خدا قلاّش کو بھی شان و شوکت بخش دیتا ہے
وہی ذراتِ بے مایہ کو عظمت بخش دیتا ہے
وہ شہرت یافتہ کو پل میں کر دیتا ہے رسوا بھی
ذلیل و خوار کو چاہے تو عزت بخش دیتا ہے
کبھی دانشوروں پر تنگ کر دیتا ہے وہ روزی
کبھی جاہل کو بھی انعامِ دولت بخش دیتا ہے
وہ لے کر تاجِ شاہی کو کسی سرکش شہنشاہ سے
کسی کمزور کو دے کر حکومت بخش دیتا ہے
وہی بے چین رکھتا ہے امیرِ شہر کو شب بھر
یقیں کی سیج پر مفلس کو راحت بخش دیتا ہے
سمجھ لیتا ہے ساحلؔ جو بھی اس رازِ مشیت کو
وہ اس انسان کو نورِ حقیقت بخش دیتا ہے
ایک قطرے کو صدف میں زندگی دیتا ہے کون
بن گیا موتی اسے تابندگی دیتا ہے کون
آ گیا موسم خزاں کا موت سب کو آ گئی
مردہ پودوں کو دوبارہ زندگی دیتا ہے کون
یہ ہیں سب بے جان ان میں جان کیسے آ گئی
تال، سر، لفظ و صدا کو دلکشی دیتا ہے کون
کھو گیا اس کی نوا میں تو مگر یہ بھی تو دیکھ
نالۂ بلبل میں درد و نغمگی دیتا ہے کون
ان کی تابانی سے نظروں کو ہٹا کر یہ بھی سوچ
انجم و شمس و قمر کو روشنی دیتا ہے کون
اپنے شعروں پر ہے ساحلؔ کیوں تجھے اتنا غرور
سوچ کہ شاعر کو ذوقِ شاعر ی دیتا ہے کون