کچھ عرصہ قبل امریکی صدارتی الیکشن کے امیدوار اور کھرب پتی کاروباری ،ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتخابی جلسے میں یہ کہہ کر سنسنی پھیلا دی تھی کہ وہ تمام غیر امریکیوں کو امریکا سے نکال دینا چاہتا ہے۔ حالانکہ سفید فام نسل کے متعلق یہ دعویٰ ریڈ انڈین کرتے، تو شاید زیادہ حق بجانب ہوتے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے تو صرف دعویٰ کیا تھا، برطانوی حکومت نے غیر ملکیوں کا راستہ روکنے کے لیے عملی اقدام کر ڈالا۔
مارچ 2016ء کے دوسرے ہفتے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت نے نئے امیگریشن قوانین متعارف کرا دئیے۔ ان کی رو سے اب برطانیہ میں صرف وہی غیر یورپی ہنرمند باشندہ مستقل قیام کرسکتا ہے جو سالانہ 35 ہزار پونڈ کمارہا ہو۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً ترپین لاکھ روپے سنتی ہے۔ جو غیر یورپی اس شرط پر پورا نہیں اترتا، اسے سرزمینِ برطانیہ سے رخصت ہونا پڑے گا۔
ان قوانین کا اطلاق گو صرف ایسے غیر یورپیوں پر ہوگا جو پچھلے دس سال میں برطانیہ آئے مگر ان لوگوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ گویا برطانیہ میں مستقل رہائش نہ رکھنے والا کوئی بھی غیر یورپی مثلاً پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی وغیرہ سالانہ 35 ہزار پونڈ نہیں کماتا، اس پر اب برطانیہ سے بے دخلی کی تلوار لٹکنے لگی ہے۔ یہ نئے سخت قوانین لاکھوں نہیں تو ہزارہا ہنستے بستے گھرانوں کو ضرور بے یارومددگار کر ڈالیں گے جو برطانیہ میں اپنی زندگیوں کا آغاز کر چکے۔ قوانین کا اطلاق 6 اپریل سے ہوگا۔
برطانیہ میں دراصل مہاجرین اور پناہ گزینوں کی آمد بڑھ رہی ہے۔ ان غیرملکیوں کی اکثریت کا تعلق مسلم اور ایشیائی ممالک سے ہے۔ لہٰذا انگریز حکمرانوں کو یہ خطرہ دق کرنے لگا کہ مستقبل میں برطانیہ میں غیر ملکیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ انگریز اقلیت میں آجائیں۔ چناں چہ غیر ملکیوں کی آمد روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ لندن میں تو گوروں کی اقلیت جنم لے چکی۔اس وقت لندن میں 44 فیصد مقامی سفید فام افراد بستے ہیں، بقیہ 56 فیصد لوگ نسلی طور پہ بیرون ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
برطانیہ میں دراصل امیگریشن مسئلہ نہایت اہمیت اختیار کرچکا۔ سفید فام چاہتے ہیں کہ اب بیرون ممالک سے مہاجرین، پناہ گزینوں،ہنرمندوں وغیرہ کی آمد روکی جائے۔ برطانیہ میں 23 جون کو ہونے والے ریفرنڈم میں امیگریشن مسئلہ ہی دوسرے بڑے مسئلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ برطانوی گوروں کو شکایت ہے کہ مشرقی یورپ سے خصوصاً لاکھوں یورپی برطانیہ پہنچ کر انہیں ملازمتوں سے محروم کررہے ہیں۔پہلا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ برطانوی سمجھتے ہیں،یورپی یونین ہم پہ اپنے فیصلے مسلط کر کے ہماری آزادی اور خودمختاری خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
