نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: تھی جس سے روشنی ، وہ دیا بھی نہیں رہا

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    تھی جس سے روشنی ، وہ دیا بھی نہیں رہا

    تھی جس سے روشنی ، وہ دیا بھی نہیں رہا
    اب دل کو اعتبارِ ہوا بھی نہیں رہا
    تو بجھ گیا تو ہم بھی فروزاں نہ رہ سکے
    تو کھو گیا تو اپنا پتہ بھی نہیں رہا
    کچھ ہم بھی ترے بعد زمانے سے کٹ گئے
    کچھ ربط و ضبط خدا سے بھی نہیں رہا
    گویا ہمارے حق میں ستم در ستم ہوا
    حرفِ دعا بھی ، دستِ دعا بھی نہیں رہا
    کیا شاعری کریں کہ ترے بعد شہر میں
    لطف کلام ، کیفِ نوا بھی نہیں رہا
    شاعر اعتبار ساجد

  2. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: تھی جس سے روشنی ، وہ دیا بھی نہیں رہا

    واہ بہت خوب ۔ شکریہ

متشابہہ موضوعات

  1. ہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھی
    By خان بلوچا in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 03-03-2013, 08:42 PM
  2. میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 08-24-2012, 11:12 PM
  3. اُلجھن تمام عُمر یہ تارِ نفس میں تھی
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-03-2012, 09:49 AM
  4. منزلیں بھی اس کی تھی
    By اذان in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 5
    آخری پيغام: 03-31-2012, 01:07 PM
  5. کربلا میں کربلا ھی تھی
    By آزاد خان in forum شعر و شاعری
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 01-04-2011, 06:06 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University