نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: پاکستان قومی زبان تحریک اور تکمیل پاکستان اور کشمیر

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,121
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    پاکستان قومی زبان تحریک اور تکمیل پاکستان اور کشمیر

    پاکستان قومی زبان تحریک ملک بھر میں اردو کے مکمل نفاذ تک جدوجہد کرتی رہے گی۔
    کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور تمام پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستان قومی زبان تحریک
    رپورٹ: محمد اکرم فضل
    گزشتہ روز الحمراء ادبی بیٹھک لاہور میں تکمیل پاکستان کشمیر اور قومی زبان کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے شرکاء نے اپنے خطاب میں پاکستان قومی زبان تحریک کی ملک میں قومی زبان کے مکمل نفاذ تک جد و جہد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تقریب میں جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری کرفیو کی مذمت کی اور کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور تمام پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ہم آزادی کے سلسلے میں ان کی جد و جہد کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
    یوم قومی زبان کی یہ تقریب ملک بھر میں اردو زبان کے نفاذ کے آئینی تقاضے کے بارے میں عدالت عظمی کے 8 ستمبر 2015ء کے حکم کو چار سال مکمل ہونے پر منعقد کی گئی تھی۔تقریب کی صدارت پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر عزیز ظفر آزاد نے کی جبکہ مہمانان خصوصی صوبائی وزیر اطلاعات میاں محمد اسلم اقبال، سردار آصف احمد علی، ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا اور میاں محمود الرشید تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر محمد سلیم ہاشمی نے ادا کئے۔
    پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر عزیز ظفر آزاد نے تقریب کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 8ستمبر 2015ء کو پاکستان کی عدالت عظمی نے قومی زبان اردو کے نفاذ کا حکم سنایا۔ ہم جسٹس جواد ایس خواجہ کے فیصلے اور ان کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاکستان اور قومی زبان اور کشمیر کے بغیر پاکستان کی تکمل نہیں ہوتی ہے۔ ہم ایک قوم بن کر پاکستان ترقی کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو قومی نظریہ کی بنا پر پاکستان وجود میں آیا تھا اور ہم اس نظریہ کی حفاظت کر کے ہی پاکستان کا وجود قائم رکھ سکتے ہیں جبکہ صادق آباد سے پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر مزمل عباس صائم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ایک ہی مقصد ہے کہ ہر شعبہ زندگی میں فوری اور مکمل طور پر اردو کا مکمل نفاذ کیا جائے۔ انہوں نے نوجوانوں کو یاد دلایا کہ آپ علامہ اقبال کے شاہین ہیں اور ہم اور آپ سب کومل جل کر اردو زبان کے نفاذ کی کوشش کرنا چاہیے ہم اسی طرح سے غلامی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
    صوبائی وزیر اطلاعات میاں اسلم اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرمیں بھارت کے موجودہ جابرانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان نے پوری دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور ہم کشمیر کا مقدمہ پوری دنیا کو آگاہ کریں گے اور بھارت کا مکروہ چہرہ اور نظریہ کو پوری دنیا کے اندر بے نقاب کریں گے۔ ہم پوری دنیا کو بتا رہے ہیں کہ کشمیر میں بھارت نے جو ظلم روا رکھا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ ہر پاکستانی ہر لحاظ سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اردو کے نفاذ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ پاکستان اردو کے نفاذ سے ہی ترقی کر سکتا ہے۔ ہر اس ملک نے ترقی کی ہے اس نے اپنی قومی زبان کو اختیار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پرائمری تک اردو تعلیم کو لازمی کر دیا گیا ہے اور یہ پرائیویٹ اور حکومتی تعلیمی اداروں یکساں طور پر ہو گا۔ انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے لئے مشورہ دیا کہ وہ حکومت کو اپنی تجاویز پیش کریں اور ان پر لازمی غور کیا جائے گا۔