برطانیہ میں درج بالا ریفرنڈم اس سوال پر منعقد ہوگا کہ یورپی یونین میں رہا جائے یا نہیں؟ برطانیہ اب بھی یورپی یونین کا سب سے الگ تھلگ اور ناراض رکن ہے۔ اس نے یورو کرنسی کو اختیار نہیں کیا اور برطانیہ یورپی یونین کے بہت سے معاہدوں کا بھی رکن نہیں۔ گو یورپی ممالک کے باشندے بغیر ویزے کے برطانیہ آجاسکتے ہیں۔
برطانوی حکومت کو نئے امیگریشن قوانین لاگو کرنے کی خاطر کھلا میدان نہیں ملا۔ جب برطانوی سماجی رہنماؤں کو علم ہوا کہ حکومت سخت امیگریشن قوانین لارہی ہے، تو انہوں نے اس کے خلاف مہم چلادی۔ ایک پٹیشن پر ’’ایک لاکھ برطانویوں‘‘ کے دستخط لیے گئے۔ اس پٹیشن میں برطانوی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ نئے امیگریشن متعارف نہ کرائے۔
اس مہم میں لندن کے سماجی رہنما، جوش ہاربرڈ بھی شریک تھے۔ ان کا کہنا ہے ’’جب مجھے معلوم ہوا کہ برطانوی حکومت ہزارہا لوگوں کو نکالنے اور لاکھوں انسانوںکا راستہ روکنے کے لیے قانون سازی کررہی ہے، تو مجھ سے خاموش نہ بیٹھا گیا۔میں نے طے کیا کہ اس غیر انسانی فیصلے کے خلاف پُر زور احتجاج کرنا چاہیے۔ میں قطعاً ایسے ملک میں نہیں رہنا چاہتا جہاں انسانوں کو ان کی خدمات نہیں پیسے کے مطابق تولا جاتا ہے۔‘‘
نئے امیگریشن قوانین کے مخالفین نے یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ 35 ہزار پونڈ کا عدد بہت زیادہ ہے۔ صرف اعلیٰ ہنر مند ہی سال میں 35 ہزار پونڈ کماپاتے ہیں۔ مگر کیمرون حکومت نے سبھی اعتراضات مسترد کردیئے اور امیگریشن قوانین کو جامع درست قرار دیا۔
واضح رہے کہ برطانیہ کی کمپنیاں غیر یورپی ممالک سے ہنرمندوں کو بلانے کی مجاز ہیں۔ خاص طور پر جب کسی پیشے میں ہنرمندوں کی کمی ہوجائے، تو برطانوی حکومت بیرون ممالک سے ہنرمند بلوانے کے لیے امیگریشن قوانین نرم کردیتی ہے۔ برطانوی کمپنی پھر ہنرمند کو ’’سرٹیفکیٹ آف سپانسرشپ‘‘ (Certificate of Sponsorship)فراہم کرتی ہے جس کی بنیاد پر اسے ویزہ ملتا ہے۔ یہ ویزہ ’’ٹائیر2‘‘ (Tier 2 ) کہلاتا ہے۔
جب کسی غیر یورپی ہنرمند مثلاً پاکستانی انجینئر کو ٹائیر 2 ویزہ مل جائے، تو وہ پانچ چھ سال تک برطانیہ میں قیام کرسکتا ہے۔ نیز وہ اپنے اہل خانہ کو بھی بلانے کا مجاز ہے۔ تاہم اس پر پابندی ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیشے سے متعلق ہی ملازمت کرے۔ کسی دوسرے پیشے کی ملازمت کرنے سے قبل اسے ویزے کے لیے نئی درخواست دینا پڑے گی۔
ماضی میں یہ رواج تھا کہ جب پانچ سال مکمل ہوجاتے، تو ہنرمند برطانیہ میں مستقل قیام کے لیے درخواست دے سکتا تھا۔ یہ عمل اصطلاح میں ’’مستقل رہائش‘‘ (Permanent Residency) یا ’’ان ڈیفینٹ لیو ٹو ریمین‘‘ (Indefinite leave to remain) کہلاتا ہے۔ ہنرمند اب بھی یہ عمل اختیار کرسکتا ہے مگر اس پر ایک کڑی شرط عائد ہوچکی۔وہ یہ کہ اب ہنر مند یا ٹائیر2 کے حامل غیر یورپی کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ سال میں پینتیس ہزار پونڈ کماتا ہے۔ اگر وہ ثابت نہ کرسکا، تو اسے برطانیہ چھوڑنا پڑے گا۔ اگر وہ ازخود اپنے وطن روانہ نہیں ہوا، تو اسے زبردستی ملک بدر کردیا جائے گا۔
