نتائج کی نمائش 1 تا: 6 از: 6

موضوع: قربانی کے مسائل

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    قربانی کے مسائل

    قربانی مندرجہ ذیل جانوروں کی ہو سکتی ہے:
    اونٹ، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، دنبہ۔ ان جانوروں میں سے ہر ایک کی قربانی درست ہے، خواہ نر ہو یا مادہ یا خصی۔ ان کے سوا کسی دوسرے جانور کی قربانی درست نہیں، جیسے نیل گائے، ہرن وغیرہ۔ جانروں کی عمروں کی تفصیل:
    قربانی کے اونٹ کی عمر کم از کم پانچ سال، گائے، بھینس کی دو سال اور بھیڑ، بکری، دنبہ کی ایک سال ہونا ضروری ہے۔
    البتہ بھیڑ یا دنبہ چھ ماہ کے ہوں، مگر اس قدر فربہ( صحت مند اور موٹے) ہوں کہ دیکھنے میں پورے سال کے معلوم ہوتے ہوں، جس کی علامت یہ ہے کہ انہیں سال کی بھیڑوں، دنبوں میں چھوڑ دیا جائے تو دیکھنے والا ان میں فرق نہ کر سکے تو سال سے کم عمر ہونے کے باوجود ان کی قربانی جائز ہے، اگر چھ ماہ سے عمر کم ہو تو کسی صورت میں قربانی درست نہیں، خواہ بظاہر کتنے ہی بڑے لگتے ہوں۔ قربانی کے جانور کے دو دانت ہو نا مذکورہ بالا عمریں ہونے کی محض ایک علامت ہے، قربانی کے لیے لازمی شرط نہیں۔ اس لیے اگر جانو رگھر کا پالتو ہو اور عمر پوری ہونے کا یقین ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔
    اگر دو دانت نہ ہوں اور فروخت کرنے والا عمر پوری بتاتا ہو اور ظاہر حال اس کی تکذیب نہ کرتا ہو، اپنے تجربہ سے عمر پوری معلوم ہو رہی ہو یا فروخت کرنے والے کی بات پر دل مطمئن ہو تو اس کی بات پر اعتماد کر لینا اور اس جانور کی قربانی کرنا جائز ہے۔
    قربانی کی کم از کم مقدار:
    قربانی کی کم از کم مقدار ایک چھوٹا جانور(بھیڑ، بکری) یا بڑے جانور( اونٹ، گائے، بھینس) کا ساتواں حصہ ہے، لہٰذا بڑے جانور میں کسی شریک کا حصہ اگر پورے جانور کے گوشت یا اس کی قیمت کے ساتویں حصہ سے بھی کم ہے تو کسی شریک کی بھی قربانی درست نہیں۔ البتہ اگر شرکاء سات سے کم ہوں اور بعض کا حصہ ساتویں حصہ سے زائد ہو تو کوئی مضایقہ نہیں۔
    جن عیب دار جانوروں کی قربانی جائز نہیں:
    (۱) جس کا ایک یا دونوں سینگ جڑ سے اکھڑ گئے ہوں۔
    (۲) جس بھیڑ، بکری کی پیدائشی طور پر دم نہ ہو۔
    (۳) اندھا جانور۔
    (۴) ایسا کانا جانور جس کا کانا پن واضح نظر آتا ہو۔
    (۵)اس قدر لنگڑا جو چل کر قربان گاہ تک نہ پہنچ سکتا ہو، یعنی چلنے میں لنگڑا پائوں زمین پر نہ ٹیکتا ہو۔
    (۶)ایسا بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو۔
    (۷)جس کے پیدائشی طور پر دونوں یا ایک کان نہ ہو۔
    (۸)جس کی چکتی، دم، کان یا ایک آنکھ کی بینائی کا نصف یا اس سے زیادہ حصہ جاتا رہا ہو۔ ان اعضاء کا کتنا حصہ جاتا رہا ہو تو قربانی جائز نہیں؟ اس کے بارے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالیٰ سے چار روایات ہیں:
    ۱۔چوتھائی
    ۲۔ تہائی
    ۳۔ تہائی سے زیادہ
    ۴۔نصف
    بعض اکابر نے تہائی والی اور بعض نے تہائی سے زائد والی روایت کے مطابق فتوٰی دیا ہے مگر علامہ شامی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے اسی چوتھی نصف والی روایت کو ترجیح دی ہے اور صاحبین رحمہما اﷲ تعالیٰ کا قول بھی اسی کے مطابق ہے اور امام اعظم کے اسی کی طرف رجوع کا قول بھی کیا گیا ہے۔
    (۹) جس کے دانت بالکل نہ ہوں یا اکثر گر جانے یا گھس جانے کی وجہ سے چارہ نہ کھاسکتا ہو۔
    (۱۰)جسے مرض جنون اس حد تک لاحق ہوگیا ہو کہ چارہ بھی نہ کھاسکے۔
    (۱۱)ایسا خارشی جانور جو بہت دبلا اور کمزور ہو۔
    (۱۲)جس کی ناک کاٹ دی گئی ہو۔
    (۱۳)جس کے تھن کاٹ دیئے گئے ہوں۔
    (۱۴)جس کے تھن اتنے خشک ہوگئے ہوں کہ ان میں دودھ نہ اُترے۔
    (۱۵)جس گائے کے دو تھن کاٹ دیئے گئے ہوں۔
    (۱۶)جس بھیڑ، بکری کے ایک تھن کی گھنڈی (سر) جاتی رہی ہو۔
    (۱۷)جس اونٹنی یا گائے کے دو تھنوں کی گھنڈیاں جاتی رہی ہوں۔
    (۱۸)جس گائے کی پوری یا تہائی سے زیادہ زبان کاٹ دی گئی ہو۔
    (۱۹)جلالہ یعنی جس جانور کی غذا صرف نجاست اور گندگی ہو۔
    (۲۰)ایسا لاغر اور دبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔
    (۲۱)جس کا ایک پائوں کٹ گیا ہو۔
    (۲۲)خنثیٰ جانور جس میں نر و مادہ دونوں کی علامات ہوں۔
    جن جانوروں کی قربانی جائز، مگر خلاف ِاولیٰ ہے:
    (۱) جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں۔
    (۲)جس کے سینگ ٹوٹ گئے ہوں، مگر ٹوٹنے کا اثر جڑ تک نہ پہنچا ہو۔
    (۳)اتنا بوڑھا جو جفتی پر قادر نہ ہو۔
    (۴)ایسی گائے وغیرہ جو بڑھاپے کے سبب بچے جننے سے عاجز ہو۔
    (۵)حاملہ یا بچے والی اونٹنی، گائے یا بکری۔
