ختمِ نبوت اور وزیراعظم و آرمی چیف کی مساعی جمیلہ ، امیر حمزہ

حضرت محمد کریمؐ کی ختم نبوت اور رسالت کی حرمت کا تذکرہ کرنے کی ہم سعادت حاصل کرنے جا رہے ہیں‘ مگر تھوڑا سا تذکرہ پیج کا بھی ہو جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں حضورؐ کی پاک حرمت کا تذکرہ کیا تو وزیراعظم اور آرمی چیف ایک پیج پر تھے۔ ملک کے بڑے تاجروں نے آرمی چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور بعد میں وزیراعظم سے ملاقات کی تو تب بھی دونوں کا پیج ایک ہی تھا۔ چین کے دورے میں بھی پیج ایک ہی ہے ۔مجھے مستقبل کی پارلیمانی مدت میں یہ پیج ایک ہی نظر آ رہا ہے ۔باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔ ہمارے تجزیوں اور چاہتوں سے کچھ نہیں ہوتا‘ ہوتا وہی ہے‘ جو اللہ چاہتے ہیں۔
وہ لوگ جو اسلام کے خلاف بغض اور عناد اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے ہیں‘ وہ اسلام کو انتہا پسند دین کہتے ہیں۔ دفاع کرنے والے اسلام کو امن اور سلامتی والا دین دلائل کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ دفاع میں بعض اہل اسلام سکالرز‘ اسلام کو معتدل دین قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دفاع کرنے والے دونوں گروہوں کی بات درست ہے‘ مگر عمران خان جو نہ تو مولانا ہیں‘ نہ ہی علامہ ہیں اور نہ ہی مذہبی سکالر ہیں۔ انہوں نے جنرل اسمبلی میں اسلام کے دفاع میں جو بات کہی‘ وہ مندرجہ بالا دونوں گروہوں کی اچھی باتوں سے کہیں زیادہ اچھی بات ہے۔ کہیں زیادہ مدلل اور انتہائی خوبصورت اور حسین ہے۔ انہوں نے فرمایا: اسلام صرف وہ ہے‘ جو حضرت محمد کریمؐ پر نازل ہوا۔ جی ہاں! یہ تو وہ حقیقت ہے ‘جسے قرآن نے بیان فرمایا ہے ''وہ لوگ ‘جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اس (اسلام) پر ایمان لائے‘ جو حضرت محمدؐ پر نازل کیا گیا ہے۔ ان (مومنوں) کے رب کی طرف سے یہی حق ہے۔ (اس حق کو جنہوں نے مانا) اللہ تعالیٰ ان سے ان کی کمی کوتاہی دور کر دیں گے اور ان کے (دلوں کا) حال بھی درست کر دیں گے‘‘۔ (محمد:2)
قارئین کرام! کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عمران خان نے جنرل اسمبلی میں اسلام کی جو تعریف کی‘ وہ وہی کی‘ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی سورہ محمدؐ میں حضرت محمد کریمؐ پر نازل فرمایا۔ اس تعریف سے ساری دنیا کو جو پیغام گیا۔ اس کے نکات ملاحظہ ہوں؛ (1) حضرت محمد کریمؐ پر قرآن نازل ہوا اور حدیث نازل ہوئی؛ دونوں کا نام اسلام ہے (2) عمران خان نے انکارِ حدیث کے فتنے کا دروازہ بند کر دیا (3) قرآن اور حدیث کی حفاظت کا پیغام دیا‘ یعنی قرآن نازل ہوا تو وہ چودہ سو سالوں سے زبر زیر کے ساتھ محفوظ ہے اور حدیثِ رسولؐ بخاری و مسلم اور حدیث کی دیگر کتابوں میں صحیح اسناد کے ساتھ محفوظ ہے (4) عمران خان نے پیغام دے دیا کہ دنیا کا کوئی مذہب محفوظ نہیں۔ جب محفوظ نہیں تو کامل اتباع کے قابل نہیں۔ کامل اتباع کے قابل وہی دین ہے‘ جو کامل طور پر محفوظ ہے اور وہ صرف اسلام ہے (5)عمران خان نے ختم نبوت کا بھی پیغام دے دیا کہ یہ محفوظ ترین دین ہی میرا عقیدہ ہے اور محفوظ ترین کتاب قرآن یہ بتاتا ہے کہ حضرت محمد کریمؐ خاتم الانبیاء ہیں (6)انہوں نے ختم المرسلین حضرت محمدؐ کی حرمت کا بھی دفاع کیا اور واضح اور دو ٹوک کہا کہ حضورؐ کی حرمت پر جب آنچ آتی ہے تو ہمارا دل کانچ بن کر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سے ہمیں روحانی اور نفسیاتی رنج اور دکھ پہنچتا ہے اور مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ روحانی رنج جسمانی تکلیف سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ یاد رہے! عمران خان نے مذکورہ بات ایسے سٹیج اور ایسے ماحول میں کہی‘ جہاں نفسیانی ٹارچر کے مقدمے میں کروڑوں ڈالر‘ یورو‘ مارک اور پونڈ وغیرہ کا جرمانہ اسے کیا جاتا ہے اور مظلوم کو دلوایا جاتا ہے‘ جس نے نفسیاتی ٹارچر کیا ہو۔ عمران خان! آپ کو حضورؐ کی شفاعت نصیب ہو کہ آپ نے حرمت رسولؐ کا دفاع کیا تو آپ نے اہلِ مغرب کے دل کی حساس تاروں پر انگلیاں رکھ کر کیا (7) قرآن مجید کی جب توہین ہوئی تھی تو عالمِ اسلام کی‘ جس شخصیت نے ہاتھوں میں نیوز ویک کا شمارہ لہرا کر دنیا کو باخبر کیا تھا۔ اپنے ایمان اور غیرت کا اظہار کیا تھا۔ وہی عمران خان اسی ملک کی جنرل اسمبلی میں ''بما نزل علی محمد‘‘ کا ترجمہ اور شرح کر کے قرآن کی حرمت کا اعلان کر رہا تھا۔قارئین کرام! وزیراعظم عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ سالار افواج پاکستان کا یہ پیج ‘ایک پیج ہے۔ اس کی سلامتی کے لئے ہم دعاگو ہیں۔
جب حرمت رسولؐ اور حرمت قرآن کی تحریکیں چل رہی تھیں تو مجھ جیسے گناہ گار کو ذمہ دار بنا کر اعزاز بخشا گیا ‘تب تقریباً ہر اجلاس میں محترم عمران خان تحریک انصاف کی نمائندگی کے لئے محترم اعجاز چودھری صاحب کو بھیجا کرتے تھے۔ وہ تحریک انصاف میں عمران خان صاحب کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ہیں۔ آج کل پنجاب کے صدر ہیں۔ میں نے انہیں فون کیا اور کہا کہ چودھری صاحب! محترم عمران خان نے قرآن اور صاحب ِ قرآن حضرت محمد کریمؐ کی حرمت کے تحفظ کا اعلان اس سٹیج سے کر دیا ہے کہ جو ہمارا خواب تھا۔ اس کی تعبیر عملی صورت میں سامنے آئی ہے۔ میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے اور ایک پیج پر ایسا کردار ادا کرنے والے عمران خان اور قمر جاوید ہی کیلئے دعائیں نہ تھیں‘ بلکہ ہر اس محبِ رسولؐ کے لئے کہ جس کا دل حضورؐ کی محبت میں دھڑکتے ہوئے درود شریف پڑھتا ہے اور حرمتِ رسولؐ کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ باقی میرے عزم کا اظہار ارضِ پاک کے استحکام کی خاطر یہی ہے کہ جنرل اسمبلی کا اجلاس ہو۔ تاجروں کے ساتھ میٹنگ کا انداز ہو۔ کسی کا احتجاج ہو۔ عمران خان اور قمر جاوید کا پیج ایک ہی ہوگا۔ (ان شاء اللہ)
محترم عمران خان نے اپنے خطاب میں کشمیر اور انڈیا کے مظلوموں کا زور دار مقدمہ پیش کیا۔ مودی کے عقیدے ہندتوا اور ظالمانہ کردار جو کرفیو کی صورت میں آج تک قائم ہے‘ اس کو پیش کر کے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔ مسٹر مودی تو یہ خطاب جنرل اسمبلی کی لابی میں سن رہا تھا‘ جبکہ ہال میں اس کی دو نمائندہ خواتین سن رہی تھیں۔ دنیا کا میڈیا عمران خان کے خطاب اور ان خواتین کے تاثرات کو دکھاتا رہا‘ جو واضح کر رہے تھے کہ وہ شرمندگی کے ساتھ نگاہیں نیچی کر کے بیٹھی ہیں۔ قارئین کرام! ہندتوا کے حوالے سے مسٹر مودی‘ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ظالم لوگوں کی نگاہوں کو میں انہی کے پنڈت کے حوالے سے نیچا کرنا چاہوں تو اس پنڈت کا نام ''وید پرکاش اپادھیائے‘‘ ہے۔ یہ سنسکرت زبان میں ہندو مذہب کے ایسے عالم گزرے ہیں‘ جنہوں نے ''نراشنس اور انتم رشی‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ وید پرکاش کی کتاب بڑی مشہور ہوئی‘ کیونکہ اس میں حضرت محمد کریمؐ کو ہی کالکی اوتار ثابت کیا گیا کہ جن کی آمد کے ہندو منتظر ہیں۔ قارئین کرام! آج سے کوئی 25سال قبل میں نے سندھ میں مندروں اور آشرموں کو دیکھا۔ ہندو پنڈتوں اور سادھوؤں سے ملا۔ انڈیا نے کروڑوں روپیہ خرچ کر کے ''مہا بھارت‘‘ اور ''رامائن‘‘ نامی فلمیں بنائیں۔ میں نے یہ فلمیں بھی دیکھیں۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کو بھی پڑھا اور پھر ''ہندو کا ہمدرد‘‘ اور ''ہندو دھرم‘‘ لکھی۔ کتابوں کی اشاعت سے پہلے مذکورہ کتابیں مضامین کی صورت میں شائع ہوئیں۔ انہی دنوں میں مدینہ منورہ گیا تو مولانا صفی الرحمان مبارکپوری سے ملاقات ہوئی ‘مولانا انڈیا کے معروف عالم تھے۔ ساری زندگی مدینہ منورہ میں گزری۔ ''الرحیق المختوم‘‘ سیرت کی کتاب ہے ‘جسے سعودی حکومت نے اوّل انعام دیا‘ مولانا ہی کی لکھی ہوئی ہے۔ وہ فرمانے لگے؛ میں نے آپ کے مضمون پڑھے۔ میں نے وید پرکاش کی کتاب کے اہم اقتباسات اور ان کی شرح پر ایک مسودہ تیار کیا ہے۔ آپ اسے شائع کر دیں۔ میں نے اسے ''محمدؐ‘ ہندو کتابوں میں‘‘ کے عنوان سے شائع کر دیا۔ مولانا مرحوم نے مجھے کہا؛ اس پر میرا نام ''ابن اکبر الاعظمی‘‘ لکھنا ہے۔ جی ہاں! وید پرکاش اتھرووید کے حوالے سے لکھتے ہیں؛ ''لوگو! احترام سے سنو‘ نراشنس کی تعریف کی جائے گی‘‘
نراشنس ایسے شخص کو کہتے ہیں‘ جس کی تعریف کی جائے۔ یہ بھی ہے کہ وہ مہاجر ہوں گے اور امن کے علمبردار ہوں گے۔ ان کی بارہ بیویاں ہوں گی۔ وہ اونٹ پر سواری کریں گے۔ گھوڑے پر بھی سوار ہوں گے۔ حضورؐ کا نام ''مامح‘‘ لیا گیا‘ جس کا معنی ہے کہ جس کی سب سے بڑھ کر تعریف کی جائے‘ یعنی حضرت محمدؐ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اللہ نے مامح کو دس ہار عطا فرمائے۔ اس سے مراد وہ دس صحابہ ہیں‘ جن کو حضورؐ نے جنت کی خوشخبری سنائی۔ وید کا گیارہواں منتر اس طرح ہے۔ اللہ نے احمدؐ کو جگایا۔ اٹھ اور یہاں وہاں لوگوں کے پاس جاؤ اور میری بڑائی بیان کرو۔ میں تجھے ساری نعمتیں دوں گا۔ میں ہی غالب ہوں۔ وہ ملحدوں‘ ظالموں اور فاجروں کے خلاف جنگ کرے گا۔ اس کے ساتھی اللہ تعالیٰ کی بہت حمد کرنے والے اور نمازی ہوں گے۔ بھوشیہ پران میں ہے کہ ان کی والدہ کا نام سومتی (آمنہ) ہوگا اور باپ کا نام ویشنو ویش (عبداللہ) ہوگا ''بھاگوت پران‘‘ میں ہے ''جنگ کے اندر فرشتوں کے ذریعہ کالکی اوتار کی مدد کی جائے گی۔ وہ ساری دنیا کے سردار ہوں گے۔ ایسے خوبصورت ہوں گے کہ ان کے حسن و جمال کی مثال نہ ہوگی۔ وہ شنبل گرام‘ یعنی ''بلد الامین‘‘ مکہ میں پیدا ہوں گے۔ ان کے والد ان کی پیدائش سے پہلے فوت ہو جائیں گے۔ انہیں ایک اڑتا ہوا گھوڑا دیا جائے گا‘ جس پر زمین اور آسمان کی سیر کریں گے۔ رگ وید میں ہے۔ مامح۔ رحمت للعالمین ہوں گے۔ دس ہزار جانبازوں کے ساتھ ممتاز ہوں گے‘ یعنی مکہ فتح کریں گے۔ قارئین کرام! ہندو کتابیں بھی کہتی ہیں کہ آخری رسولؐ حضرت محمد کریمؐ ہیں۔ کشمیر اور ہندوستان میں بی جے پی کے ظلم کا تقاضا ہم اہل پاکستان سے یہ ہے کہ ہم سب لوگ ایک پیج پر ہو جائیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ یہ کام کرے اللہ تعالیٰ سے توفیق کے ہم طلبگار ہیں۔