بلوچستان سے محمود خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان تمام صوبوں کی مشترکہ قومی زبان ہے اور اسے ہر صوبے میں حقیقی طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ کشمیری نوجوان فاروق آزاد نے بتایا کہ کشمیر میں اکہتر فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں جبکہ باقی ماندہ غیر مسلم کمیونٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کشمیری بستے ہیں اور ہم سب کشمیریوں کے دکھ سکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن سید شاہد حسن ایڈووکیٹ نے وکلاءبرادری کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چار سال قبل عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے فیصلہ دیا کہ آئین پاکستان کے تقاضے کے مطابق تین ماہ کے عرصہ میں قومی زبان کو ملک بھر میں ہر سطح پر نافذ کیا جائے اور اس کی سہ ماہی رپورٹ سے عدالت عظمی کو آگاہ کیا جائے لیکن افسوس کہ اتنے بڑے اہم قومی مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم قریہ قریہ بستی بستی اردو کے نفاذ کی آواز کو بلند کریں اور اس آئینی حق کو حاصل کیا جائے اور اس پر فوری طور پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ہر سطح پر قانونی طور پر اور دامے درمے قومی زبان تحریک کے ساتھ ہیں۔ پاکستان قومی زبان تحریک شعبہ خواتین کی صدر فاطمہ قمر نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قومی زبان تحریک کی اس تقریب میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق اور نمائندگی کرتے ہوئے موجود ہیں اور ان سب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور پوری طرح سرگرم عمل ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ قومی اور صوبائی سطح پر تمام قومی اور صوبائی ادارے قومی زبان اردو کے نفاذ میں اخلاص سے کام لیں گے۔ انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے سرگرمیوں کی تفصیل پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں اردو کی بجائے انگریزی کو زبردستی طور پر نافذ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے طلباءکی کثیر تعداد تعلیم کو خیر آباد کہہ چکی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ہمارے اس قومی مطالبے کو محسوس کیا اور انہوں نے اردو کے نفاذ کے حق میں آئینی فیصلہ سنایا۔ فاطمہ قمر نے بتایا کہ اردو نفاذ کے ہمارے مطالبے کی ملکی سطح پر پذیرائی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے آج قومی زبان کے نفاذ کا مطالبہ شہر شہر اور قریہ قریہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے میاں محمود الرشید کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اردو کے نفاذ کو فی الفور عملی جامہ پہنائے۔ اوریا مقبول جان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ بیوروکریسی اردو کے نفاذ میں رکاوٹ ہے اور عدلیہ بھی اپنے فیصلے اردو کی بجائے انگریزی میں جاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقابلے کے ہر قسم کے امتحانات انگریزی کی بجائے اردو میں ہونے چاہیں۔ دنیا کے کسی ملک نے اپنی زبانی کی بجائے کسی دوسری زبان میں ترقی کی ہو۔ ہماری بیورو کریسی کے اجلاس اردو میں ہوتے ہیں اور عدالتی کارروائی اردو میں ہوتی ہے لیکن پھر کارروائی اور عدالتی فیصلوں کو انگریزی میں سنانا منافقت نہیں تو اور کیا ہے اور قوم کو مسلسل جبری طور پر غلام رکھنے کی کوشش ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات میاں محمود الرشید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف قومی زبان کے نفاذ بالخصوص ہر سطح کے تعلیمی مراحل میں بتدریج اردو کو ذریعہ تعلیم اختیار کیا جائے گا جس کا آغاز پرائمری سطح کی تعلیمی پالیسی میں اردو ذریعہ تعلیم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا اور یقین دلایا کہ وہ دن دور نہیں جب ہر سطح پر اردو ذریعہ تعلیم ہو گا اور ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم لاگو کیا جائے گا۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قرآن مجید کا حوالہ دیا کہ اللہ تعالی نے جو بھی رسول کو اسی قوم میں نازل کیا اور اسی قوم کی زبان میں ہدایات دی گئیں تاکہ اس قوم کو سمجھنے اور عمل کرنے میں آسانی ہو۔ انہوں نے بتایا کہ قرآن، احادیث، بائبل اور تورات غرض ہر ایک چشمہء ہدایت کا اردو زبان میں کئی کئی مرتبہ ترجمہ ہو چکا ہے۔ اردو کا دامن بہت وسیع ہے، طب کا اکثر و بیشتر حصہ اردو زبان کے اندر منتقل ہو چکا ہے۔ اگر کوئی کمی ہے تو نیت کی کمی ہے ورنہ اردو زبان کے نفاذ میں اور کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اس ملک پر اشرافیہ قابض ہے جو اردو کے نفاذ میں رکاوٹ ہے۔ جو لوگ اردو کے نفاذ میں رکاوٹ ہیں وہ تہذیبی دھشت گرد ہی ہو سکتے ہیں جنہیں قوم کا مفاد عزیز ہونے کی بجائے اپنے اقتدار کا تحفظ ہے۔ پاکستان قومی زبان تحریک جو کام سرانجام دے رہی ہے وہ قوم کے محسن ہیں۔ سردار آصف علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مادری زبان پنجابی، قومی زبان اردو جبکہ سرکاری زبان انگریزی ہے۔ پاکستان اس لحاظ سے منفرد ملک ہے کہ یہاں پر لسانی طور پر مختلف اللسان ملک ہے اس طرح سے تو پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہو سکا اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی قومی زبان اردو کو نافذ کرتے ہوئے آئینی تقاضے پر عمل اور تعلیمی پسماندگی کو دور کرسکتے ہیں۔ یہ حیرانی کی بات ہے کہ ہمیں اپنی قومی زبان کے نفاذ کے لئے جدوجہد کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے جبکہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے اور اس پر ملکی سطح پر عملدرامد ہونا چاہیے تھا۔ کشمیر میں جاری کرفیو کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہاں پر آزادی کی کوششیں کرنے والوں کے خلاف بھوک، پیاس اور قتل و غارت کا کھیل جاری ہے وہاں کے باشندے اپنے پیاروں کے جنازوں میں شرکت نہیں کر سکتے اور یہ ظلم دنیا کے سامنے جاری ہے جسے روکنا ہر باشعور قوم اور بالخصوص اقوام متحدہ کا فرض ہے۔ پاکستان قومی زبان تحریک کے شاعر رکن منیر احمد نے علامہ اقبال رح کے اشعار اور پاکستان قومی زبان کے ترانہ ”آفرین آفرین“ کے ذریعے محفل کو گرمایا۔پروفیسر رضوان الحق نے قرار داد پیش کرتے ہوئے شرکاءسے آئین پاکستان کی آئینی دفعہ 251 کے عملی نفاذ کی قرار داد پیش کی جس کی شرکاءنے بھرپور تائید کی۔ پروفیسر ڈاکٹر ذکریا خواجہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے محنت کش اور تاجر پاک و ہند کے مختلف علاقوں سے گزرتے تھے تو اردو زبان میں بولتے تھے اور شاعری بھی کی۔ کشمیر میں سب سے زیادہ اردو پڑھی اور بولی جاتی ہے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے بارے میں بتایا کہ بہ یونیورسٹی پاک و ہند کی تین قدیم یونیورسٹیوں میں سے قدیم ترین یونیورسٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے اکثریت منافقت کا شکار ہیں اور اردو کے نفاذ میں بھی یہی منافقت رکاوٹ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ عوامی رائے لیں اور معلوم کریں کہ ملک میں اردو کے نفاذ کیا اور کیوں رکاوٹ درپیش ہے اور اسے فی الفور حل کریں وہ یہ کام کریں کہ جہاں جہاں اردو استعمال ہو سکتی ہے وہاں تو نافذ کریں کیونکہ اردو رابطے کی واحد زبان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی سمیت یہاں کی یونیورسٹیوں میں اردو کی تعلیم اور نصاب تسلی بخش نہیں ہے بالخصوص نجی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں تو اردو سمیت دیگر مضامین کا تعلیمی نصاب بھی تسلی بخش نہیں ہے۔ سابق اکاونٹنٹ جنرل پنجاب جمیل بھٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قومی زبان تحریک ان شاءاللہ اپنے اس عظیم مقصد میں کامیاب ہو گی اور وہ وقت دور نہیں جب تمام ملکی اداروں میں اردو زبان کا نفاذ ہو گا اور تمام ملکی ادارے ترقی کی راہ پر چل پڑیں گے۔ تقریب کے آخر میں مہمانان خصوصی کو اعزازی یادگار پیش کی گئیں۔ علاوہ ازیں پاکستان قومی زبان تحریک کے نوجوان اور سرگرم کارکنان کو بھی یادگاری اعزازات دئیے گئے۔
    آجمورخہ 15 ستمبر 2019

    تصاویری رابطے"
    https://imge.to/i/v4jCYw
    https://imge.to/i/v4jx3j
    https://imge.to/i/v4jtvy
    https://imge.to/i/v4jmRf
    https://imge.to/i/v4j7zh
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ابوسفیان (09-16-2019)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,121
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    جواب: پاکستان قومی زبان تحریک اور تکمیل پاکستان اور کشمیر

    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University