    (۶) جس کے تھنوں میں بغیر کسی بیماری کے دودھ نہ اُترتا ہو۔ (۷)جسے کھانسی ہو۔
    (۸) جسے داغا گیا ہو۔
    (۹) وہ بھیڑ بکری جس کی دم پیدائشی طور پر بہت چھوٹی ہو۔
    (۱۰) ایسا کانا جس کا کانا پن پوری طرح واضح نہ ہو۔
    (۱۱) لنگڑا جو چلنے پر قادر ہو، یعنی چوتھا پائوں بھی زمین پر رکھتا ہو اور چلنے میں اس سے مدد لیتا ہو۔
    (۱۲) بیمار جس کی بیماری زیادہ ظاہر نہ ہو۔
    (۱۳) جس کے کان، چکتی، دم یا بینائی کا نصف سے کم حصہ جاتا رہا ہو۔(سابقہ تفصیل پیش نظر رہے)
    (۱۴) جس کے کچھ دانت نہ ہوں، مگر وہ چارہ کھاسکتا ہو۔
    (۱۵) مجنون جس کا جنون اس حد تک نہ پہنچا ہو کہ چارہ نہ کھاسکے۔
    (۱۶) خارشی جو فربہ یعنی موٹا تازہ ہو۔
    (۱۷) جس کا کان چیردیا گیا ہویا کاٹ دیا گیا ہو، مگر نصف سے کم، اگر دونوں کانوں کا کچھ حصہ کاٹ دیا گیا ہو اور دونوں کے کٹے ہوئے اجزاء کا مجموعہ نصف کے برابر ہوتو احتیاطاً اس کی قربانی نہ کی جائے، اگر کسی نے کردی تو ہوجائے گی۔
    (۱۸) بھینگا۔
    (۱۹) بھیڑ یا دنبہ جس کی اون کاٹ دی گئی ہو۔
    (۲۰) بکری جس کی زبان کٹ گئی ہو، بشرطیکہ چارہ بآسانی کھاسکتی ہو۔
    (۲۱) جلالہ اونٹ، جسے چالیس دن باندھ کر چارہ کھلایا جائے۔
    (۲۲) دبلا جانور جو بہت لاغر اور کمزور نہ ہو۔
    مذکورہ بالا جانوروں کی قربانی جائز ہے، مگر مکروہِ تنزیہی ہے۔ مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور تمام عیوب سے پاک ہو۔
    ذبح کے لیے گراتے ہوئے عیب پیدا ہوگیا:
    جانور کو ذبح کے لیے لایا گیا اور گراتے ہوئے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی، یا اور کوئی عیب پیدا ہوگیا، مثلاً: گائے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور اسی اثناء میں اس کی آنکھ پھوٹ گئی، پھر اسے پکڑ کر ذبح کردیا گیا تو قربانی درست ہوگئی۔ ذبح کرتے ہوئے چھری ہاتھ سے چھوٹ کر آنکھ وغیرہ ضائع کردے تو بھی یہی حکم ہے۔
    جانور خریدنے کے بعد عیب دار ہوگیا:
    اگر کسی نے قربانی کے لیے جانور خریدا، پھر ذبح کے لیے لانے سے پہلے ایسا عیب پیدا ہوگیا جس کے ہوتے ہوئے اس کی قربانی جائز نہیں تو مالدار پر ضروری ہے کہ وہ دوسرے بے عیب جانور کی قربانی کرے۔ فقیر پر تبدیل کرنا ضروری نہیں۔ وہ اسی معیوب جانور کی قربانی کرسکتا ہے، مگر بسہولت ہوسکے تو وہ دوسرے جانور کی قربانی کرے۔
    البتہ اگر فقیر نے زبان سے نذر مان کر قربانی اپنے اوپر واجب کی تھی تو اس پر بھی دوسرے بے عیب جانور کی قربانی واجب ہے۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (09-23-2015)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: قربانی کے مسائل

    قربانی کا وقت

    شہر اور دیہات میں فرق

    شہر والوں کے لیے قربانی کا وقت ۱۰ ذی الحجہ کو نمازِ عید کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور دیہات والوں کے لیے صبح صادق سے شروع ہوجاتا ہے۔ اختتام میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے لیے ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک وقت رہتا ہے۔ چنانچہ دیہات والے صبح صادق کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے بھی قربانی کرسکتے ہیں اور شہر والے نماز عید کے بعد قربانی کرسکتے ہیں، اگر شہر میں کسی بھی جگہ عید کی نماز نہیں ہوئی تھی کہ کسی شہری نے قربانی کردی تو قربانی نہیں ہوئی۔
    مستحب وقت
    دیہات والوں کے لیے مستحب وقت یہ ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد قربانی کریں اور شہر والوں کے لیے مستحب وقت یہ ہے کہ خطبۂ عید کے بعد قربانی کریں۔ پہلا دن قربانی کے لیے سب سے افضل ہے، پھر دوسرے دن کا درجہ ہے، پھر تیسرے دن کا۔
    پہلے دن نماز نہ پڑھی جاسکی
    اگر شہر میں کسی وجہ سے نماز عید نہ پڑھی جاسکے تو قربانی اتنی مؤخر کی جائے کہ نماز کا وقت گذر جائے یعنی زوال آفتاب تک انتظار کیا جائے۔
    اگر نماز عید کسی عذر سے گیارہویں یا بارہویں کو پڑھی جائے تو قربانی نماز عید سے پہلے بھی کی جاسکتی ہے۔
    کسی ایک جگہ نماز عید کا ہوجانا اضحیہ کے لیے کافی ہے
    اگر شہر میں متعدد جگہ نماز عید ہوتی ہے تو قربانی کی صحت کے لیے ایک جگہ نماز ہوجانا کافی ہے۔ ہر قربانی کرنے والے کا نماز عید پڑھ کر قربانی کرنا ضروری نہیں۔ شہر میں سب سے پہلی نماز کے بعد کسی نے خود نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کردی تو جائز ہے۔
    وقت میں فرق کس لحاظ سے؟