اس وقت برطانیہ کی آبادی چھ کروڑ پینتیس لاکھ کے قریب ہے۔ ہر سال برطانیہ میں چھ تا سات لاکھ غیر ملکی داخل ہورہے ہیں۔ ان غیر ملکیوں کی اکثریت چین، اسپین، بھارت، آسٹریلیا، پولینڈ و (دیگر یورپی ممالک)، امریکا، پاکستان اور ملائشیا سے تعلق رکھتی ہے۔برطانیہ آنے والوں میں بیشتر ہنرمند یا طالب علم ہوتے ہیں۔ بہت سے طالب علم تعلیم مکمل کرنے کے بعد برطانیہ ہی میں رک جاتے ہیں۔ اعدادو شمار کی رو سے فی الوقت برطانیہ کی افرادی قوت ڈیڑھ کروڑ مردوزن پر مشتمل ہے۔ ان میں سے تقریباً پندرہ لاکھ غیر یورپی ممالک مثلاً چین، بھارت، امریکا، پاکستان وغیرہ سے آئے ہوئے ہیں۔
نئے قوانین کے نقصانات
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ نئے امیگریشن قوانین کے باعث ہزارہا غیر یورپی ہنرمند برطانیہ بدر ہوجائیں گے۔ ایسی صورتحال میں برطانیہ میں تجربے کار ہنرمندوں کا کال پڑسکتا ہے۔ مگر برطانوی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہنرمندوں کی کمی زیادہ شدید نہیں ہوگی۔
نئے قوانین کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ ان کی وجہ سے دکھی انسانوں کی فلاح و بہبود میں مصروف سماجی کارکنوں اور رضا کاروں کو تکلیف اٹھانا پڑے گی۔ یہ کارکن و رضاکار عام طور پہ کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 25 سالہ امریکی دوشیزہ، ایلن فریزر کو ہی لیجیے۔
ایلین شامیوں کے ایک پناہ گزین کیمپ سے وابستہ غیر سرکاری تنظیم میں کام کرتی ہے۔ لٹے پٹے اور تباہ حال شامیوں کی ہر ممکن مدد کرنا ایلین کی ذمے داری ہے۔ وہ معاشیات میں ایم اے کرچکی اور اسے کسی کاروباری کمپنی میں معقول تنخواہ پر ملازمت مل سکتی ہے۔ لیکن وہ دکھی انسانیت کو سہارا دینے کی خاطر معمولی تنخواہ پر کام کررہی ہے۔ یونہی اسے دلی خوشی و سکون ملتا ہے۔ مگر اب نئے امیگریشن قوانین کے باعث اس انسان دوست امریکی لڑکی کو برطانیہ چھوڑنا پڑے گا… کیونکہ وہ مطلوبہ تنخواہ کما نہیں پاتی۔ایلین کہتی ہے:
’’میں نے کم تنخواہ پر اس لیے کام پسند کیا کہ پناہ گزین بچوں کی مدد کرسکوں۔ ان کی تباہ حال زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لے آؤں۔ میں اپنے تجربے اور تعلیم کے ذریعے دنیا میں خیر پھیلانا چاہتی ہوں۔ مگر اب میں اپنے اچھے کاموں کو ویزہ درخواست میں کیونکر بیان کروں؟یہ بات کیسے اجاگر کروں کہ میں ایک پریشان بچے کی زندگی سنوار رہی ہوں ؟‘‘
برطانوی حکمرانوں کے سامنے یہ ایک بڑا سوال ہے جو عموماً امیر طبقے کے مفادات دیکھ کر پالیسیاں بناتے اور انسانی و اخلاقی پہلو نظر انداز کردیتے ہیں۔
