سیاروں کی گردش میں پنہاں تیری قدرت ہے
تار نفس کی ہر لے میں جیسی تیری حکمت ہے
پھولوں سے اور خاروں سے سورج چاند ستاروں سے
دریاؤں کہساروں سے ظاہر تیری عظمت ہے
ہر اک پھول کی خوشبو میں قوس قزح کے جادو میں
جگمگ جگمگ جگنو میں یا رب! تیری جلوت ہے
مہر و ماہ و اختر میں، برق و شرر کے تیور میں
گردوں کے ہر منظر میں ترا جمال وحدت ہے
علم دیا عرفاں بخشا، لاثانی قرآں بخشا
بخشش کا ساماں بخشا تیری کیا کیا رحمت ہے
تیری رحمت کا طالب تنکا تنکا ہے لاریب
تیرے قہر سے خوف زدہ یا رب پربت پربت ہے
نوک خامہ تو بھی لکھ رب کی تحمید و تقدیس
ذرہ ذرہ روز و شب جب مشغول مدحت ہے
نور شمع ایماں سے روشن ہے دنیائے دل
صابرؔ پر مولائے کل تیری کتنی رحمت ہے