    شہر اور دیہات کے درمیان جو وقت ِقربانی کا فرق بیان کیا گیا، یہ فرق قربانی کے لحاظ سے ہے نہ کہ قربانی کرنے والے کے اعتبار سے۔ لہٰذا اگر شہری نے اپنا جانور دیہات میں بھیج دیا تو نمازِ عید سے پہلے بھی اسے ذبح کیا جاسکتا ہے اور اگر دیہاتی نے اپنا جانور شہر میں بھیج دیا تو اسے نمازِ عید سے پہلے ذبح کرنا جائز نہیں۔
    رات میں قربانی کرنا
    دسویں اور تیرہویں رات کو قربانی کرنا جائز نہیں۔ گیارہویں اور بارہویں رات کو جائز ہے، مگر رات میں رگیں نہ کٹنے، یا ہاتھ کٹنے، یا اضحیہ کے آرام میں خلل کے اندیشہ سے ذبح کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: قربانی کے مسائل

    قربانی کی فضیلت:
    عن عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا أن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال: ما عمل آدمی من عمل یوم النحر أحب الی اﷲ من اہراق دم، انہ یأتی یوم القیمٰۃ بقرونہا وأشعارہا وأظفارہا، وإن الدم لیقع من اﷲ عزوجل بمکان قبل أن یقع من الأرض، فطیبوا بہا نفسا۔(ترمذی: ۱/۱۸۰، ابن ماجہ)
    ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کے دن بندوں کے تمام اعمال میں پسندیدہ ترین عمل جانور کا خون بہانا ہے اور بندہ قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہوگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرف قبول حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تمہیں چاہیے کہ خوش دلی سے قربانی کرو۔
    قربانی نہ کرنے پر وعید:
    عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: من وجد سعۃ فلم یضح فلا یقربن مصلانا۔ (ابن ماجہ:۲۲۶، مسند احمد)
    ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص استطاعت رکھنے (صاحب نصاب ہونے) کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عیدگاہ کےقریب بھی نہ پھٹکے۔‘‘
    قربانی اور روشن خیالوں کے تاریک خیالات:
    سوال: ہمارے علاقہ کے ایک جدید تعلیم یافتہ استاذ نے نیا فتنہ شروع کررکھا ہے کہ جانور کی قربانی صرف حاجی حج کے موقع پر مکہ معظمہ میں کرسکتا ہے، اس کے علاوہ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، ہر سال مسلمان عیدالاضحیٰ کے موقع پر فریضۂ حج کی ادائیگی کے بغیر جو دنیا کے مختلف حصوں میں قربانی کرتے ہیں اس کا کوئی جواز نہیں، بلکہ یہ بدعت ہے۔ اس کے اس پروپیگنڈہ نے کئی ضعیف الاعتقاد لوگوں کو گمراہ کررکھا ہے۔ نیز بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان ایامِ عید میں لاکھوں جانوروں کا خون بہا کر اربوں روپے کا نقصان کرتے ہیں، اس کے بجائے اگر یہی روپے نادار افراد پر صرف کئے جائیں، مساجد وغیرہ کی تعمیر پر یا رفاہ عامہ کے کاموں میں لگا دیئے جائیں تو پوری امت کا کتنا نفع ہو؟ ان حالات میں ہم نے آپ کی طرف رجوع کرنا مناسب سمجھا، آپ مفصل فتویٰ صادر فرمائیں کہ:
    (۱) قربانی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
    (۲) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حج کے علاوہ بھی کبھی قربانی کی ہے؟
    (۳) صحابۂ کرام، تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کا قربانی کے سلسلے میں کیا معمول رہا ہے؟
    (۴) کیا صدقہ و خیرات قربانی کے قائم مقام ہوسکتا ہے؟
    (ابو احسان کوثر نیازی، رحیم یار خان۔ عبدالقادر، کوٹلی پائیں، مانسہرہ۔ دیگرمتعدد سائلین) جواب: اس دور کے فتنوں میں سے ایک بہت بڑا فتنہ یہ ہے کہ مغرب سے مرعوب بلکہ ذہنی غلامی کا شکار ایک طبقہ دین اسلام کے یقینی طور پر ثابت شدہ احکام و شعائر کو مسلمانوں کی مادی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھ کر ان میں قطع و بیونت اور ردوبدل کے در پے رہتا ہے اور جہاں اس سے بھی کام بنتا نہیں دیکھتا تو سرے سے انکار کر بیٹھتا ہے، یوں امت مسلمہ کے درد اور خیرخواہی کے پردوں میں الحاد کا بہت بڑا دروازہ کھل جاتا ہے اور جاہل عوام احکام اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہوکر گمراہ ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
    ایسے حالات میں عوام پر لازم ہے کہ وہ دینی مسائل میں جدید تعلیم یافتہ مغرب زدہ طبقہ… جو دین کی مبادیات سے بھی جاہل ہے… کی بے سروپا باتوں پر کان دھرنے کے بجائے مستند علماء سے مضبوط تعلق قائم کریں اور احکام اسلام کے بارے میں ان سے رہنمائی حاصل کریں کہ یہ انہی کا منصب ہے۔
    ایک مسلمان کا مطمح نظر بہرکیف احکام الٰہیہ کی بجا آوری ہے، خواہ کسی حکم کی علت اس کی عقل کی ڈبیا میں آئے یا نہ آئے۔ بس اتنا کافی ہے کہ وہ حکم اور عمل قابل قبول دلیل سے ثابت ہو۔
