نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری کا تعارف

  1. #1
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Feb 2016
    مقام
    لاہور
    پيغامات
    7
    شکریہ
    0
    5 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری کا تعارف

    نام: مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری
    ولدیت: مولانا ابوالوفاء ثناءاللہ امرتسری صاحب کے والد صاحب کا نام خضر تھا۔
    ولادت:انکی ولادت جون 1868ء بمطابق 1277ہجری میں ہوئی۔
    تعلیم تربیت:مولانا کے والد کی وفات تب ہوئی جب ابھی وہ صرف سات سال کے تھے۔انکے بھائی نے انکو رفوگری پر لگا دیا انکی عمر جب چودہ سال ہوئی تو والدہ بھی وفات پا گئیں ۔اسی سال مولانا کو پڑھنے کا شوق ہوا۔اور مولانا احمداللہ رئیس کے مدرسہ تائید الاسلام میں داخل ہو گئے اور درس نظامی کی ابتدائی کتابیں پڑہیں۔اسکے بعد مولانا نے وزیرآباد میں حافظ عبدالمنان محدث وزیرآبادی سے تفسیر حدیث فقہ اور دوسرے علوم حاصل کیے۔وزیر آباد سے تکمیل کے بعد سید نزیر حسین دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوے اور استادکی سند دکھا کر تدریس کی اجازت حاصل کی دہلی سید نزیر حسین دہلوی سے اجازہ لے کر سہارن پور مدرسہ مظاہر العلوم میں پہنچے اور کچھ عرصہ یہیں قیام اور پھر دیوبند تشریف لے گئے۔دیوبند میں مولانا محمودالحسن سے علوم عقلیہ ونقلیہ اور فقہ وحدیث کی تعلیم حاصل کی۔دیوبند سے فراغت کے بعد مولانا ثناءاللہ کان پور مدرسہ فیض عام چلے گئے اور وہاں احمدحسن کان پوری علم معقول ومنقول کے علاوہ حدیث میں بھی استفادہ کیا۔
    درس وتدریس:کان پور سے فراغت کے بعدمولانا اپنے وطن امرتسر واپس آئے اور مدرسہ تائید الاسلام میں جہاں سے تعلیم کا آغاز کیا تھا درس وتدریس مامو ر ہوئے۔
    کلمات ثناء:شیخ الاسلام مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری جیسی جامع کمالات ہستی صدیوں میں کہیں پیدا ہوتی ہے۔مولانا ثناء اللہ پوری ملت اسلامیہ کامشترکہ سرمایہ تھے۔وہ بیک وقت مخالفین اسلام کے چوطرفہ حملوں کا جواب دیتے تھے اور فضائے ہندوپاک پر عظمت اسلام اور وقار دین محمدی کاپھریرا لہراتے تھے ۔
    سید سلیمان ندوی نے مولانا کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے (اسلام اور پیغمبر اسلام خلاف جس نے بھی زبان کھو لی اور قلم اٹھایا اس کے حملے کو روکنے کے لئے ان کا قلم شمشیر بے نیام ہوتا تھا اور اسی مجاہدانہ خدمت میں انہوں عمر بسر کی۔
    مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری بیک وقت مفسر ،محدث اور مقرر تھے معلم بھی تھے ادیب بھی تھے دانشو ر ،خطیب،نقاد،صحافی، مبصر ،متکلم تھے اور فن مناظرہ کے تو امام تھے۔ سیاسیات ہند میں انکی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔اللہ تعالی نے آپ کو ہمہ جہت خوبیوں سے نوازاتھا توکل ،زہدو ورع،حلم وصبر،تقویٰ واتقاء،دیانت وامانت،عدالت وثقاہت،متانت و سنجیدگی،حق گوئی و بےباکی اور حاضر جوابی میں اپنی مثال نہیں رکھتے تھے آپ نے دینی قومی ملی اور سیاسی خدمات انجام دیں۔
    مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری اسلام کی سربلندی اور پیغمبر اسلام کے دفاع میں سرگرم رہے اور ساری زندگی دین کی خالص اشاعت کتاب و سنت کی ترویج،شرک وبدعت تردید وتوبیخ اور ادیان باطلہ کا رد کر نے میں گزاری۔اللہ نے پنجاب کی سرزمین سے ایک ایسا عظیم مرد مجاہدہمیں عطاء کیا جس نے ایک جھوٹے نبی کی سرکوبی کی۔
    تصنیفات و تالیفات: مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری رد عسائیت میں اسلام اور مسیحیت لکھی (اس کتاب کی اہل علم وقلم بہت تعریف کی ہے ۔اور مولانا کو خراج تحسین پیش کیا ہے)
    تردید آریہ میں ایک کتاب ( تغلیب الاسلام) کےنام سے لکھی ۔ایک اور کتاب (تبرءاسلام) کے نام سے لکھی۔رد قادنیت میں بھی کتابیں لکھیں۔ مولانا حبیب الرحمان نے ایک مجلس میں مولانا مرحوم کے بارہ میں فرمایا....ہم لوگ 30 سال میں بھی اتنی معلومات قادیانی فتنہ کے بارہ حاصل نہیں کر سکتے جتنی معلومات اور واقفیت مولانا ثناءاللہ کو ہے۔ مولانا نے تفسیر نویسی میں بھی کام کیا ہے اور اہل تقلید پر علمی تنقید کی ہے اور انکے باطل نظریات کا قلع قمع کیا ہے ۔تفسیر پر (تفسیر ثنائی ) کے نام سے تفسیر لکھی ہے ۔
    ایک اور تفسیر اردومیں ( تفسیر بالرائے)لکھی اس تفسیر میں مولانا نے تفاسیر و تراجم قرآن قادیانی ،چکڑالوی،بریلوی اور شیعہ وغیرہ کی اغلاط کی نشاندہی کی ہے اور ساتھ ساتھ اصلاح بھی کی ہے۔ مولانا کی تصانیف ،رسائل و جرائد کی تعداد کم و بیش 174ہے۔
    وفات: مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری 15مارچ 1948ءسرگودھا میں فوت ہوئے۔
    حوالہ: (تذکرہ النبلاء فی تراجم العلماء از عبدالرشید عراقی )

