انکل پھینکو اپنے گھر میں اکیلے رہتے تھے۔ایک دفعہ انکل پھینکو کو بہت بھوک لگی تھی اور ان کے گھر میں بھی کچھ نہ تھا جب وہ اپنے گھر کے باغ میں گۓ تو وہاں ایک مالٹے کا درخت تھا وہ درخت کے پاس گئے اور درخت کو زور سے ہلایا ۔درخت تو نہ ہیلا لیکن انکل پھینکو ضرور ہل گئے ۔پھر بھی انکل نے ہر نہ مانی ۔انکل نے اب درخت پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن جب انہوں نے درخت پر چڑھنے کے لیے جونہی درخت کی لکڑی کو پکڑا تو ایک چیونٹی نے انکل کے ہاتھ پر کاٹا۔انکل نے فورا چھلانگ لگائی اور کہا ہائے میرا ہاتھ ہائے میری انگلی ۔ بیچارا میں۔اچانک ان کے پاس سے ان کا پڑوسی گیدڑ صاحب جارہے تھے انکل نے جونہی گیدڑ صاحب کو دیکھا تو اونچی آواز میں کہا بیچاری چیونٹی ۔دیکھا چیونٹی مجھے کاٹنے چلی تھی دیکھ لیا اپنا حشر۔گیدڑ صاحب نے سوچا کہ شاید یہ پاگل ہوگیا ہے چلتے بنو یہاں سے۔جونہی گیدڑ صاحب گۓ انکل نے آپنی انگلی ہلاتے ہوئے بولے ہائے میری انگلی لیکن انکل نے ہر نہ مانی آب کی بار انکل نے ایک پتھر اٹھایا اور درخت پر لگے درخت کی طرف پھینکا لیکن انہوں نے اتنی قوت کے ساتھ پھینکا کہ انکا ہاتھ موڑ گیا انکل نے کہا ہائے پتھر پھل پر لگنے کے بجائے درخت پر لگا اور اچھلتے ہوۓ انکل کے سر پر لگا انکل نیچے گرے اور بے ہوش ہوگئے۔علی مجتبی،میرپور آزاد کشمیر