    قربانی ایک مستقل واجب عبادت بلکہ شعائر اسلام میں سے ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی فرمائی، حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم، تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین و اسلاف رحمہم اﷲ تعالیٰ غرض پوری امت کا متوارث و مسلسل عمل بھی قربانی کرنے کا ہے، آج تک کسی نے نہ اسے حج اور مکہ معظمہ کے ساتھ خاص سمجھا ہے اور نہ صدقہ و خیرات کو اس کے قائم مقام سمجھا ہے۔ قربانی کے بارے میں جتنی آیات و احادیث ہیں وہ سب جانوروں کا خون بہانے سے متعلق ہیں، نہ کہ صدقہ و خیرات سے متعلق۔ نیز ان میں حج اور مکہ معظمہ کی کوئی تخصیص نہیں، بطورِ نمونہ چند آیات و احادیث
    ملاحظہ ہوں:
    (۱)وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً لِّیَذْکُرُوْا اسْمَ اﷲِ عَلیٰ مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ۔(سورۂ حج: آیت ۳۴) ترجمہ: ہم نے (جتنے اہل شرائع گزرے ہیں ان میں سے) ہر امت کے لیے قربانی کرنا اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپائوں پر اﷲ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے ہیں۔
    امام ابن کثیر و امام رازی رحمہما اﷲتعالیٰ وغیرہ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں تصریح فرمائی ہے کہ خون بہا کر جانوروں کی قربانی کا دستور شروع دن سے ہی تمام اَدیان و مذاہب میں چلا آ رہا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر:۳/۲۲۷، تفسیر کبیر۳/ ۳۴)
    (۲)وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً ھُمْ نَاسِکُوْہُ۔ (سورۂ حج: آیت۶۷) ترجمہ: ہم نے ہر امت کے لیے ذبح کرنے کا طریقہ مقرر کیا ہے کہ وہ اس طریقہ پر ذبح کیا کرتے تھے۔ (۳)فَصَلِّ لِرَّبِکَ وَاْنَحْر۔(سورۂ کوثر۔ آیت:۲)
    ترجمہ: سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور (اسی کے نام کی) قربانی کیجئے۔ (۴)عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: من وجد سعۃً فلم یضح فلا یقربن مصّلانا۔ (ابن ماجہ: ص۲۲۶)
    ترجمہ: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔
    (۵)عن ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما قال: أقام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بالمدینۃ عشر سنین یضحی۔ (ترمذی:۱/۱۸۲)
    ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور اس عرصۂ قیام میں آپ مسلسل قربانی فرماتے رہے۔
    ان آیات و احادیث سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے:
    (۱) صاحبِ نصاب پر قربانی واجب ہے اور استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سخت ناراضی کا اظہار فرمایا، حتیٰ کہ اس کا عیدگاہ کے قریب آنا بھی پسند نہ فرمایا۔ (۲) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے ۱۰ سال میں ہر سال قربانی فرمائی، حالانکہ حج آپ نے صرف آخری سال فرمایا۔ معلوم ہوا کہ قربانی نہ حج کے ساتھ خاص ہے اور نہ مکہ معظمہ کے ساتھ، ورنہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ۹ سال قربانی کیوں فرماتے؟
    (۳) قربانی سے مقصد محض ناداروں کی مدد نہیں جو صدقہ و خیرات سے پورا ہوجائے، بلکہ قربانی میں مقصود جانور کا خون بہانا ہے، یہ عبادت اسی خاص طریقہ سے ادا ہوگی، محض صدقہ و خیرات کرنے سے نہ یہ عبادت ادا ہوگی، نہ اس کے مطلوبہ فوائد وثمرات حاصل ہوں گے، ورنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے دور میں غربت و افلاس دورِ حاضر کی نسبت زیادہ تھا، اگر جانور ذبح کرنا مستقل عبادت نہ ہوتی تو وہ حضرات جانور ذبح کرنے کے بجائے ناداروں کے لیے چندہ جمع کرتے یا اتنی رقم رفاہ عامہ کے کاموں میں صرف فرماتے۔
    قربانی کے بجائے صدقہ و خیرات کا مشورہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی نادان یہ مشورہ دے کہ آج سے نماز، روزہ کے بجائے اتنا صدقہ کردیا جائے، ظاہر ہے کہ اس سے نماز، روزہ کی عبادت ادا نہ ہوگی، اسی طرح صدقہ و خیرات سے قربانی کی مستقل عبادت بھی ادا نہ ہوگی۔
    درحقیقت قربانی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس عظیم الشان عمل کی یادگار ہے جس میں انہوں نے اپنے لختِ جگر کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیا تھااور ہونہار فرزند حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بلاچوں وچرا حکمِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرکے ذبح ہونے کے لیے اپنی گردن پیش کردی تھی، مگر اﷲ تعالیٰ نے اپنا فضل فرما کر دنبے کو فدیہ بنادیا تھا۔ اس پر ذبح کرکے ہی عمل ہوسکتا ہے، محض صدقہ و خیرات سے اس عمل کی یاد تازہ نہیں ہوسکتی۔
