نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: دنیا کا نیا جغرافیہ

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,134
    شکریہ
    2,100
    1,211 پیغامات میں 1,583 اظہار تشکر

    دنیا کا نیا جغرافیہ



    کیا دنیا میں جغرافیہ ایک مرتبہ پھر سے تبدیل ہونے جارہا ہے ؟ حصہ اول
    بشکریہ ۔۔۔ مسعود انور
    www.masoodanwar.com
    hellomasood@gmail.com
    کیا دنیا میں جغرافیہ ایک مرتبہ پھر سے تبدیل ہونے جارہا ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جو بار بار ذہن پر دستک دے رہا ہے ۔ اس سوال کے اٹھنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ عالمی صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی ہے بلکہ اس کی وجہ ملکی صورتحال میں تبدیلی ہے ۔ نئے آرمی چیف کی تقرری کے ساتھ ہی ایک نیا آپریشن پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ نئے آرمی چیف کی تقرری کے ساتھ بھی یہ روایت برقرار رہی ۔ گزشتہ آرمی چیف کے دور میں جو آپریشن ضرب عضب کے نام سے جاری و ساری تھا ، نئے آرمی چیف کے آتے ہی اس کا نام آپریشن رد الفساد ہوگیا ۔ اس نئے آپریشن کے ساتھ پاکستان میں جو بنیادی تبدیلی آئی ، اس کے بعد سے ہی بار بار ذہن میں یہ سوال دستک دے رہا ہے کہ کیا دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کا بھی جغرافیہ تبدیل ہونے جارہا ہے ؟ بات ذرا وضاحت سے ۔ گئے دنوں کی بات کی ہے کہ جیسے ہی امریکا کا افغان پالیسی میں یو ٹرن آیا اور مجاہدین کا لفظ دہشت گردوں سے بدل گیا ، پاکستان کی پالیسی بھی تبدیل ہوگئی ۔ پہلے پاکستانی حکومت عرب مجاہدین کی میزبان ہوا کرتی تھی یا دیگر الفاظ میں سہولت کار تھی اور انہیں پاک سرزمین پر اترنے کے بعد سے لے کر افغان سرزمین تک جانے کی ہر سہولت مہیا کیا کرتی تھی ۔ پالیسی میں 180 درجے کی تبدیلی کے بعد یہی پاکستانی حکومت ان کے خلاف آپریشن کررہی تھی ۔ یہی نواز شریف تھے جنہوں نے ان عرب مجاہدین کے خلاف پشاور میں آپریشن کیا تھا اور انہیں گرفتار کرکے ملک بدر کرنا شروع کردیا تھا ۔ ان عرب مجاہدین میں سے بیشتر کا تعلق ایسے عرب ممالک سے بھی تھا جہاں پر اس وقت سوویت نواز حکومتیں برسر اقتدار تھیں اور ملک بدری کا واضح مطلب ان مجاہدین کو ان کے اپنے ملک میں موت کی سزا تھا ۔ اس کے باوجود بھی نواز شریف یہ کام کرتے رہے ۔ یہ پاکستان کے اندر آپریشنوں کا نقظہ آغاز تھا جس کا اختتام ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ ان تمام آپریشنوں میں ایک نقطہ قدر مشترک تھا اور وہ یہ کہ یہ سارے کے سارے آپریشن سابقہ صوبہ سرحد میں اور اس سے ملحق قبائلی علاقوں میں ہی ہوتے رہے ۔ ان آپریشنوں میں امریکی حکومت کبھی براہ راست شریک رہی اور کبھی دور سے ڈوریاں ہلاتی رہی ۔ حالانکہ پاک افغان سرحد محض صوبہ خیبر پختون خواہ تک محیط نہیں ہے بلکہ یہ صوبہ بلوچستان تک پھیلی ہوئی ہے ۔ پاک افغان سرحد میں جتنا طورخم اہم ہے اتنا ہی چمن بھی اہم ہے ۔ جلال آباد جانے والے طورخم کو ترجیح دیتے ہیں تو قندھار جانے والے چمن کو ۔ طالبان کا اثر و نفوذ چمن سے ہی زیادہ تھا ۔ تاہم یہ بات حیرت انگیز تھی کہ طالبان کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد سارے کا سارا آپریشن خیبر پختون خواہ سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں تو کیا گیا مگر بلوچستان اس سے مکمل طور پر محفوظ رہا ۔ گزشتہ آپریشن ضرب عضب اپنی نوعیت کا بالکل جداگانہ نوعیت کا تھا ۔ ایسا پوری دنیا میں کہیں پر نہیں ہوا کہ پوری کی پوری آبادی کو ان کے گھروں سے نکال کر باہر کردیا جائے ۔ ان کے بچے تعلیم سے محروم ہوجائیں، ان کے مرد اپنے روزگار سے محروم ہوجائیں ۔ ان کے مال و مویشی کسی دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب بھوک سے ہی مرجائیں ، کھڑی فصلییں سوکھ جائیں اور یہ سارے لوگ خیموں میں کئی برس گزار دیں ۔ دھوپ ، بارش ، برف سب سر سے گزر جائے اور پتہ ہی نہ چلے کہ اپنے گھر کب جائیں گے ۔ ان کی غیر موجودگی میں ان کے گھروں کو کھنڈر بنادیا جائے ، کھیت کھلیانوں کو بارود کا ڈھیر بنادیا جائے اور جب گھروں کو جانے کی مشروط اجازت ملے تو دن بھر قطار میں کھڑے رہیں کہ کب اذن رخصت ملتی ہے ۔ یہ طویل تمہید میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی باندھی ہے کہ قارئین اندازہ لگالیں کہ اس کے کیا نتائج قبائلی علاقوں میں رہنے والوں پر نکلے ہوں گے ۔ کبھی امریکی ڈرون حملے اور کبھی اپنوں کے آپریشن ۔ گزشتہ 17 برسوں سے یہ سب سہتے سہتے ، ان کے ذہن کس قدر زہر آلود ہوگئے ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے ۔ اس تمام صورتحال سے تنگ آکر ان علاقوں میں بسنے والوں نے فیصلہ کیا کہ صوبہ سرحد کو ہی خیر باد کہہ دیا جائے ۔ اس کے بعد جس کو جہاں موقع لگا ، وہاں پر چل نکلا ۔ کچھ پنجاب میں آباد ہوگئے تو کچھ نے سندھ کا رخ کیا ۔ خیبر پختون خواہ کی سرزمین تو ان کے لیے پہلے ہی تنگ ہوچکی تھی اور بلوچستان میں روزگار کے کچھ اتنے زیادہ مواقع نہیں تھے اس لیے لے دے کر پنجاب اور سندھ ہی بچتے تھے ۔ سندھ میں بھی کراچی ان کے لیے شجر ممنوعہ بن چکا تھا ۔ کسی اور کی ڈگڈگی پر ناچتے ہوئے الطاف حسین نے کراچی میں پٹھانوں کا قتل عام شروع کیا جس سے یہ سمٹ کر سندھ کے دیہی علاقوں میں آباد ہونے لگے البتہ پنجاب کی سرزمین ان کے لیے بہتر ثابت ہوئی ۔ اس سے ان کی کچھ اشک شوئی ہوئی اور زندگی دوبارہ سے کسی ڈھب پر آگئی ۔ معاملات یہاں تک بھی ٹھیک تھے کہ آپریشن رد الفساد شروع ہوگیا اور دیگر آپریشنوں کے برعکس اس کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلا دیا گیا ۔ اس آپریشن کے تحت حکومت پنجاب اور حکومت سندھ نے جو کارروائیاں شروع کیں ، اس کے بعد شکوک کے ناگ ذہن میں پھنکارنے لگے ہیں ۔ حکومت پنجاب کی ایماء پر تمام مارکیٹ ایسوسی ایشنوں کو ہدایت کی گئی کہ ان کی مارکیٹ میں جو بھی پشتو بولنے والے دکاندار ہیں ، ان کی فہرست متعلقہ تھانے کو فراہم کی جائے ۔ اس کے بعد تو پولیس والوں کی چاندی ہوگئی ۔ اب ہر بس سے پٹھانوں کو اتار اتار کر گرفتار کیا جانے لگا اور چھوڑنے کے عوض بھاری نذرانے طلب کیے جانے لگے ۔ کچھ ایسی ہی لٹ سندھ کی پولیس نے بھی مچادی اور یہاں پر بھی ہائی وے پر جگہ جگہ ناکے لگنے شروع ہوگئے اور روز گرفتاریاں شروع ہوگئیں اور ان کو چھوڑنے کے عوض پولیس کی موجاں ہوگئیں ۔ چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر ، نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے ۔ سندھ اور پنجاب میں پشتو بولنے والے یہ پاکستانی گرفتار ہوں یا بھاری نذرانے کے عوض چھوڑ دیے جائیں ، ان کا نتیجہ ایک ہی نکلنا ہے اور وہ ہے پنجاب اور سندھ کے خلاف نفرت ۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے خلاف نفرت اور سب سے بڑھ کر آپریشن کرنے والی پاک فوج کے خلاف نفرت ۔ یہ میلہ آخر سجایا کیوں گیا ہے ؟ اس پر گفتگو آئندہ کالم میں ان شاءاللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,134
