نتائج کی نمائش 1 تا: 7 از: 7

موضوع: ظلم اور بربریت کی انتہاء ۔قندوز

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,125
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    ظلم اور بربریت کی انتہاء ۔قندوز



    بے کسوں کا خونِ ناحق رائیگاں نہ جائے گا


    امریکا کی زیر قیادت استعماری قوتوں نےپیہم حملوں کے ذریعہ مسلم ممالک بالخصوص افغانستان پر تسلط جمانے کی بھر پور کوشش کی، ملک گیری کی اسی ہوس نے متعدد علاقوں کو کشت و خون میں نہلا دیا،ہر حملے میں سیکڑوں نہتے شہری شہید اور زخمی ہوتے رہے، بڑے اور چھوٹے دیہات تباہ ہو گئے، باغات و جنگلات کو بھاری بمباری سے آگ لگا دی گئی اور زرخریدمیڈیا نے خود انہیں کو دہشت گرد بتلاکرساری دنیا کے سامنےمجرم کی حیثیت سے پیش کرنے کی ناپاک سازش کی۔
    عالمی سطح پر دہشت گردی،فسادانگیزی اور ستم رانی کی انتہاء کا دوسرا نام ’’امریکہ‘‘ ہے،اسلام کے نام پر بننے والی تنظیموں اور تحریکوں کے خلاف ظلم و بربریت کی انتہا کرنے والا یہ وحشی جانوراور سفاک درندہ وقفے وقفے سے اپنے آپ کو مہذب ترین انسان باور کرانے کی کوشش میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہتاہے اور انسانیت کے تحفظ اور دہشت گردی کے انسداد کا ایجنڈا لے کر دنیا کے طول وعرض میں کانفرنسیں منعقد کرتا اور کرواتا ہے؛ جبکہ اسی اسلام دشمن نے ایک ایک کر کے پہلے عالم اسلام میں داخلی انتشار و اندرونی خلفشار کو جنم دیا پھر منصوبہ بند سازش کے تحت یکے بعد دیگرے اُنہیں مسمار کرنا شروع کیا۔
    چناں چہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کے مطابق صرف افغانستان میں گزشتہ سترہ برسوں کے دوران ڈھائی لاکھ سے زیادہ شہری شہید، جب کہ ہزاروں کو ملک و بیرون ملک قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ستم در ستم یہ کہ خود کو انسانیت نواز کہلانے والے اس درندہ صفت ملک کی آمریت، جارحیت اور دہشت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
    گزشتہ چند سالوں میں شہری ہلاکتوں میں نسبتا کمی کے بعد اب ایک بار پھر جارحیت پسندوں اور کٹھ پتلی حکومت نے ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کے نام پر عوام اور گنجان آبادی والے علاقوں پر بمباریوں، رات کے چھاپوں، میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ابھی تین یوم قبل قندوز میں نیٹو اور افغان فورسز نے بدترین دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ حفاظ قرآن اور علماء امت خیرالانام پر بمباری کر کے سینکڑوں کو شہیداور زخمی کردیا۔ سینئر طالبان کمانڈر کے مطابق تقریب میں 2ہزار افراد شریک تھے جس میں 750صرف طلبہ تھے۔
    آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟
    اس وقت سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ان معصوم لاشوں پر آہ و فغاں اور ماتم و شیون کیا جائے یا اس قتل عام پر اختیار کی گئی مجرمانہ خاموشی پر بلک بلک کر رویا جائے؟؟؟۔
    امریکہ سے کیا گلہ کہ اس کی تو تاریخ کے ورق ورق پر خون مسلم کی ارزانی جلی حروف میں لکھی ہوئی ہے،سوال یہ ہے کہ وہ دانشورقسم کے وہ امن پسند حضرات کہاں ہیں جوآئے دن حقوق انسانی کا دم بھرتے ہیں ؟روشن خیالی کے وہ مدہوش ملنگ کدھر ہیں ؟جو گلا پھاڑ پھاڑ کر فرمایا کرتے ہیں کہ ہمارا تو مذہب ہی انسانیت ہے؟
    شاید ان کے نزدیک انسانیت کا خون تب ہوتا ہے جب کوئی مشرک یا ملحد مارا جاتاہے،کوئی دہریہ یا گستاخ رسول قتل کیاجاتاہے! انسانیت کا درد تب پوری قوت کے ساتھ جوش میں آتا ہے جب مرنے والا یہود و نصاریٰ میں سے ہو۔ ویسے دعویٰ تو مذہب سے بڑھ کر صرف انسانیت کا کیا جاتا ہے، مگر کلمہ گو انسانوں کے مرنے پر یہ انسانیت جاگتی نہیں۔