کون کتنا کماتا ہے؟
دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح برطانیہ میں بھی امیر اور غریب کے مابین آمدن کا فرق بڑھتا جارہا ہے۔ ایک طرف امرا سالانہ کروڑوں پونڈ کماتے ہیں، تو دوسری طرف غریب صرف اتنی رقم کماپاتا ہے کہ جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھ سکے۔
اعدادو شمار کی رو سے برطانیہ میں حکمرانوں، ملٹی نیشنل اور سرکاری کمپنیوں کے سربراہوں، صنعت کاروں، کاروباریوں وغیرہ کی سالانہ آمدن لاکھوں کروڑوں پونڈ ہے۔ برطانوی وزیراعظم ہر سال بطور تنخواہ و مراعات دو لاکھ پونڈ (تین کروڑ روپے) کماتا ہے ۔جبکہ لولی پاپ ملازم کی تنخواہ صرف سوا تین ہزار پونڈ سالانہ ہے۔ (برطانیہ میں وہ مرد یا عورت لولی پاپ کہلاتا ہے جو بچوں کو سڑک پار کرائے)
برطانیہ کی تعمیر و ترقی میں لاکھوں تارکین وطن نے اہم حصہ لیا۔ آج بھی یہ غیر ملکی بہ حیثیت ڈاکٹر، انجینئر ،وکیل وغیرہ برطانوی شہریوں کی خدمت کررہے ہیں۔ ان غیر ملکیوں کی تنخواہیں تو اچھی ہیں، مگر ہزارہا تارکین وطن چھوٹی موٹی ملازمتیں بھی کرتے ہیں۔ ان کی تنخواہیں سالانہ 35 ہزار پونڈ سے کم ہیں۔ لہٰذا ابھی تک وہ برطانوی شہری نہیںبنے ، تو انہیں اپنی مستحکم و بھری پری زندگی چھوڑ کر وطن واپس لوٹنا اور وہاں نئے سرے سے سب کچھ تعمیر کرنے کا کشٹ اٹھانا پڑے گا۔مثال کے طور پر برطانیہ میں ویٹر آٹھ نو ہزار پونڈ، کلینر (صفائی کرنے والا) 9 ہزار، ہیئر ڈریسر گیارہ ہزار، شاپ ورکر 12 ہزار، کک (باورچی) 13 ہزار، بیوٹیشن 13ہزار، درزی 15 ہزار، سیکرٹری 17 ہزار، ٹیکسی ڈرائیور 17 ہزار، پینٹر 23 ہزار اور بس ڈرائیور 24 ہزار پونڈ کماتا ہے۔
استاد کی تنخواہ بھی 35 ہزار پونڈ کے آس پاس ہوتی ہے جبکہ انجینئر 45 ہزار تک اور ڈاکٹر 80 ہزار پونڈ تک کماتے ہیں۔ گویا برطانوی حکومت کا مقرر کردہ عدد (35 ہزار پونڈ) بہت زیادہ ہے۔ اس کو 15 تا 20 ہزار پونڈ ہونا چاہیے تھا۔ اس کی زد میں آکر ہزارہا ہنرمند برطانیہ سے رخصت ہوئے، تو وہاں ملازمتوں کا بحران جنم لے سکتا ہے۔ یاد رہے، برطانوی گورے عموماً نچلی سطح کی ملازمتیں کرنے سے گھبراتے اور انہیں تارکین وطن کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔
بھارتیوں پر آئی مصیبت
برطانیہ میں ٹائیر2 ویزے پر آئے ہزاروں بھارتی مختلف ملازمتیں کررہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً پچاس ساٹھ ہزار ایسی ملازمتیں کرتے ہیں جن کی تنخواہ سالانہ 35 ہزار پونڈ سے خاصی کم ہے۔ لہٰذا ان بھارتیوں کو برطانیہ کی پر آسائش زندگی چھو ڑکر بھارت واپس آنا پڑے گا۔یہ بھارتی اب مودی سرکار پر زوردے رہے ہیںکہ وہ برطانوی حکومت پر دبائو ڈال کر 35 ہزار کا عدد کم کرائے۔ یاد رہے، نئے قوانین سے قبل 20 ہزار پونڈ سالانہ آمدن کو مستقل رہائش کے لیے کافی و شافی سمجھا جاتا تھا ۔
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس 28 مارچ 2016