ڈاکٹر سوئی والا ابھی بیڈ پر سو رہے تھے ۔وہ خواب دیکھ رہے تھے کہ انہوں نے ایک علاج کیا اور کروڑوں روپے کما لیے ۔ابھی وہ یہی خواب دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ان کی مسکراہٹ ایسی تھی جیسی بندر کی ہوتی ہے۔اچانک کال آئی ۔ڈاکٹر صاحب نے اچانک بیڈ سے چھلانگ لگائی۔کہا یہ کیا ہوگیا ہے۔انہوں نے غور کیا تو پتا چلہ کے یہ کال کی آواز تھی۔انہوں نے فون اٹھایا۔اور پوچھا کون ہے۔فون سے آواز آئی میں کاشف ہوں۔میرا گلہ خراب ہے کیا آپ میرا علاج کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے کہا ٹھیک ہے۔میرے کلینک میں اجاؤ۔ڈاکٹر صاحب نے خوشی سے بیڈ پر چھلانگیں لگانا شروع کردیں۔خوش بھی کیوں نہ ہوتے۔ان کا پہلا مریض تھا۔ابھی وہ چھلانگیں لگا ہی رہے تھے کہ اچانک بیڈ ٹوٹا۔وہ نیچے گرے اور بے ہوش ہوگئے۔علی مجتبی،میرپور آزاد کشمیر