    یہ انسانیت تب مکمل طور پر سو جاتی ہے جب افغانستان کے نہتے غریب مسلمانوں پر روس اور امریکہ جیسے عفریت ان کے وسائل سمیت نگل جانے کی خاطر زہریلی گیسوں، کیمیائی ہتھیاروں اور نت نے مہلک توپوں کا تجربہ کرتے ہیں۔
    قندوز لہو لہو
    کیا خوب صورت سماں اور حسین ودلکش نظارہ ہوگا جہاں درجنوں حفاظ،پچاسوں علماء دستار باندھے آخری سبق کی تلاوت و تیاری کررہے ہوں گے، کیسےمسرت آمیز لمحات اور خوش کن گھڑیاں ہوں گی کہ اساتذہ اپنی روحانی اولاد کو تیار کرکے فرحت و شادمانی محسوس کر رہے ہوں گے،ان والدین کی خوشی کا کیا ٹھکانہ ہوگا جو اپنے لخت جگر اور نورنظر سے ملنے کے لیے بے تاب ہوں گے۔
    ہائے افسوس کہ وہ تمام خوب صورت کلیاں، وہ ننھے غنچے،وہ معصوم بچے جو کھلنے سے پہلے ہی توڑدیے گئے، پھول بننے سے پہلے ہی مسل دیے گئے،بڑے ہونے سے پہلے ہی تاراج کردیےگئے۔
    تلاوت کلام پاک کی وہ پیاری پیاری آوازیں، نورایمانی سے تاباں وہ روشن و درخشاں چہرے،سفید لباس میں ملبوس وہ فرشتہ صفت بچے،آن کی آن میں خاک و خون میں غلطاں ہوگئے،لاشوں کے ڈھیر لگ گئے،ایک دو معصوم نہیں، درجن دو درجن بچےنہیں، پورے ایک سو ایک طلبہ شہید کردیےگئے، وہ بھی ایسے طلبہ جو قرآن کی گراں قدر امانت اپنے سینوں میں دبائے ہوئے تھے،وہ طلبہ جو دستار فضیلت باندھے بخاری شریف کی آخری روایت پڑھ کر دعوت دین کےلیے پرعزم ہوچکے تھے،وہ طلبہ جو دنیوی و اخروی اس عظیم کامیابی پر جشن منارہے تھے۔
    مگر یہ کیا ہوا کہ ماں کی آنکھوں کے چراغ بجھ گئے، باپ کی امیدوں کے دئیے گل ہو گئے،اساتذہ کےلگائے ہوئے سرسبز وشاداب باغ اجڑ گئے،مستقبل کے روشن ستارے ٹوٹ کر بکھرگئے،افق کے مہر و ماہ ہمیشہ کےلئے غروب ہوگئے۔
    علامہ شبلی نعمانی نے شاید اسی کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھاتھا:
    یہی دس بیس اگر ہیں کشتگان خنجر اندازیتو مجھ کو سستی بازوئے قاتل کی شکایت ہےعجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیںکہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے
    آہ۔۔ ۔ احساس کی مرگِ ناگہاں
    ویسے یہ ’’ شہید ‘‘ کا لفظ بھی کتنا موزوں ہے نا ہر سانحے کی تصویر کشی کے لئے! کسی جہاز کا حادثہ ہو،کہیں اسکول پر حملہ ہو، زلزلہ یا سیلاب ہو،معصوم بچوں کا قتل عام ہو۔ ہم بہت آسانی سے بہ یک جنبش زباں کہہ دیتے ہیں کیا کریں کہ سب شہید ہو گئے، اللہ کی راہ میں قربان ہو گئے! کتنا سہل ہے اس طرح کے چند جملے کہہ دینا،خواہ یہ فقرے ارباب اقتدار ادا کریں یا ہم اور آپ جیسے افرادجن کے پاس سوائےحسرت وافسوس کے اور کچھ نہیں ؛لیکن کاش ہم ان ماؤں کے دکھ کو محسوس کر سکتے، ان باپوں کی تکلیف کا تصور کر سکتے جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو تیار کر کے مدرسہ روانہ کیا، ان کے شاید وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مدرسہ جیسی محفوظ جگہ اور ختم قرآن مجید کا عظیم اجلاس بھی مقتل میں تبدیل ہو جائے گا،وہ تو اولاد کے استقبال میں سراپا انتظاربنے ہوئے تھے،دیدہ و دل کو فرش راہ کیے ہوئے تھے،گھر بارسجائے جارہے تھے؛مگروالدین کو کہاں پتہ کہ ان کےنونہالوں کو تو سیدھےجنت النعیم جاناہے،وہاں کی دائمی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا ہے،وہاں فرشتے ان کا انتظار کررہے ہیں اور معصوم بچے زبان حال سے کہہ رہے ہیں ؎
    تم کو احساس رنگ و بو نہ ہوایوں بھی اکثر بہار آئی ہے
    یہ دہشت گردی کیوں ؟
    اس حوالےسےاستاذ محترم حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمیؔ مدظلہ محدث دارالعلوم دیوبند ارقام فرماتے ہیں :حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی، کا لیبل اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ چسپاں کرنے کا کھیل عالمی سازش کا حصہ ہے۔ جس کی خاکہ سازی اور انھیں برپا کرنے کی عملی تدابیر میں عالمی صہیونیت اور اسلام دشمن عناصر یہودیت کا پورا پورا ہاتھ ہے۔ جن کی چاپلوسی اور حکم برداری میں مسلم ممالک کے بعض اسلام بے زار حکمراں اور دیگر ممالک کی مسلم دشمن تنظیمیں پورے شدومد کے ساتھ اس کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کررہی ہیں اور وہ اسلام کو ”دہشت گرد“ مذہب اور مسلمانوں کو ”دہشت گرد“ قوم ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