    نیز حافظ ابن کثیر و امام رازی رحمہما اﷲتعالیٰ نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما، حضرت عطائ، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت حسن بصری، حضرت قتادہ، حضرت محمد بن کعب قرظی، حضرت ضحاک رحمہم اﷲتعالیٰ و غیرہم کا قول نقل کیا ہے کہ مشرکین عرب غیراﷲ کے نام پر جانور ذبح کیا کرتے تھے، اس لیے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنے رب کے نام پر جانور ذبح کریں۔ (تفسیر ابن کثیر: ص۷۲۴، ج۴) اس بناپر جانور ذبح کرکے ہی اس حکم الٰہی کو پورا کیا جاسکتا ہے، صدقہ و خیرات اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔ اﷲ تعالیٰ ملحدین کی تحریف سے دین کی حفاظت فرمائیں اور مسلمانوں کو مستند علماء کرام سے دین حق کی رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ واﷲ العاصم من جمیع الفتن وھوالموفق لما یحب و یرضیٰ۔ قربانی سے کیا سبق حاصل کیا جائے؟
    (۱) قربانی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جس عظیم الشان عمل کی یادگار ہے، اس کا دل و دماغ میں استحضار کیا جائے اور اس حقیقت کو سوچا جائے کہ یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا جوئی کے لیے تھا۔ اور یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ اگر بیٹے ہی کو ذبح کرنے کا حکم باقی رہتا تو ہم بخوشی اس کی تعمیل کرتے۔ ہر والد کا جذبہ یہ ہو کہ میں ضرور اپنے لخت ِجگر کو قربان کرتا اور ہر بیٹے کا جذبہ یہ ہو کہ میں قربان ہونے کے لیے بدل و جان راضی ہوتا اور یہ عزم ہونا چاہیے کہ اگر یہ حکم آج نازل ہوجائے تو ہم اس میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کریں گے۔
    (۲) قربانی کی اصل روح اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی تمام نفسانی خواہشات کو قربان کردے۔ جانور ذبح کرکے قربانی دینے کے حکم میں یہی حکمت پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں تمام خواہشات نفسانیہ کو ایک ایک کرکے ذبح کرو۔ اگر کوئی شخص جانور کی قربانی تو بڑے شوق سے کرتا ہے مگر خواہش نفس اور گناہوں کو نہیں چھوڑتا، نہ اس کی فکر ہے تو اگرچہ واجب تو اس کے ذمّہ سے ساقط ہوگیا، مگر قربانی کی حقیقت و روح سے محروم رہا، اس لیے قربانی کی ظاہری صورت کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت کو حاصل کرنے کا عزم، کوشش اور دُعابھی جاری رہنا چاہیے۔
    (۳) حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صرف ایک جانور کی قربانی نہیں کی، بلکہ پوری زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارا، جو حکم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا فوراً تعمیل کی۔ جان، مال، ماں باپ، وطن و مکان، لخت جگر غرض سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان فرمایا۔ ہمیں بھی اپنے اندر یہی جذبہ پیدا کرنا چاہیے کہ دین کا جو تقاضا بھی سامنے آئے اور اللہ تعالیٰ کا جو حکم بھی سامنے آئے اس پر عمل کریں گے۔ اپنے اعزہ و احباب، بیوی بچوں، ماں باپ، خاندان، قوم کسی چیز کو بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں ترجیح نہیں دیں گے۔
    سارا جہاں ناراض ہو پروا نہ چاہیے
    مدنظر تو مرضیٔ جاناناں چاہیے
    بس اس نظر سے دیکھ کر تو کر یہ فیصلہ
    کیا کیا کرنا چاہیے کیا کیا نہ چاہیے
    (۴) اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرما کر دنبے کو حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فدیہ بنادیا اور اس کی بناپر اب بیٹے کی قربانی کا حکم نہیں ہے، مگر جہاد فی سبیل اللہ میں اپنی جان اور اولاد کو قربان کرنے کا حکم تو ہمیشہ کیلیے ہے۔ جہاد تو قیامت تک جاری رہے گا، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار جہاد کا حکم فرمایا ہے اور آج یہ حکم پوری تاکید کے ساتھ امت مسلمہ کی طرف متوجہ ہے۔ کیا کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہے اور دنیا بھر کی مظلوم مائوں، بہنوں کی سسکیوں پر کان دھرنے اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان کی بازی لگانے کی تڑپ دل میں پیدا کرے؟؟؟
    مذکورہ شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں:
    مذکورہ شرائط کا قربانی کے پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں، بلکہ وقت وجوب کے آخری جزومیں بھی اگر یہ شرطیں پائی گئیں تو اس پر قربانی واجب ہے۔ یعنی اگر ۱۲ ذی الحجہ کی شام میں غروب آفتاب سے ذرا پہلے کوئی کافر مسلمان ہوگیا، یا مسافر وطن پہنچ گیا، یا غلام آزاد ہوگیا، یا بچہ بالغ ہوگیا، مجنون کو صحت ہوگئی، یا فقیر صاحب نصاب بن گیا تو ان پر قربانی واجب ہوگئی، اس میں مردوزن کا حکم یکساں ہے۔
    آخر وقت میں کوئی شرط فوت ہوگئی:
    اگر ابتداء ایام اضحیہ میں کسی پر قربانی واجب تھی، مگر آخر میں کوئی شرط فوت ہوگئی تو قربانی واجب نہیں رہی، مثلاً: مالدار تنگ دست ہوگیا، یا مقیم مسافر بن گیا تو ان پر قربانی واجب نہیں رہی۔
    فقیر قربانی کے بعد مالدار ہوگیا:
    اگر کسی فقیر نے قربانی کردی، پھر آخر وقت میں مالدار ہوگیا، یعنی بقدر نصاب مال اسے حاصل ہوگیا تو راجح قول کے مطابق اس پر نئے سرے سے قربانی کرنا واجب نہیں۔
    حاجی مسافر ہو تو قربانی واجب نہیں:
    اگر کسی شخص کا قیام مکہ مکرمہ میں منیٰ کے 4، 5 دنوں کو ملاکر 15 دن یا اس سے زیادہ ہو تو وہ مقیم ہے۔
    اگر وہ صاحب نصاب ہے تو اس پر قربانی واجب ہے، جسے وہ وہاں بھی ادا کرسکتا ہے اور اپنے وطن میں کسی کو وکیل بناکر بھی ادا کرسکتا ہے اور اگر مکہ مکرمہ میں قیام 15 دن سے کم ہو، پھر مدینہ منورہ جانا ہو یا وطن واپس لوٹنا ہو تو وہ مسافر ہے، اس پر قربانی واجب نہیں۔
    ملحوظہ: اب چونکہ منیٰ مکہ مکرمہ کا حصہ ہوگیا، اس لیے منیٰ میں قیام کے دن شامل کرکے مقیم یا مسافر ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مندرجہ بالا مسئلہ اسی تبدیل شدہ صورتِ حال پر مبنی ہے۔ واـضح رہے کہ حج تمتع و قران کرنے والے پر بطور شکر الگ قربانی واجب ہوتی ہے، جس کا وہیں کرنا ضروری ہوتا ہے۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  5. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: قربانی کے مسائل

    کھال اپنے استعمال میں لانا جائز ہے:
    قربانی کی کھال کا قربانی کرنے والے‘ اس کے اہل و عیال اور گھر کے دوسرے افراد کیلیے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔ جائے نماز، دستر خوان، مشکیزہ، ڈول، موزہ، جوتا وغیرہ کوئی بھی چیز بنا کر استعمال کی جا سکتی ہے۔
    اپنے استعمال کیلیے بنائی گئی کسی چیز کو کرائے پر دینا جائز نہیں:
    کھال سے مذکورہ بالا اشیاء میں سے کوئی چیز بنا لی تو اسے کرایہ پر دینا جائز نہیں، اگر کسی نے غلطی سے کرایہ پر دیا تو جو کرایہ ملے اسے صدقہ کرنا واجب ہے۔
    کھال یا اس سے بنی ہوئی شیء کا ہبہ جائز ہے:
    قربانی کی کھال یا اس سے بنائی گئی کوئی بھی چیز کسی کو بغیر عوض کے ہبہ میں دے دینا جائز ہے، جس کو دی جائے خواہ وہ سید اور مالدار ہو، یا اپنے ماں، باپ اور اہل و عیال ہوں، کوئی رشتہ دار یا اجنبی ہو، ہر ایک کو دینا جائز ہے۔
    کھال معاوضہ میں دینا جائز نہیں:
    قربانی کی کھال، اون، آنتیں، گوشت، چربی یعنی جانور کا کوئی جزو کسی خدمت اور مزدوری کے معاوضہ میں دینا جائز نہیں۔ بعض علاقوں میں کھال قصاب کو مزدوری کے طور پر دے دی جاتی ہے۔ قربانی کی کوئی چیز قصاب کو اجرت میں دینا جائز نہیں۔ اس کی اجرت الگ دینا چاہیے۔ امام اور مؤذن کو بھی تنخواہ اور اجرت کے طور پر دینا جائز نہیں۔ بطور ہدیہ کسی کو بھی دے سکتے ہیں۔
    کھال فروخت کرنا:
    قربانی کی کھال یا اس سے بنائی ہوئی چیز کو فروخت کرنے میں تفصیلِ ذیل ہے:
    (۱) اگر روپے کے عوض فروخت کی تو حاصل ہونے والی رقم کا فقراء پر صدقہ کرنا واجب ہے۔
    (۲) کسی ایسی چیز کے عوض فروخت کی جو باقی رہتے ہوئے استعمال میں نہیں آسکتی یعنی اسے خرچ کئے بغیر اس سے نفع نہیں اٹھایا جا سکتا، مثلاً کھانے پینے کی کوئی چیز، تیل، پیٹرول، رنگ و روغن، صابن وغیرہ، تو ان اشیاء کا بھی صدقہ کرنا واجب ہے۔ خود استعمال کرنا جائز نہیں۔ قربانی کی کھال ان اشیاء یا روپے کے عوض صدقہ کرنے کی نیت سے فروخت کی تو کوئی حرج نہیںاور اپنے استعمال میں لانے کیلیے فروخت کی تو مکروہ ہے۔ جس پر استغفار لازم ہے اور ان اشیاء کا صدقہ کرنا دونوں صورتوں میں واجب ہے۔
    (۳) اگر قربانی کی کھال یا اس سے بنائی ہوئی کوئی چیز کسی ایسی چیز کے بدلے میں فروخت کی جو باقی رہتے ہوئے استعمال میں آتی ہے، یعنی اسے خرچ کئے بغیر فائدہ اٹھایاجا سکتا ہے، مثلاً کپڑے، برتن، کتاب، قلم وغیرہ تو ان اشیاء کا فقراء پر صدقہ کرنا واجب نہیں، خود استعمال کرنا، ہبہ کرنا، خیرات کرنا سب جائز ہے۔
    (۴) کھال کسی باقی رہنے والی چیز کے عوض فروخت کی، پھر اس چیز کو کھانے پینے یا استعمال سے خرچ ہونے والی کسی چیز کے بدلے فروخت کر دیا تو حاصل ہونے والی چیز کا صدقہ کرنا واجب ہے۔
    کھال کی رقم یا اس سے حاصل شدہ چیز کا مصرف:
    جن صورتوں میں کھال سے حاصل کی ہوئی رقم یا چیز کا صدقہ واجب ہے، وہ صدقہ صرف انہی فقراء و مساکین کو دیا جا سکتا ہے جنہیں زکوٰۃ دینا درست ہو، جن لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں، انہیں یہ صدقہ دینا بھی جائز نہیں۔ جس پر زکوٰۃ یا قربانی واجب ہو، وہ اس صدقہ کا مستحق نہیں۔
    باپ مالدار ہو تو بچوں کو صدقہ دینا:
    اگر باپ مالدار ہو تو اس کے نابالغ بچّوں کو یہ صدقہ دینا جائز نہیں۔ اور بالغ بچے اگر مالدار نہ ہوں تو انہیں یہ صدقہ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی مالدار شخص کی بیوی مالدار نہ ہو تو اسے بھی دیا جا سکتا ہے۔اگر نابالغ بچّوں کی ماں تو مالدار ہے، باپ مالدار نہیں تو ان بچوں کو بھی یہ صدقہ دیا جا سکتا ہے۔
    سیّد کو صدقہ دینا:
    سیّد اور بنو ہاشم کو (یعنی جو لوگ حضرت علی، حضرت عباس، حضرت جعفر، حضرت عقیل، حضرت حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی اولاد ہوں) یہ صدقہ دینا جائز نہیں۔ اگر یہ حاجت مند ہوں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ ویسے ان کی مدد کریں اور اس کو اپنی سعادت سمجھیں۔
    والدین یا اولاد کو صدقہ دینا:
    اپنے ماں باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، پردادا، پردادی وغیرہ کو یہ صدقہ دینا جائز نہیں، اس سے واجب ادا نہیں ہوگا۔ والدین کی خدمت ویسے ہی اولاد کے ذمہ فرض ہے۔ اسی طرح اپنی اولاد، پوتے، پوتی، نواسے، نواسی وغیرہ کو یہ صدقہ دینا جائز نہیں۔اسی طرح شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کو یہ صدقہ دینا جائز نہیں۔
    مذکورہ بالا کے سوا سب رشتہ داروں کو یہ صدقہ دینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ مستحق زکوٰۃ ہوں، بلکہ ان کو دینے میں دوگنا ثواب ہے، ایک صدقہ کا، دوسرا صلہ رحمی کا۔
    کسی خدمت کے معاوضہ میں صدقہ دینا:
    کسی کی مزدوری یا حق خدمت کے طور پر یہ صدقہ دینا جائز نہیں۔ لہٰذا قصاب کی مزدوری یا امام و مؤذن کی خدمت کے معاوضہ کے طور پر ان کو یہ صدقہ دینے سے واجب ادا نہیں ہوگا۔
    کھال اور اس کی رقم بطور تملیک دینا ضروری ہے:
    زکوٰۃ اور دوسرے صدقات واجبہ کی طرح اس صدقہ کے ادا ہونے کیلیے بھی یہ شرط ہے کہ کسی مسکین کو مالکانہ طور پر دے دیا جائے، جس میں اس کو ہر طرح کا اختیار ہو۔ چنانچہ اسے مسجد، مدرسہ، شفاخانہ، کنویں، پل یا کسی اور رفاہی ادارے کی تعمیر میں خرچ کرنا جائز نہیں۔ اگرچہ وہ ادارہ مساکین ہی کی خدمت کیلیے وقف ہو، کیونکہ اس صورت میں کسی مسکین کو مالک بنانا اور اس کے قبضہ میں دینا نہیں پایا گیا۔ اسی طرح کسی لاوارث کے کفن دفن، یا کسی میت کا قرض ادا کرنے میں خرچ کرنا جائز نہیں۔
    کسی ایسے مدرسہ یا انجمن وغیرہ کو دینا بھی جائز نہیں جہاں غریبوں کو مالکانہ طور پر وہ صدقہ نہ دیا جاتا ہو، بلکہ ملازمین کی تنخواہوں یا تعمیر اور فرنیچر وغیرہ انتظامی امور پر خرچ کر دیا جاتا ہو، البتہ اگر کسی ادارے میں مسکین طلبہ یا دوسرے مساکین کو مفت کھانا وغیرہ دیا جاتا ہو یا کوئی رفاہی ادارہ کھال یا اس کی رقم سے دوسرے مساکین کی کفالت کرتا ہو تو وہاں یہ صدقہ یا کھال دینا جائز ہے۔
    مسکین صدقہ وصول کرنے کے بعد جہاں چاہے خرچ کر سکتا ہے:
    اگر کھال یا اس کی رقم کسی مسکین کی ملک میں دے دی اور صراحت کر دی کہ تم اس کے پوری طرح مالک ہو، ہمیں اس میں کوئی اختیار نہیں، پھر وہ اپنی خوشی سے اس کی رقم، مسجد، مدرسہ یا کسی بھی رفاہی ادارہ کی تعمیر یا اس کے ملازمین کی تنخواہوں وغیرہ میں اپنی طرف سے لگا دے تو یہ جائز ہے۔
    حیلۂ تملیک:
    بعض اداروں میں حیلۂ تملیک کا یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ زکوٰۃ یا کھال کی رقم یا دوسرے صدقات واجبہ کی رقم کچھ مساکین کو دے کر پھر ان سے واپس لے لی جاتی ہے۔ جس کو دی جاتی ہے اسے یقین ہوتاہے کہ مجھے اس مال کا کوئی اختیار نہیں، اگر اپنے پاس رکھ لوں گا تو ادارے کے بڑے اور دوسرے لوگ ملامت کریں گے، اس خوف اور شرم کے مارے بے چارہ یہ رقم واپس چندہ میں دے دیتا ہے۔ ممکن ہے بعض افراد دین کی ترویج واشاعت کی نیت سے بطیب خاطر بھی واپس دیتے ہوں، مگر سب کے بارے میں یہ یقین کرنا مشکل ہے۔ اس لیے اس کے بجائے بوقت ضرورت شدیدہ یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ کسی مسکین سے کہا جائے کہ وہ کسی غنی سے اپنے لیے قرض لے کر ادارہ کو دیدے، ادارہ اسے تعمیر وغیرہ ہر مصرف پر خرچ کرسکتا ہے، اور ادارہ میں مد زکوٰۃ و صدقات واجبہ کی جو رقم ہو وہ اس مسکین کو قرض ادا کرنے کے لیے دیدی جائے، وہ اس سے اپنا قرض ادا کرے۔
    کھال بھی شرکاء میں مشترک ہے:
    جس بڑے جانور کی قربانی کئی شرکاء مل کر کر رہے ہوں، اس کے گوشت کی طرح کھال بھی سب شرکاء میں مشترک ہوگی، لہٰذا کسی شریک کیلیے یہ جائز نہیں کہ دوسروں کے حصے کی کھال بلااجازت خود رکھے یا کسی کو دے۔ اگر بقیہ شرکاء اپنا اپنا حصہ اس کو ہبہ کر دیں یا یہ ان سے خرید لے تو اب ہر طرح تصرف کر سکتا ہے۔ البتہ اگر یہ کھال فروخت کر دی اور معاوضہ میں رقم یا ایسی چیز حاصل کی جو رقم کے حکم میں ہے یعنی خرچ کئے بغیر استعمال نہیں ہو سکتی، تو اپنے حصے کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے، بقیہ حصوں کی رقم خود رکھ سکتا ہے۔