    شکریہ
    2,100
    1,211 پیغامات میں 1,583 اظہار تشکر

    جواب: دنیا کا نیا جغرافیہ

    کیا دنیا میں جغرافیہ ایک مرتبہ پھر سے تبدیل ہونے جارہا ہے ؟ حصہ دوئم و آخر
    مسعود انور

    hellomasood@gmail.com
    یہ جون 2006 کی بات ہے کہ ایک ریٹائرڈ امریکی فوجی رالف پیٹرز نے امریکی آرمڈ فورسز جرنل میں ایک آرٹیکل لکھا تھا جس میں اس نے پاکستان کا نیا نقشہ پیش کیا تھا ۔ اس نقشے میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کا صوبہ سرحد اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقے پاکستان سے ٹوٹ کر افغانستان کا حصہ بن گئے ہیں اور صوبہ بلوچستان ایک آزاد ملک بن چکا ہے ۔ اس کے بعد پاکستان مختصر ہو کر موجودہ صوبہ سندھ اور پنجاب پر مشتمل علاقے پر رہ گیا ہے ۔ 2006 میں ہی یہ نقشہ میں نے دوستوں کو ای میل کیا تھا اور اس پر دوستوں سے طویل گفتگو اور مباحثے بھی کیے تھے ۔ اس وقت میں حیران تھا کہ صوبہ بلوچستان کس طرح پاکستان سے علیحدہ ہوکر ایک نیا ملک بن سکتا ہے اور صوبہ سرحد کے باسی کس طرح پاکستان سے الگ ہوکر افغانستان سے جڑ سکتے ہیں ۔ بعد میں شور مچنے پر پنٹاگون سمیت سارے امریکی اداروں نے کہا تھا کہ اس نقشے کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے اور یہ صرف ایک شخص کے انفرادی خیالات ہیں ۔اس کے بعد میں نے بلوچستان کے موضوع پر پانچ قسطوں پر مبنی ایک سیریز بھی لکھی تھی اور تفصیل سے تجزیہ کرکے لکھا تھا کہ بلوچستان میں 28 اضلاع ہیں جس میں سے صرف 4 اضلاع میں گڑ بڑ ہے ۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں افغان سرحد سے متصل پوری بیلٹ میں بلوچ نہیں بستے، کوئٹہ جائیں تو کوئی بلوچی بولنے والا مشکل سے ملتا ہے ، اس لیے آزاد بلوچستان دیوانے کی بڑ تو ہوسکتی ہے مگر اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا ۔ ان ہی کالموں میں تفصیل سے اس سازش کے بارے میں لکھا تھا کہ کس طرح روس نے اس کی آبیاری کی تھی اور اس پروجیکٹ کو بعد میں امریکا ، برطانیہ اور بھارت نے خرید لیا ۔ یہ تمام کالم آج بھی میری ویب سائیٹ پر موجود ہیں ۔پٹھان اور خاص طور سے قبائلی علاقوں میں رہنے والے پٹھان ہمیشہ سے ہی پاکستان کے حامی رہے ہیں ۔ یہ قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کی حب الوطنی ہی رہی ہے کہ اتنی طویل مغربی سرحد پر کبھی بھی پاکستانی حکومت کو فوج لگانے کی ضرورت نہیں پڑی اور مشرقی سرحدوں کی حفاظت کے لیے پاکستانی فوج سکون کے ساتھ اپنے کام میں مصروف رہی ۔ کسی بھی خطے کو اس کے ملک سے الگ کرنے کے لیے سب سے اہم ضرورت اس علاقے کی اکثریت کا اس خیال سے متفق ہونا ضروری ہے ۔ بھارت کشمیر میں سات لاکھ فوج رکھتے ہوئے بھی اس لیے ناکام ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ رہنے پر تیار نہیں ہیں ۔ عوام کو قابو کرنے کے لیے بھارتی حکومت وہاں پراسرائیل کی طرز پر بھارت کے دیگر صوبوں سے برہمنوں کو کشمیر میں لا کر بسانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ مشرقی پاکستان کو بھارت اس لیے پاکستان سے علیحدہ کرنے میں کامیاب رہا کہ بنگالی ہندو مشرقی پاکستان کے مسلمانوں کو اپنے رنگ میں رنگنے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ مغربی پاکستان کے باسی خصوصا پنجابی ان کا حق مار رہے ہیں ۔