    یہاں ہم اس بات کو بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اسلام کو دہشت گردی کا مذہب اور مسلمانوں کو دہشت گرد قوم ثابت کرنے کا اصل مقصد کیا ہے۔ اور اس کے بہانے مسلم نوجوانوں، دینی اداروں، اسلامی تنظیموں، مسلم دانشوروں اورعلماء کرام کی مقدس ہستیوں کو دیدہ ودانستہ طور پر اس کا نشانہ بنانے کا مقصد کیا ہے ….؟
    اسلام جو خدا تعالیٰ کا آخری اور پسندیدہ دین ومذہب ہے، جس کے ہر ہر احکامات انسانی طبیعت کے عین مطابق اور نظام کائنات کی سلامتی و ترقی کیلئے بنیاد اور سرچشمہ ہیں، حیات انسانی پر مشتمل سارے شعبوں میں رہ نمائی اور زندگی کی صحیح ڈگر سے ہٹے ہوئے لوگوں کی دستگیری کرتے ہیں، اس کی تعلیمات بڑی پاکیزہ، صاف و شفاف حقوق انسانی کی محافظ، امن وسلامتی کی ضامن اور مرضیٴ حق کے عین مطابق ہیں۔ نیز اسلام نے بڑی قلیل مدت میں اپنی صداقت و حقانیت پر صدہا ہزار مستحکم دلائل اور اپنی تلوار امن ومحبت اور مساوات وخوش اخلاقی کے ذریعہ پورے عالم کے حق پسند، حق جو اور حق شناس لوگوں کے قلوب میں جو غیرمعمولی اور بے پناہ مقبولیت اورعظمت حاصل کرلی ہے اس پر معاندین اسلام کی حیرانی اور بوکھلاہٹ بے جا نہیں ہے۔ گرچہ وہ اسلام دشمن، خبیث ذہنیت کے حامل، دل سے اس کی صداقت وسچائی اور حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں، مگر ان کی بے جا دشمنی اور عناد نے انھیں حق کو تسلیم وقبول نہ کرنے اور اس کی مخالفت پر کمر کس لینے، نیز اسے دبانے اور مٹانے کیلئے آمادہ کردیا ہے۔ (ماہ نامہ دارالعلوم دیوبند)
    لیکن میں سوال کرنا چاہتاہوں ان نام نہاد انسانیت کے علم برداروں سے کہ کیوں وقفے وقفے سے مسلم ممالک پر شب خون مارا جارہاہے؟ کیوں اسلام دشمن طاقتوں یہود و نصاریٰ کو بار بار یہ ناپاک جسارت کرنے کا حوصلہ مل رہا ہے؟ کیا اس قسم کی گھٹیا حرکات سے دنیا میں برداشت اورامن کو فروغ مل سکتا ہے؟ کیا یہ مزید انتشار اور عدم برداشت کے جذبوں کو ابھارنےکاباعث نہیں ؟ کیا اس سے تہذیبوں کے تصادم کا اندیشہ یقین میں نہیں بدلے گا؟
    جواب چاہیے مجھے جواب ڈھونڈتاہوں میں !



    عبدالرشید طلحہ نعمانی
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,125
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    جواب: ظلم اور بربریت کی انتہاء

    101حفاظ و علماء کی شہادت: آخرتماشہ کیا ہے؟

    سید ابراہیم حسامی قاسمیؔ

    دل اس وقت کانپ گیا ،جب بے قصور معصوم بچے بھی دشمن کے نشانے پر آ گئے ،یہ بات سمجھ سے بالاتر تھی کہ آخر ان معصوموں کا قصور کیا تھا؟ کیا انہوں نے کوئی باغیانہ قدم اٹھایا تھا، کیا ان معصوم کلیوں نے کوئی بم برسایا تھا، کیا ان کے ہاتھوں میں کوئی خنجر وبندوق تھا، ارے یہ تو وہ معصوم ہاتھ تھے ، جو خدا کے قرآن کو اور رسول اللہ ﷺکے مجموعۂ فرمان کو تھامنے والے تھے ، جن کے ہاتھوں میں امن ومحبت کا پیغام تھا، جو پڑھ رہے کہ خدائے کائنات زمین پر فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ، وہ سیکھ رہے تھے کہ زمین پر اکڑ کر چلنا بھی برا ہے ، وہ سمجھ رہے تھے پڑوسیو ں کا ہم پر کتنا بڑا حق ہے ، وہ اپنے حقوق کو معاف کرکے دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی تیاری کر رہے تھے، وہ فتح مکہ کی تاریخ پڑھ کراپنے ہر قصوروار کو وہ معاف کرنے پر آمادہ تھے،وہ انسانیت کا درد، مظلوموں کی آہ بن کر ابھرنے والے تھے ، وہ بے کسوں کے مسیحا اور ستم رسیدوں کے خیرخواہ بننے والے تھے کہ اچانک ان پر امریکی ڈرون حملہ کر دیا جاتا ہے ، ان کے ارمانوں کا خون کردیا جاتا ہے ، ان کے معصوم جسموں پر بمباری کر دی جاتی ہے ، ان کے کمل نما بدن کو چھلنی کردیا جاتا ہے ،آخر پتہ بھی تو چلے کہ ان کا قصور کیا ہے ؟
