نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: صدمے یوں غیر پر نہیں آتے

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    2,399
    شکریہ
    640
    700 پیغامات میں 726 اظہار تشکر

    صدمے یوں غیر پر نہیں آتے



    صدمے یوں غیر پر نہیں آتے

    تمھیں جور اس قدر نہیں آتے

    پھر تسلی کی کون سی صورت

    خواب میں بھی نظر نہیں آتے

    آتے ہیں جب کہ نااُمید ہوں ہم

    کبھی وہ وعدے پر نہیں آتے

    روز کے انتظار نے مارا

    صاف کہہ دو اگر نہیں آتے

    اور تم کس کے گھر نہیں جاتے

    ایک میرے ہی گھر نہیں آتے

    سچ ہے حیلے مجھی کو آتے ہیں

    اور تمھیں کس قدر نہیں آتے

    ان کو میں کس طرح بھلائوں نظامؔ

    یاد کس بات پر نہیں آتے


    نظام رام پوری

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    Maria (10-25-2019)

  3. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2019
    پيغامات
    566
    شکریہ
    598
    441 پیغامات میں 445 اظہار تشکر

    جواب: صدمے یوں غیر پر نہیں آتے

    لاجواب

اس موضوع کے کلیدی الفاظ (ٹیگز)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University