2006 میں جو بات میرے اور میرے احباب کی سمجھ میں نہیں آئی تھی اب وہ سازش سمجھ میں آنے لگی ہے ۔ یہ دھکا دو اور کھینچو کی پالیسی ہے ۔ ایک طرف پوری پشتو آبادی کے دل میں پاکستان سے نفرت بٹھادی گئی ہے ۔ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے اپنے ہی ملک کی آبادی کے ساتھ وہ کام شروع کیا ہے جو ٹرمپ تارکین وطن کے خلاف کارروائی کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ کررہا ہے ۔پٹھان آبادی کے دلوں میں کدورت پیدا ہونے کے بعد اچکزئی اور اسفندیار ولی کے بیانات دیکھ کر معاملات میں گڑ بڑ کا احساس ہونے لگا ہے ۔ اب سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ تنخواہ دار ٹی وی چینلوں پر کلپ چلائے جارہے ہیں کہ صوبہ بدری کے بدلے خیبر پختون خواہ میں لیے جائیں گے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب خیبر پختون خواہ میں تعصب کا پہاڑ کھڑا کردیا جائے گا ۔ پھر چند ایجنٹ غیر پٹھانوں کی ٹارگٹ کلنگ شروع کردیں گے جسے عام پٹھانوں کی ترجمانی کا نام دیا جائے گا اور یوں اس خوفناک سازش کے لیے زمین کی ہمواری شروع کردی جائے گی ۔اس پوری خوفناک صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کے ساتھ یہ خطرناک کھلواڑ کیوں کھیلا جارہا ہے ؟ اس کا آسان ترین جواب یہ ہے کہ نیو ورلڈ آرڈر کے لیے جو مرحلے رکھے گئے ہیں اس میں پہلے دنیا کے سارے ممالک کو ازسر نو ترتیب دینا ہے اور پھر اس کے بعد انہیں دس انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرنا ہے ۔ اسی کھیل کے لیے عرب کو میدان جنگ میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ اسی کے لیے ٹرمپ کو لایا گیا ہے اور امریکا میں ریاستوں نے فیڈریشن سے علیحدگی کا عمل شروع کردیا ہے ۔ اس نیو ورلڈ آرڈر کے لیے عالمی سازش کاروں نے کئی سنگ میل رکھے ہیں ۔ اس کے تحت 2030 میں نیو ورلڈ آرڈر کا رسمی اعلان کرنا ہے اور 2050 تک پوری دنیا کو مکمل طور پر اس کے شکنجے میں کس دینا ہے ۔ذرا دوبارہ سے اقوام متحدہ کا ایجنڈا 2030 دیکھیے جس کا اعلان گزشتہ برس ہی کیا گیا ہے اور ساری دنیا کے حکمرانوں نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے اعلان پر دستخط بھی کیے ہیں ۔ اس پر بھی ایک مفصل آرٹیکل میری ویب سائیٹ پر موجود ہے ۔ اس کے ساتھ ہی دنیا میں بدلتے ہوئے حالات دیکھیے ، مشتبہ اور نہ سمجھ میں آنے والے سندھ اور پنجاب کی انتظامیہ کی چلت پھرت دیکھیے تو بہت ساری چیزیں سمجھ میں آنے لگتی ہیں ۔ یہ سب کچھ نہ تو غلطیاں اور حماقتیں ہیں اور نہ ہی غلط منصوبہ بندی کا نتیجہ ۔ ایک مرتبہ پھر سے تمام حالات کا جائزہ لیجیے ۔ اس پر ہر طرح کے غوغا کے باوجود سندھ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ دم سادھے ہوئے ہیں ۔ اس موضوع پر یا تو گفتگو ہی نہیں کرتے یا پھر اناپ شناپ کرنے لگتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسکرپٹ کے عین مطابق ہے اور یہ تمام اداکار اپنے کردار کو اسکرپٹ کے مطابق کرنے پر مجبور ہیں ۔ تھیٹر میں ہر اداکار کی کارکردگی کو نیو ورلڈ آرڈر کے بیک گراونڈ میں دیکھیں تو کھیل میں مدہوش ہونے کے بجائے بہت کچھ سمجھ میں آنے لگتا ہے ۔ اصل موضوع سے توجہ ہٹانے کے لیے کچھ بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یہ ناموس رسالت پر عدلیہ کی کارروائی اور اس پر شور و غوغا بھی ہوسکتا ہے اور دو پارلیمینٹرین کا گتھم گتھا ہونا بھی ۔اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University