    ارے ظالمو! تم نے ایسے معصوم گلابوں کو مسل کچل دیا ہے کہ جن کی مہک سے پورا ملک افغانستان معطر ہونے والا تھا، جن کی چہک سے سارے ماحول میں ایک سماں بندھنے والا تھا، جن کے نام پر لوگ رشک کناں تھے،جن کے چہروں کی معصومیت پر ماہتاب بھی بلائیں لے رہا تھا، جن کے علم کی روشنی کے آگے آفتاب بھی متحیر تھا کہ آجچہارسو اتنا اجالا کیوں کر ہے؟ آج سارے ماحول میں اتنی پاکیزگی کیسے چھا گئی ؟تو پتہ چلا تھا کہ آج قندوز کے مدرسہ میں ایک سو ایک طلبہ کی دستار بندی ہونے والی ہے، حفاظ کے سروں پر دستار حفظ اور علماء کے سروں پر دستار فضیلت رکھی جانی والی ہے ، دیکھو !دستار باندھ دی گئی، ہاتھوں میں سند دے دی گئی،سارے پھولوں کو ایک صف میں مہکنے کے لیے بٹھا دیا گیا، ملک کا ملک امنڈکر آرہا ہے،نورانیت اپنے عروج پر تھی کہ اچانک پھولوں کی خوشبو کا انداز بدل جاتا ہے ، اب خوشبو پھولوں سے نہیں ؛ بلکہ خون سے آنے لگتی ہے ، جس قرآن مقدس کی تعظیم لازم تھی اب اسی قرآن کے پرخچے اڑا دئیے جاتے ہیں، قرآن مقدس خون میں لت پت نظر آرہے ہیں،سارا خوشی کا ماحول ماتم میں تبدیل ہوجاتا ہے ، جلسہ گاہ کی پوری زمین خون آلود ہوجاتی ہے ،وہ پیارے حفاظ جو ابھی زندگی کی بہار بھی نہ دیکھ سکے ،جو جوانی کی دہلیزکو بھی نہ چھو سکے، جن کی زندگی نے ابھی کروٹ بھی نہیں بدلی،جن کے لبوں پر مسکراہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں، جس کے ہاتھوں میں کلام الہی کے علاوہ کچھ بھی نہیں، جن کے چہرے کی معصومیت پر سب کو رشک آرہاتھا، جن کے سروں کی دستار ہر ایک کو اپنا گرویدہ بنارہی تھی، ہر انسان کی نگاہ ان پر رشک کر رہی تھی، آج وہ آسمان والوں کے لیے بھی چمک رہے تھے،کہ اچانک ان کے ارمان کا خون ہوجاتاہے اور ان کی زندگی کا سورج غروب کردیاجاتا ہے۔
    آج مائیں انتظار میں تھیں کہ ہمارا بچہ اپنے مقصدکی تکمیل کر کے آرہا ہے، وہ اپنی منزل تک پہونچ چکا ہے ، روزآنہ کے سلام میں اور آج کے سلام میں بے حساب فرق ہوگا، گھر آنے اور بچوں کے سلام کرنے کی مائیں منتظر تھیں، دستار میں لپٹے سرکو دیکھنے کے لیے یہ مائیں کتنی راتیں اپنے سر کو بارگاہ ایزدی میں خم کی ہوئی تھیں، ان کی جبین ناز کو بوسہ دینے کے لیییہ مائیں بارگاہ الہی میں اپنی جبین نیازخم کئی ہوئی تھیں،ماؤں نے آج اپنے بچوں کو نہلایا تھا، نئے اور سفید لباس پہنائے تھے، کئی ماؤں نے مدرسہ میں مقیم اپنے لڑکوں کے لیے نئے سفید لباس بجھوائے تھے، انہیں کیا پتہ تھا کہ ان کے بھیجے جانے اور پہنائے جانے والے یہ سفید لباس ان کے لیے کفن بن جائیں گے،اس لباس کے بعد انہیں دوسرا لباس پہننے کی نوبت ہی نہیں آئے گی، ان کے مسکراتے لبوں پر دوبارہ ایسی مسکان نہیں سج پائے گی،آج کا غسل ہی ان کے لیے آخری غسل ہوجائے گا، اور کئی مائیں تو یہ بھی نہ جانتی ہوں گی کہ آج کے بعد ہم اپنے معصوم لخت جگر کو دیکھ بھی نہیں سکیں گی،کہ ان کے لبوں کی مسکراہٹ چھین لی جائے گی، ان کے سر کبھی دستار کے لائق نہ رہ سکیں گے، ان کے بدن کبھی نئے لباس کے قابل نہیں رہ سکیں گے، آج سب کچھ لٹ جائے گا، ماؤں کی گود اجڑجائے گی،بچوں کی زندگی تباہ ہوجائے گی اور انہیں ہمیشہ کے لیے میٹھی نیند سلا دیا جائے گا۔