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے لبید غزنوی کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (02-26-2016)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری کا تعارف

    جب بھی کسی نے شان رسالت کی توہین کی تو اللہ تعالیٰ نے سرکوبی اور فتنہ کاقلع قمع کے لیے اہل حق میں سے کچھ لوگ پیداکیے جن میں سے مولانا ابو الوفاءثناء اللہ امرتسری ﷫ؒ بھی ہیں جب برطانوی سامراج نے برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت کاسورج ہمیشہ کے لیے غروب کر دیاتو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسے علماء نے باطل عقائد کے خلاف تحریر وتقریر کے ذریعے جہاد کیا ۔شہیدین نے باطل کی سرکوبی کے لیے تحریک مجاہدین کوکھڑا کیا اور حق وباطل کے معرکے میں مصروف ہوگئے ۔جب انگریز نے دیکھاکہ :مسلمانوں کو اسطرح کمزور نہیں کیا جاسکتا تو نام نہاد مسلمان مرزاغلام احمد قادیانی حنفی کو تیار کیا جو بظاہر مسلمان تھامگر حقیقت میں مسلمانوں کادشمن بن کر سامنے آیاتاریخ شاہد ہے کہ اسلام اپنوں کے ہاتھ سےہی ہمیشہ مغلوب اور کمزور ہواہے ۔جب مرزا نے کفریہ عقائد ،الحاد اور شرک کالبادہ اوڑھ کر اسلام کو پیش کیا‘ تو مسلمانوں کے عقائد میں خرافات وبدعات نے گھر کر لیااسطرح مسلمان حق بات سے دور ہوتے گئے دوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کو اسلام سے نکالنے کے لیے مذموم کوششیں کیں اور جہاد کو دہشت گردی اور غیر شرعی اصطلاحات میں داخل کردیامگر علماء حق نے کفر کے ہر باطل نظریہ اور طریقہ واردات کو مسخ کرنے کے لیے زندگیاں بسر کرنے کاعزم کرلیا ۔ سرفہرست مولاناثناءاللہ امرتسری ؒ نے قلم قرطاس کوتھاما تو کفر اپنی دم پیٹھ میں لیے میدان سے بھاگنے پر مجبور ہوا‘دنیا کہ ہر پلیٹ فارم پر اسے ذلت کا سامنہ کرنا پڑھا ۔ مولاناموصوف کو 3باطل فرقوں کاسامناتھا۔1۔قادیانی(مرزائ یوں کے رد کے لیے’’الہامات مرزا لکھی ) ۔2۔عیسائیوں کے رد کے لیے (جوابات نصاریٰ ) لکھی کو عیسائیوں کی کتاب ’’عدم ضرورت قرآن ‘‘ جوابات کا مجموعہ ہے اس کے بعد’’ اسلام اور مسیحیت ‘‘جو کہ عیسائیوں کی 3 کتب ’’عالمگیر مذہب اسلام ہے یا مسیحیت؟’’دین فطرت اسلام ہے یا مسیحیت؟’’اصل البیان فی توضیح القرآن‘‘ کے جواب میں لکھی گئی۔ 3۔ آریہ کے رد میں مولانا موصوف نے ’’حق پرکاش‘‘ لکھی جو کہ آریوں کی کتاب (ستیارتھ پرکاش)جس کا چودھواں باب ’’قرآن مجید پر159اعتراضات ‘‘پر مشتمل ہے۔ اس کے جواب میں لکھی ۔ سب سے پہلے مرزا کے کافر ہونے پر مولانامحمد حسین بٹالوی نے فتویٰ ترتیب دیا تواس پر سب سے پہلے مولانا ثناء اللہ امرتسری نے دستخط کیے۔ اسی طرح مرزائیوں کے خلاف سب سے پہلے مناظرے ومباحثے کیے اور کتب تصانیف کیں ۔جبکہ مرزا خود (15 اپریل 1907ء میں اس نے تحریر " مولانا ثناءاللہ﷫ سے آخری فیصلہ " کے عنوان سے لکھی) اعتراف کرتاہے مولانا ثناءاللہ نے مجھے بہت بدنام کیا میں دعا کرتاہوں جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجائے جبکہ مرزا 26مئی 1908ء میں مرا اور مولانا صاحب 40برس بعد تک زندہ رہے جبکہ وہ جھوٹا ثابت ہوا ‘
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University