    قربانی کی جھول، رسی وغیرہ:
    قربانی کے جانور کی جھول، رسی اور ہار وغیرہ کو بھی کسی خدمت کے معاوضہ میں دینا جائز نہیں۔ ان چیزوں کو صدقہ کر دینا مستحب ہے، اپنے استعمال میں بھی لا سکتے ہیں۔
    کھال کی حفاظت ضروری ہے:
    بعض لوگ جانور کی کھال اس طرح اتارتے ہیں کہ اس میں چھری لگ کر سوراخ ہو جاتے ہیں، یا کھال پر گوشت لگا رہ جاتا ہے، جس سے کھال کو نقصان پہنچتا ہے، اسی طرح بعض لوگ کھال اتارنے کے بعد اس کی حفاظت نہیں کرتے، سڑ کر بے کار یا بہت کم قیمت رہ جاتی ہے۔ یہ سب امور ’’تبذیر‘‘ یعنی فضول خرچی میں داخل ہیں، خواہ مخواہ ثواب ضائع اور گناہ لازم۔ اس لیے کھال احتیاط سے اتار کر ضائع ہونے سے بچانا شرعاً ضروری ہے۔
    کھال خریدنے کے بعد ہر تصرف جائز ہے:
    جس نے قربانی کی کھال خریدی، وہ اس کا مالک ہو گیا، اس میں ہر قسم کا تصرف کر سکتا ہے، خواہ اپنے پاس رکھے، یا فروخت کر کے قیمت اپنے خرچ میں لائے۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  6. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: قربانی کے مسائل

    گوشت کی تقسیم کیسے کریں
    اگر بڑے جانور میں کئی شرکاء ہیں اور آپس میں گوشت تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ پوری احتیاط سے وزن کرکے تقسیم کریں۔ اندازہ سے تقسیم کرلینا جائز نہیں، اگرچہ باہم کمی بیشی معاف کردیں۔ یہ حق شرع ہے جو کسی کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا۔ وزن نہ کرنے میں کمی بیشی لازمی بات ہے جس میں سود کا گناہ ہوگا۔
    وزن کی مشقت سے بچنے کی آسان تدبیر:
    اگر وزن کی مشقت سے بچنا چاہیں تو اس کی آسان تدبیر یہ ہے کہ سری پائے یا کلیجی کے ٹکڑے کرکے ہر حصہ میں ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا جائے۔ اس طرح اندازہ سے تقسیم کرنا بھی جائز ہوجائے گا۔ گوشت تقسیم کرنا کس صورت میں ضروری نہیں؟
    (۱) وزن کرکے برابر تقسیم کرنا اس صورت میں ضروری ہے کہ شرکاء آپس میں تقسیم کرنا چاہیں، اگر سارا گوشت لوگوں میں تقسیم کرنا چاہیں
    یا پکاکر ان کو کھلانا چاہیں تو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر شرکاء میں سے کسی نے زبان سے نذرمان کر قربانی اپنے اوپر واجب کی تھی تو اس کا حصہ الگ کرکے فقراء پر صدقہ کرنا واجب ہے۔
    (۲) اگر کسی نے پورا جانور اپنے گھر کے افراد کے لیے رکھ لیا تو تقسیم کرنا ضروری نہیں، مثلاً: گائے خریدی اور اس کا ایک حصہ اپنے لیے، ایک حصہ بیوی کے لیے اور باقی حصص بالغ اولاد کے لیے رکھ لیے، پھر ذبح کرنے کے بعد پورا گوشت تقسیم کئے بغیر گھر میں رکھ لیا اور سب ایک ہی گھر میں رہتے اور کھانا مشترک کھاتے ہیں تو جائز ہے۔
    قربانی کے گوشت کے تین حصے مستحب ہیں:
    افضل یہ ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصے کر کے ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لیے رکھے، ایک حصہ اقارب و احباب میں تقسیم کرے، ایک حصہ فقراء میں تقسیم کرے۔ جس شخص کے اہل و عیال زیادہ ہوں وہ تمام گوشت خود بھی رکھ سکتا ہے، یہ استحباب کے خلاف نہیں۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  7. #6
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: قربانی کے مسائل

    قربانی کا جانور موٹاتازہ ہو:
    مستحب یہ کہ قربانی کا جانور خوب فربہ، خوبصورت اور بڑی جسامت کا ہو۔ چھوٹے جانوروں میں سب سے بہتر سینگوں والا سفید یا چتکبرا خصی مینڈھا ہے۔
    تیزدھار آلہ:
    مستحب یہ ہے کہ جانور کو تیز دھار آلہ سے ذبح کرے، کند چھری سے ذبح نہ کرے۔
    کھال جسم ٹھنڈا ہونے کے بعد اُتارے:
    مستحب یہ ہے کہ ذبح کرنے کے بعد اتنی دیر ٹھہر جائے کہ جانور کے تمام اعضاء سے جان نکل جائے، جسم ساکن اور ٹھنڈا ہو جائے، ٹھنڈا ہونے سے پہلے کھال اتارنا یا گوشت کاٹنا مکروہ ہے۔
    خود ذبح کرنا افضل ہے:
    اگر اچھے طریقے سے ذبح کرنا جانتا ہو تو افضل یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے ذبح کرے۔ اگر خود تجربہ نہ رکھتا ہو تو بہتر یہ ہے کہ دوسرے سے ذبح کروائے مگر خود بھی موجود رہے۔ جانور کو قبلہ رخ لٹانے کے بعد یہ دعاء پڑھنا بہتر ہے:
    اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَO قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَo

    ان مسائل کو درج ذیل فورم سے لیا گیا ہے
    http://www.zarbemomin.com.pk/index.p...rbani-k-masail
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University