    ادھر باپ کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی کہ جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے بچے کی تعلیم وتربیت کی فکر کیا کرتا تھا، آج اس کے دل کی تمنا جاگ اٹھی تھی کہ اب میرا بچہ بھی مصلے پر امام بنے گا، دوسرے حفاظ کی طرح میرا بچہ بھی تراویح میں قرآن پڑھا ئے گا، میرے لیے میرا بچہ باعث افتخار بنے گا، میں سب کے سامنے بڑے عز وشرف کے ساتھ کہوں گا کہ آج میرا بچہ حافظ قرآن ہوچکا ہے ، میں ایک حافط قرآن کا والد ہوں، میرے بچہ نے بخاری پڑھ لی ہے، اسے سر پردستارفـضیلت سجادی گئی ہے ، میرا بچہ اب مدرس بنے گا، دین کا داعی بنے گا، اسلام کا سپاہی بنے گا، یہ تمنائیں یہ ارمانیں ایک باپ اپنے دل میں سجا کر جلسہ گاہ پہونچتا ہے ، تو کس کو پتہ ہوتا ہے کہ بچہ کا دیدار باپ کے لیے آخری ثابت ہوجائے گا، کتنے باپوں کی تمنا تھی ہوگی کہ وہ جلسہ کے اختتام کے بعد اپنے بچہ کو سینہ سے لگا کر اپنے کلیجہ کو ٹھنڈاکرے ، اس کے دل کی تمنا تھی ہوگی کہ میرے بچہ کی خوشی کا میںاب ہر سامان فراہم کروں گا؛ مگر کیا پتہ ایسی خوشی دوبارہ لوٹ کر نہیں آئے گی، اس خوشی کو دیکھنے کے دن ہی دل پرغم کی بدلی ہمیشہ کے لیے چھا جائے گی، اب دل ہمیشہ کے لیے ویران ہوجائے گا، دل اب کسی دوسری تمنا کے لائق نہیں رہ سکے گا، بچے کا دیدار بھی نم آنکھوں سے کیا تھا کہ آج میرے بچے نے میرا سراونچا کردیا ، میں اپنے بچہ کوکاندھے پر بٹھاؤں گا اور خوشی سے جھوم جاؤں گا ، کسے پتہ تھا اب کاندھے پر بٹھانے کا نہیں ، اٹھانے کا وقت آچکا ہے ،سارے ارمانوں پر پانی پھر گیا، ظالم نے بزدلی کا وار کردیا ، اور معصوم کلیوں کو کھلنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا۔
    اے خدا کے دشمنو! تم یہ مت سمجھو کہ تمہارے بم سے یہ مدارس مٹ جائیں گے ، یہ قرآن ختم ہوجائے گا، یاد رکھو کہ جب تک مدارس میں قرآن پڑھے جاتے رہیں گے ، مدراس زندہ وتابندہ رہیں گے،کیوں کہ قرآن کی حفاظت کا وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اور قاعدہ ہے کہ کوئی قیمتی چیز جس جگہ محفوظ ہوتی ہے ، اس جگہ کی بھی حفاظت کی جاتی ہے ، مدارس اللہ کی امانت میں رہیں گے، تم ایک مدرسہ کو جلا کر خوش نہیں ہوسکتے، چند حفاظ کو شہید کرکے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے قرآن کو مٹا دیا، مدارس کو مٹا دیا ، نہیں یہ تو تمہاری بزدلی کی علامت تھی ، ارے تم میں ہمت ہوتی یا تم میں کچھ مردانہ دم خم ہوتا تو آتے، ان افغانیوں سے زمینی جنگ لڑتے ، تب آسمان فیصلہ کرتا، زمین اپنے کرتب دکھاتی، فیصلہ ہاتھوں ہاتھ سامنے آجاتا، یہ بزدلی کی لڑائی لڑ کے تم کامیابی کا سہرا اپنے سر پر نہیں باندھ سکتے اور چند حفاظ کی شہادت اور ایک مدرسہ کی ہلاکت کو قرآن کریم اور مدارس اسلامیہ کا خاتمہ نہیں کہہ سکتے ، ارے یہ زندہ رہیں گے ، قرآن سینوں سے سینوں میں منتقل ہوتا رہے گا، وہ مٹنے کے لیے نہیں آیا، اور مدارس ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ ؎
    تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مئے کو تعلق نہیں پیمانے سے
    اے حملہ آورو!تم اس بزدلانہ حملہ کے ذریعہ کیا پیغام دینا چاہتے ہو ، کیا اس کے ذریعہ اپنی شوکت ودبدبہ کا مظاہر ہ چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ تمہاری یہ حرکت نسوانیت سے بھی گئی گزری ہے ، احمقانہ اور بزدلانہ حماقت تم نے کی ہے ،اور اس کے ذریعہ تم مسلمانوں کا خاتمہ چاہتے ہوتو یہ بھی ناممکن ہے ، اگر اس کے ذریعہ مسلمانوں میں رعب پیدا کرناچاہتے ہوتو یاد رکھو کہ مسلمان سوائے خدائے واحد کے کسیسے ڈرنے والا نہیں، اگر اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دلوں میں مدارس سے بیزاری پیدا کرنا چاہتے ہوتو یادرکھو! تمہاری اس حرکت سے مداس سے بیزاری نہیں؛بلکہ قلب مسلم میں شوق شہادت جواں ہوتا ہے، جذبات انگڑائی لے چکے ہیں، رسول اللہ ﷺکی وراثت کو حاصل کرنے اور اس راہ میں تن من دھن کی بازی لگانے کے لیے کئی قلب بے چین ہیں،یہ بات اچھی طرح ذہن کے دریچوں میں پیوست کرلو !