے تو سال سے کم عمر ہونے کے باوجود ان کی قربانی جائز ہے، اگر چھ ماہ سے عمر کم ہو تو کسی صورت میں قربانی درست نہیں، خواہ بظاہر کتنے ہی بڑے لگتے ہوں۔ قربانی کے جانور کے دو دانت ہو نا مذکورہ بالا عمریں ہونے کی محض ایک علامت ہے، قربانی کے لیے لازمی شرط نہیں۔ اس لیے اگر جانو رگھر کا پالتو ہو اور عمر پوری ہونے کا یقین ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔
    اگر دو دانت نہ ہوں اور فروخت کرنے والا عمر پوری بتاتا ہو اور ظاہر حال اس کی تکذیب نہ کرتا ہو، اپنے تجربہ سے عمر پوری معلوم ہو رہی ہو یا فروخت کرنے والے کی بات پر دل مطمئن ہو تو اس کی بات پر اعتماد کر لینا اور اس جانور کی قربانی کرنا جائز ہے۔
    قربانی کی کم از کم مقدار:
    قربانی کی کم از کم مقدار ایک چھوٹا جانور(بھیڑ، بکری) یا بڑے جانور( اونٹ، گائے، بھینس) کا ساتواں حصہ ہے، لہٰذا بڑے جانور میں کسی شریک کا حصہ اگر پورے جانور کے گوشت یا اس کی قیمت کے ساتویں حصہ سے بھی کم ہے تو کسی شریک کی بھی قربانی درست نہیں۔ البتہ اگر شرکاء سات سے کم ہوں اور بعض کا حصہ ساتویں حصہ سے زائد ہو تو کوئی مضایقہ نہیں۔
    جن عیب دار جانوروں کی قربانی جائز نہیں:
    (۱) جس کا ایک یا دونوں سینگ جڑ سے اکھڑ گئے ہوں۔
    (۲) جس بھیڑ، بکری کی پیدائشی طور پر دم نہ ہو۔
    (۳) اندھا جانور۔
    (۴) ایسا کانا جانور جس کا کانا پن واضح نظر آتا ہو۔
    (۵)اس قدر لنگڑا جو چل کر قربان گاہ تک نہ پہنچ سکتا ہو، یعنی چلنے میں لنگڑا پائوں زمین پر نہ ٹیکتا ہو۔
    (۶)ایسا بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو۔
    (۷)جس کے پیدائشی طور پر دونوں یا ایک کان نہ ہو۔
    (۸)جس کی چکتی، دم، کان یا ایک آنکھ کی بینائی کا نصف یا اس سے زیادہ حصہ جاتا رہا ہو۔ ان اعضاء کا کتنا حصہ جاتا رہا ہو تو قربانی جائز نہیں؟ اس کے بارے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالیٰ سے چار روایات ہیں:
    ۱۔چوتھائی
    ۲۔ تہائی
    ۳۔ تہائی سے زیادہ
    ۴۔نصف
    بعض اکابر نے تہائی والی اور بعض نے تہائی سے زائد والی روایت کے مطابق فتوٰی دیا ہے مگر علامہ شامی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے اسی چوتھی نصف والی روایت کو ترجیح دی ہے اور صاحبین رحمہما اﷲ تعالیٰ کا قول بھی اسی کے مطابق ہے اور امام اعظم کے اسی کی طرف رجوع کا قول بھی کیا گیا ہے۔
    (۹) جس کے دانت بالکل نہ ہوں یا اکثر گر جانے یا گھس جانے کی وجہ سے چارہ نہ کھاسکتا ہو۔
    (۱۰)جسے مرض جنون اس حد تک لاحق ہوگیا ہو کہ چارہ بھی نہ کھاسکے۔
    (۱۱)ایسا خارشی جانور جو بہت دبلا اور کمزور ہو۔
    (۱۲)جس کی ناک کاٹ دی گئی ہو۔
    (۱۳)جس کے تھن کاٹ دیئے گئے ہوں۔
    (۱۴)جس کے تھن اتنے خشک ہوگئے ہوں کہ ان میں دودھ نہ اُترے۔
    (۱۵)جس گائے کے دو تھن کاٹ دیئے گئے ہوں۔
    (۱۶)جس بھیڑ، بکری کے ایک تھن کی گھنڈی (سر) جاتی رہی ہو۔
    (۱۷)جس اونٹنی یا گائے کے دو تھنوں کی گھنڈیاں جاتی رہی ہوں۔
    (۱۸)جس گائے کی پوری یا تہائی سے زیادہ زبان کاٹ دی گئی ہو۔
    (۱۹)جلالہ یعنی جس جانور کی غذا صرف نجاست اور گندگی ہو۔
    (۲۰)ایسا لاغر اور دبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔
    (۲۱)جس کا ایک پائوں کٹ گیا ہو۔
    (۲۲)خنثیٰ جانور جس میں نر و مادہ دونوں کی علامات ہوں۔
    جن جانوروں کی قربانی جائز، مگر خلاف ِاولیٰ ہے:
    (۱) جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں۔
    (۲)جس کے سینگ ٹوٹ گئے ہوں، مگر ٹوٹنے کا اثر جڑ تک نہ پہنچا ہو۔
    (۳)اتنا بوڑھا جو جفتی پر قادر نہ ہو۔
    (۴)ایسی گائے وغیرہ جو بڑھاپے کے سبب بچے جننے سے عاجز ہو۔
    (۵)حاملہ یا بچے والی اونٹنی، گائے یا بکری۔
    (۶) جس کے تھنوں میں بغیر کسی بیماری کے دودھ نہ اُترتا ہو۔ (۷)جسے کھانسی ہو۔
    (۸) جسے داغا گیا ہو۔
    (۹) وہ بھیڑ بکری جس کی دم پیدائشی طور پر بہت چھوٹی ہو۔
    (۱۰) ایسا کانا جس کا کانا پن پوری طرح واضح نہ ہو۔
    (۱۱) لنگڑا جو چلنے پر قادر ہو، یعنی چوتھا پائوں بھی زمین پر رکھتا ہو اور چلنے میں اس سے مدد لیتا ہو۔
    (۱۲) بیمار جس کی بیماری زیادہ ظاہر نہ ہو۔
    (۱۳) جس کے کان، چکتی، دم یا بینائی کا نصف سے کم حصہ جاتا رہا ہو۔(سابقہ تفصیل پیش نظر رہے)
    (۱۴) جس کے کچھ دانت نہ ہوں، مگر وہ چارہ کھاسکتا ہو۔
    (۱۵) مجنون جس کا جنون اس حد تک نہ پہنچا ہو کہ چارہ نہ کھاسکے۔
    (۱۶) خارشی جو فربہ یعنی موٹا تازہ ہو۔
    (۱۷) جس کا کان چیردیا گیا ہویا کاٹ دیا گیا ہو، مگر نصف سے کم، اگر دونوں کانوں کا کچھ حصہ کاٹ دیا گیا ہو اور دونوں کے کٹے ہوئے اجزاء کا مجموعہ نصف کے برابر ہوتو احتیاطاً اس کی قربانی نہ کی جائے، اگر کسی نے کردی تو ہوجائے گی۔
    (۱۸) بھینگا۔
    (۱۹) بھیڑ یا دنبہ جس کی اون کاٹ دی گئی ہو۔
    (۲۰) بکری جس کی زبان کٹ گئی ہو، بشرطیکہ چارہ بآسانی کھاسکتی ہو۔
    (۲۱) جلالہ اونٹ، جسے چالیس دن باندھ کر چارہ کھلایا جائے۔
    (۲۲) دبلا جانور جو بہت لاغر اور کمزور نہ ہو۔
    مذکورہ بالا جانوروں کی قربانی جائز ہے، مگر مکروہِ تنزیہی ہے۔ مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور تمام عیوب سے پاک ہو۔
    ذبح کے لیے گراتے ہوئے عیب پیدا ہوگیا:
    جانور کو ذبح کے لیے لایا گیا اور گراتے ہوئے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی، یا اور کوئی عیب پیدا ہوگیا، مثلاً: گائے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور اسی اثناء میں اس کی آنکھ پھوٹ گئی، پھر اسے پکڑ کر ذبح کردیا گیا تو قربانی درست ہوگئی۔ ذبح کرتے ہوئے چھری ہاتھ سے چھوٹ کر آنکھ وغیرہ ضائع کردے تو بھی یہی حکم ہے۔
    جانور خریدنے کے بعد عیب دار ہوگیا:
    اگر کسی نے قربانی کے لیے جانور خریدا، پھر ذبح کے لیے لانے سے پہلے ایسا عیب پیدا ہوگیا جس کے ہوتے ہوئے اس کی قربانی جائز نہیں تو مالدار پر ضروری ہے کہ وہ دوسرے بے عیب جانور کی قربانی کرے۔ فقیر پر تبدیل کرنا ضروری نہیں۔ وہ اسی معیوب جانور کی قربانی کرسکتا ہے، مگر بسہولت ہوسکے تو وہ دوسرے جانور کی قربانی کرے۔
    البتہ اگر فقیر نے زبان سے نذر مان کر قربانی اپنے اوپر واجب کی تھی تو اس پر بھی دوسرے بے عیب جانور کی قربانی واجب ہے۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (09-23-2015)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University