جذبات کے معدے پر اثرات

ڈاکٹر سید اسلم
غذا کے ہاضمے کی تیاریاں کھانے کے تصور، خوشبو، نظارہ اور ذائقہ کے ساتھ شروع ہو جاتی ہیں، بشرطیکہ وہ غذا پسندیدہ ہو۔ اس کے برعکس اگر جذبات برہم ہوں تو اس عمل میں فرق پڑ سکتا ہے بلکہ اس وجہ سے ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے۔ نہ صرف غذا کی خوشبو، نظارے اور مزے سے ہاضمہ کا عمل شروع ہوتا ہے بلکہ چمچہ چلنے کی آواز یا بگھار کی مہک یا غذا کے تصور ہی سے منہ میں پانی آ جاتا ہے۔ عموماً یہ بات لوگوں کو نہیں معلوم کہ جس طرح ان حالات کے تحت منہ میں پانی آتا ہے بالکل اسی طرح معدہ میں بھی پانی کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ یہ منہ کا اور معدہ کا پانی دراصل ہاضم لعاب ہیں۔ ان کی افزائش فوری طور پر کھانے سے قبل شروع ہو جاتی ہے اور کھانے کے بعد تک جاری رہتی ہے۔ جس دستر خوان پر خوش نظر، خوش ذائقہ مفرح غذائیں سلیقہ سے چنی ہوں گی وہاں حاضرینِ مجلس کے معدہ میں لعاب کی افزائش ازخود شروع ہو جائے گی۔ اگر غذا اچھی طرح نہ پکائی گئی ہو اور نہ اچھی طرح اسے پیش کیا گیا ہو یعنی کہ بدسلیقگی کا مظاہرہ ہو تو ہاضم لعاب کی ناکافی افزائش ہو گی۔ اگر ناخوشگوار محسوسات اور جذبات، مثلاً فکر، پریشانی، ناراضگی اور خوف کی کیفیت طاری ہو جائے تو ہاضمے کا عمل خراب ہو جائے گا۔ غصے اور پریشانی کے عالم میں منہ اور معدے کے لعابٖ خشک ہو جائیں گے اور ان کی افزائش رک جائے گی۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جذباتی نشیب و فراز کے یہ خطرناک اثرات صرف وقتی نہیں ہوتے کہ جس بات نے مزاج برہم کیا وہ اگر دور ہو بھی جائے تو اس کے باوجود جو آگ لگی تھی وہ کچھ دیر تک ٹھنڈی نہیں ہوتی بلکہ سلگتی رہتی ہے۔ مزاج کی برہمی نہ صرف یہ کہ کھانے سے قبل یا کھانے کے دوران ہاضمے کو متاثر کرے گی بلکہ کھانے کے بعد بھی اگر غصہ آ جائے تو ہاضمہ خراب ہو سکتا ہے۔ ذہنی اور جذباتی ہلچل سے نہ صرف منہ اور معدے کے لعاب کی افزائش کم ہوتی ہے بلکہ پتے سے صفرا کی پیداوار بھی کم ہو جاتی ہے اور لبلبہ سے پیدا ہونے والے لعاب بھی گھٹ جاتے ہیں۔ اس طرح ہاضمہ کا تمام فعل بگڑ جاتا ہے۔ درد اور تکلیف سے بھی یہی اثرات رونما ہوتے ہیں کہ ہاضم لعاب بھی کم ہو جاتے ہیں اور معدہ کی حرکت بھی گھٹ جاتی ہے۔ کسی حادثہ کے بعد تکلیف کے سبب نہ معدہ سے غذا کا اخراج آگے کی طرف ہو گا اور نہ غذا تحلیل ہو گی۔ اس بات کی عملی اہمیت یہ ہے کہ حادثہ میں ہڈی ٹوٹنے کے بعد غذا کافی دیر تک معدہ میں رہے گی اور اس ہڈی کی درستی کے لیے مریض کو فوراً بے ہوش نہیں کیا جائے گا بلکہ عام حالات کی نسبت دگنا تگنا وقت انتظار کرنا پڑے گا تاکہ غذا معدہ سے تحلیل ہو جائے۔ معدہ کا اصل فعل غذا کو قابلِ ہضم اور قابلِ جذب شے میں تبدیل کرنا ہے۔ ہماری غذا مشتمل ہے مختلف النوع، سخت اور متفرق ماہیت کی اشیا پر، جن کو معدہ یکساں اور یکجان مواد یا کیموس میں تبدیل کر دیتا ہے۔ معدے کے فعل کا انحصار لعابِ معدہ اور حرکتِ معدہ پر ہے۔ فکر و پریشانی سے حرکتِ معدہ سست ہو جاتی ہے۔ اگر پریشانی زیادہ ہو تو یہ حرکت بالکل بند ہو سکتی ہے۔ یہی اثر معدے میں افزائشِ لعاب پر بھی ہوتا ہے۔ وہ حالات کے تحت کم بھی ہو سکتی ہے اور رک بھی سکتی ہے۔ اس صورت حال میں معدے میں خلل پڑتا ہے اور غذا کے انہضام کا عمل تکمیل کو نہیں پہنچا۔ اکثر افراد جو معدہ کے منہ پر بھاری پن، جلن اور بدہضمی کی شکایت کرتے رہتے ہیں، وہ اسی متفکر طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان لوگوں میں ہر قسم کے معائنے یہاں تک کہ ایکس رے پر بھی، کسی قسم کی خرابی کا پتہ نہیں چلتا۔ زیادہ تر لوگوں میں جس خرابی کا پتا چلتا ہے، وہ حرکتِ معدہ کی سستی ہے۔ معدے کو اپنا فعل سرانجام دینے اور غذا کو ہضم کرنے کے لیے چار چھ گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔ ہاضمے کے فعل کا آغاز منہ میں شروع ہو جاتا ہے، منہ میں کچھ نشاستہ لعابِ دہن کے زیراثر شکر میں تبدیل ہو جاتا ہے، پھر منہ کا لعاب جو غذا کے ساتھ معدے میں پہنچتا ہے، وہ معدے میں کچھ دیر تک اپنا عمل جاری رکھتا ہے۔ معدے میں غذا، حرکتِ معدہ سے اس طرح پیسی جاتی ہے جس طرح چکی کے دو پاٹوں کے درمیان کوئی شے پیسی جائے۔ ساتھ ساتھ معدے کے تیزاب اور لعاب کا بھی اس غذا پر عمل ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ تمام غذا یکساں اور یکجان مواد یا کیموس میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اب یہ معدے سے آنت میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔ معدے کا فعل نہ صرف نظامِ انہضام کے امراض سے، بلکہ ہجومِ جذبات سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر انسان مغلوبِ جذبات ہو جائے یا سخت جذباتی ہیجان میں مبتلا ہو جائے یا کسی وجہ سے اس پر صدمہ گزرے تو معدے کا فعل بالکل معطل ہو سکتا ہے۔ جو لوگ نفسیاتی اور جذباتی طور پر متوازن شخصیت نہیں رکھتے، ان کے معدے میں تیزاب کی افزائش باافراط ہوتی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا معدہ تنا ہوا اور اکڑا ہوا رہتا ہے جس سے تیزاب کی پیدائش زیادہ ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں معدے میں تیزاب کی شدت اور کثرت ہو سکتی ہے جس کی زد معدے سے زیادہ اس مقام پر پڑتی ہے، جہاں معدے کا ملاپ چھوٹی آنت سے ہوتا ہے۔ چونکہ معدے کا زیریں منہ بھی تنا ہوا ہوتا ہے اور بند بھی، اس وجہ سے آنتوں کے دافع تیزابیت لعاب بھی معدہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اس طرح یہ لعاب، معدے کے تیزاب کو معتدل نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں میں معدے اور چھوٹی آنت کا السر (قرح) نہایت عام ہے۔ جب تیزابیت بھی زیادہ ہو اور قرح معدہ بھی ہو تو معدے کے منہ پر سخت جلن اور درد ہوتا ہے۔ اس طرح کے لوگ طبیبوں کے پاس بکثرت آتے ہیں اور ان میں سے اکثر کو صرف فکر و پریشانی ہوتی ہے۔ مضطرب اور جذباتی لوگ بے چینی کی حالت میں ہوا اندر نگلتے رہتے ہیں اور اس کا بہتر علاج یہ ہے کہ وہ اپنی اس نقصان دہ عادت کو خود ہی ترک کریں۔ گو بعض دفعہ بادی النظر میں پیٹ پھولا ہوا معلوم ہوتا ہے، اس کے باوجود ان لوگوں کے لیے ڈکاریں لینا کوئی حل نہیں۔ ان لوگوں کو بھوک بھی کم لگتی ہے۔ ایسا شخص بہت جلد کھانے سے سیر ہو جاتا ہے اور زیادہ تر ڈکاریں لیتا رہتا ہے۔ جو شخص پہلے ہی غیرمتوازن شخصیت کا حامل ہو وہ اس خودکردہ بدہضمی اور ڈکاریں لینے کی عادت کی وجہ سے مزید اپنے پیٹ سے پریشانی میں مبتلا ہو جائے گا۔ تشنج بواب میں معدے کا نچلا منہ تنگ اور سخت ہو کر بند ہو جاتا ہے۔ یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ اس کی سب سے عام وجہ جذباتی، نفسیاتی اور ذہنی کشمکش ہے، چاہے وہ خوف و فکر کی وجہ سے ہو یا ناراضگی کی وجہ سے ہو۔ ’’بواب‘‘ معدہ کا زیریں منہ ہے جو چھوٹی آنت کے اول حصے میں کھلتا ہے۔ جب اس جگہ تشنج ہوتا ہے تو غذا کا سفر آگے کی طرف رک جاتا ہے اور یہ تعطل چند لمحوں سے لے کر چند گھنٹوں کا بھی ہو سکتا ہے۔ تشنج بواب میں دردِ معدہ، بھاری پن، نفخ، ڈکاریں، کلیجے کی جلن، متلی، قے اور دردِ سر ہوتا ہے، اشتہا ختم ہو جاتی ہے۔ بہت سے لوگ جو طبیبوں کے پاس بدہضمی اور معدے کی شکایت لے کر جاتے ہیں یہ لوگ دراصل خللِ اعصاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