کہ مسلمانوں نے دین خدا پر مرمٹنے کا عزم کربلا کے میدان ہی سے کر لیا ہے ، دین کی خاطر سختیاں جھیلنے کا ہنر ہم نے مکہ کے مشرکین ہی سے سیکھ لیا ہے ، صبر واستقلال کی دولت ہمیں شہنشاہ دوجہاں ، سرور کون ومکاں، حضرت بلال وعمارؓ، حضرت خبیب ویاسرؓسے ہم نے سیکھ لی ہے ، ہماری خواتین نے اسلام کی خاطر بچوں کو قربان کرنے کا حوصلہ اسلام کے اولین دور ہی سے حاصل کر رکھا ہے ، راہ خدا میں اولاد کی قربانی پر مسلمان مائیں نالاں نہیں؛ بلکہ فرحاں ہوتی ہیں، ارے تم کیا جانو! مسلم عورتیں تو اپنے بچوں کو لالا کر دربار رسالت میں پیش کرتی تھیں کہ انہیں لے جاؤ، شاید یہ راہ خدا میں شہید ہوجائے اورہم شہید کی ماں کہلائیں،تم کوحیرت ہوگی کہ ایک مرتبہ ایک خاتون نے اپنے گود کے بچہ کو لاکر سرکارﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو حضور ﷺ نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا: یہ معصوم بچہ کس کام کا؟ ہم اس کو لے کر کیا کریں گے ؟ کون اس کی دیکھ بھال کر سکے گا؟ ارے بزدل حملہ آورو، ظالمو! تمہارے منھ پراسصحابی خاتون کا یہ جملہ بڑا طماچہ ہے کہ اس نے کہا تھا : یارسول اللہ ! میں بھی جانتی ہوں کہ یہ کچھ کام کا نہیں، آپ قبول کریں گے تو آپ پر میدان جنگ میں بار ہوجائے گا، کوئی اس کی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہوگا؛ مگراس کو اس لیے دے رہی ہوںکہ جن کے پاس مال تھا، انہوں نے مال دیا، جن کے پاس سواری تھی ، انہوں نے سواری دی ، جس کے پاس جوکچھ تھا، اس نے وہ دیا؛ مگرمیرے پاس سوائے اس معصوم کے کچھ بھی نہیں،میری خواہش یہ ہے کہ جب دشمن اسلام آپ کی جانب تیر چلائے اور آپ میرے اس گود کے بچے کو ڈھال کے طور پر استعمال کرلیں تو شاید اس کا مقدر چمک جائے اور میری جھولی بھی شہادت سے بھر جائے،بزدلو! ذراان معصوم بچوں کوبھی دیکھ لو ! کہ جب ان کی صغر سنی کی وجہ سے ان کو واپس کیا جانے لگا تو انہوں نے اصرار کیا کہ ہم جانے والے نہیں ، یارسول اللہ ہمیں قبول فرمالیجیے، والد نے بھی گزارش کی کہ میرا بچہ بھی غزوہ میں شرکت کرلے تو اس کی تمنا بھی پوری ہوجائے گی اور بچے کی تمنا یہ تھی کہ میری شرکت ہوجائے تو میں جام شہادت نوش کرنے والا ہوجاؤں گا، ہم شوق شہادت اپنے سینوں میں رکھتے ہیں ، ہم موت سے گھبرانے والے نہیں ، ہم موت کو سینے سے لگانے والے ہیں، ہم موت کو وحشت کا سامان نہیں؛ بلکہ دخول جنت کا میزان گردانتے ہیں ، اسی لیے ہم کہتے ہیں؎
    مقتل کی طرف اب جاتیہیں اے موت تیرے لب چوم کے ہملے جام شہادت پیتے ہیںساقی کی ادا پہ جھوم کے ہم
    اس خطرناک اور کرب انگیز سانحہ پرمیڈیا کی خاموشی معنی خیز ہے ، جو ایک معمولی سی بات کو لے کر کئی کئی دنوں تک بحث ومباحثہ کرتا ہے، جس کو ایک سوئیبھی تیرنظر آجاتی ہے ،ایک پتھر بھی بم دکھائی دینے لگتا ہے، وہ کیوں خاموش ہے، کیا انہیں ان معصوموں کا خون ہولی کا تہوار نظر آتا ہے ، کیا انہیں اتنا بڑا سانحہ لائق تشہیر محسوس نہیں ہوتا، کیاسکیڑوں معصوم جانیںان کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں رکھتیں، وہ اینکر کہا ں کھو گئے ہیں؟ کیا ان کے کیمرے ان مناظر کو قید کرنے سے عاری وعاجز آچکے ہیں، کیا ان کے رپورٹر وں کے پاس اس کو پیش کرنے کی ہمت وقوت نہیں ، ٹی وی پرآکر زور زور سے چیخنے والوں کی زبانیں کیا گنگ ہوچکی ہیں، بڑی بڑی تصویریں لا لا کر دکھا نے والے کہاںگم ہو گئے ، کیا ان کی بینائی مفقود ہوچکی ہے، کہاں ہیں وہ بڑیبڑے انٹرنیشنل چینل کہ جو کہ گلی گلی کی خبروں کو اور کتے بلیوں کی حرکتوں کو نشر کرتے ہیں ، کیا انہیں اتنا بڑا حادثہ نظر نہیں آیا؟
    جب ضمیر بِک جاتا ہے تو دل بھی بک جاتے ہیں ، دلوں پر مردنی چھا جاتی ہے ، کیا ان میڈیا والوں کو ان معصوم ماؤں کی آہیں نظر نہیں آتیں، کیا بلکتے سسکتے معصوم بھائی دکھائی نہیں پڑتے ، کیا روتا چلاتا غموں سے نڈھال باپ نظر نہیں آتا، کیا جنازوں کی طویل قطار ان کی نگاہوں سے نہیں ٹکراتی،یہ خاموش اس لیے ہیںکہ کہیں ہمارا آقا امریکہ ہم سے ناراض نہ ہوجائے، کہیں ہمارے سوداگر یہود ہم سے خفا نہ ہوجائیں، کہیں ہمارے پالنہاریورپی ہم سے جدا نہ ہوجائیں، یاد رکھو کہ جب اللہ کی مار پڑے گی تو اچھے اچھوں کی نیاں غرق ہوجائے گی،خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ، جب پڑتی ہے تو اگلا پچھلا سب چکتا کردیتی ہے ، خدا کی ڈھیل کواپنی کامیابی کی دلیل نہ سمجھو ، بلکہ یہ نکیل ہے ،اس کا فاصلہ کبھی قلیل ہوسکتا ہے ، تمہاری حرکتوں سے وہ تمہیں ذلیل کرسکتا ہے اور تمہارا انجام مثل اصحاب الفیل کرسکتا ہے۔
    حیرت تو ہمیں ان اسلامی پیشواؤں سے بھی ہے ، جو مملکت اسلامی پر قابض ہو بیٹھے ہیں، کیا انہیں اللہ کے بندے اور اپنے رسولﷺ کے مرتے ، کٹتے ،تڑپتے ، سسکتے ، بلکتے اور کپکپاتے امتی نہیں دکھائی دیتے ، کیا کلام پاک کے وہ معصوم شہیدحفاظ ان کے دلوں کو نرم نہیں کرتے، کیا وہ بخاری کی آخری حدیث پڑھنے والے شہزادے ان شرزادوں کو دکھائی نہیں دیتے،کیا انہیں بھی بے حسی کا سانپ سونگھ گیا ہے ؟ ان کے دل بھی مردہ ہوچکے ہیں؟کیا ان کی بھی غیرت اسلامی ختم ہوچکی ہے ؟ کہاں ہیںوہ مملکت اسلامی کے ٹھیکیدار؟ کہاں ہیں وہ اسلامی سلطنت کے چوکیدار؟وہ کب تک پورپ واحمر قوم کی غلامی کریں گے ، کب تک ان کے تھوکے ہوئے لعاب سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے،کیا انہیںاپنے نبی کے معصوم وارث نہیں رلاتے ، کیا انہیں اپنی قوم کی حالت زار نہیں تڑپاتی،آخر کیوں ان کے دل اتنے سفاک ہوچکے ہیں؟کیوں اب تک امریکی سفارت خانہ کا بائیکاٹ نہیں کیا گیا؟ کہاں ہیںوہ اقوام متحدہ کے ذمہ دار؟ کہاں ہے وہ المؤتمر العالمی الاسلامی کے قائدین؟کہاں ہیں وہ عالمی امن وانصاف کے علمبردار؟کہاں ہیں وہ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے والے مکار؟کیا تم نے اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں، کیا تم میں انسانیت کا کوئی احساس نہیں، آخر تم بھی تو کسی کے باپ ہو، تمہاری بھی تو معصوم اولاد ہوگی، آخر تمہارے گھر میں بھی کوئی نسوانی دل ہوگا؟ کیوں اتنی ضد؟کیوں اتناعناد؟ صرف اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں؟ وہ حفاظ قرآن ہیں؟ وہ رسول اللہﷺ کے علم کے نگہبان ہیں؟ ارے وہ بیٹھ کر کوئی بم تو نہیں بنا رہے تھے، وہ امن کے خلاف کوئی سازش تو نہیں رچ رہے تھے ، وہ تو امن کے داعی بن رہے تھے ، انصاف کے علمبردار بن رہے تھے، وہ فساد ودہشت سے نفرت پیدا کررہے تھے، ان کی نگاہوں میں دنیا کے چند ٹھیکرے نہیں تھے، وہ آخرت کے شیدائی تھے ، حق پر فدائی تھے، سارے عالم میں امن کے ندائی تھے ، آخر تم نے ان معصوموں کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟
    تمہاری اس حرکت سے تمہیں وقتی خوشی تو مل گئی ہوگی مگر یا د رکھو کہ تم نے ان حفاظ وعلماء کو مارا نہیں ہے؛ بلکہ انہیں ہمیشہ کی زندگی دے دی ہے ، ہمارا یقین کامل ہے کہ راہ خدا میں شہادت پانے والے مرتے نہیں ہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ؛ بلکہ قرآن تو اورآگے کی خوشخبری سناتا ہے کہ انہیں روزی بھی اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے ، یاد رکھو!مسلمان زندہ رہتا ہے تو بھی اللہ کے انعامات کے ساتھ اور مرتا بھی ہے اللہ کی جانب سے ملنے والے اعزازات کے ساتھ۔
    ہاں آج جنت میں خوب چہل پہل ہوگی، قرآن کی دھوم دھام ہوگی، شہداء کا اژدحام ہوگا، ہر طرف تلاوت کے نغمے چل رہے ہوں گے، حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے ارد گرد بھی بڑا ہجوم ہوگا، پورے معصوم بچے ان کے دائیں بائیں گھوم رہے ہوں گے، وہ بھی شاداں وفرحاں ہوں گے ، اے شہیدو! تم نے بھی کیا موت پائی ہے کہ مدرسہ کی پاکیزہ چہار دیواری ہی سے جنت کا راستہ ہموار کرلیا ہے ، کسی قسم کا کوئی گناہ، کسی طرح کا کوئی دنیوی شغل تم نے نہیں اپنایا ، خدا تمہیں مبارک کرے اور تمہارے طفیل ہمیں بھی شوق شہادت عطا کرے۔
    اے اسلام دشمنو! ؒتم اچھی طرح سمجھ لو کہ مسلمانوں کو نہ تم مٹا سکتے ہو، نہ دبا سکتے ہواور نہ ہی جھکا سکتے ہو، یہ خدا کا وعدہ ہے ، منظر بھوپالی نے سچی ترجمانی کی تھی کہ؎
    کیا ہے ثابت کربلا نے کہ مومنوکو سوا خدا کے جھکانے والا کوئی نہیں ہے

    خدا نے وعدہ کیا ہے تم سے اے حق پرستو تمہیں زمیں پر مٹانے والا کوئی نہیں ہے۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  3. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,125
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    جواب: ظلم اور بربریت کی انتہاء


    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,125
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    جواب: ظلم اور بربریت کی انتہاء

    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  5. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,125
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    جواب: ظلم اور بربریت کی انتہاء ۔قندوز

    یہ حملہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کو تباہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے،
    امریکا اور ہندوستان کو افغانستان میں رہنے کا بہانہ چائیے ۔ مذاکرات کی کامیابی کو امریکا اور ہندوستان اپنی شکست تصور کر رہے تھے۔
    مذاکرات کو ہمیشہ منصوبے سے تباہ کیا گیا ،سابقہ ادوار کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کو سمجھنا بہت آسان ہے
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  6. #6
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,125
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    جواب: ظلم اور بربریت کی انتہاء ۔قندوز

    کون ہوں میں
    کٸی مجھ کو بتلاۓ ،کون ہوں میں
    ماں باپ کی آنکھ کا تارا
    ان کے خوابوں کا محور
    میں عالم بننا چاہتا تھا
    دین کی خدمت کرنا چاہتا تھا
    قرآن کا حافظ بننا چاہتا تھا
    پہناۓ ہار مجھے جس نے
    میں نہیں جانتا ،کون ہے وہ
    جس نے برساۓبم
    ان کے مقاصد سے بھی لاعلم
    یہ بھی جانتا نہیں ،کون ہوں میں
    یہ سرزمیں بھیگ رہی ہے میرے لہو سے
    یہ درودیوار میرا جسم لیے مٹی ہوۓ
    میری ماں کو بتاٶ
    اس کا لال اب نہیں لوٹنے والا
    گل پاشی اب کرو لحد پر بابا
    لحد بھی اک سانجھی بنا ڈالو
    دوست اک ساتھ سوتے ہیں
    مگر یہ بتا دو اے دنیا والو
    کس جرم کی سزا میں نے پاٸی
    جگھڑا تک نہ کیا میں نے
    اب میں سوتا ہوں
    اب کوٸی ضد نہ کروں گا
    کچھ نہ پوچھوں گا
    یہ سفید عمامہ ماں کو لوٹا دو
    یہ قرآن میرے ساتھ ہی دبا دو
    جو قاتل ہیں مجرم وہ نہیں میرے
    مجرم تو تم ہو
    جو بنےخاموش تماشاٸی
    بس قلمی باتیں کرتے ہو
    آپس میں ہی لڑتے ہو
    آنکھیں موندے
    فرقوں میں بٹے
    دولت کی ہوس میں اندھے
    اقتدار کی دوڑ میں پاگل
    جو پیسے کو خدا بنا بیٹھے ہیں
    مجھے بتلاٶ
    کیا تمھارے بچے بھی یوں
    جان ہارا کرتے ہیں ؟
    کیا تمھاری ماں بھی نوحہ کرتی ہے
    تم سرحدوں میں ہو مقید
    نہ جانےکب تک رہو گے خاموش
    کیوں لب سل گٸے تمھارے
    قلم بھی تھم گٸے
    جانتے ہو کیوں
    کہ میں اور تم ایک سے ہیں
    نہ میں جانوں اور نہ ہی تم
    یہ جانتے ہو کون ہوں میں
    ...............
    میمونہ صدف ہاشمی
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  7. #7
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,125
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    جواب: ظلم اور بربریت کی انتہاء ۔قندوز

    منسلک شدہ تصاویر منسلک شدہ تصاویر
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University