پوٹاشیم کی طبی اہمیت

محمد ریاض
پوٹاشیم زندگی برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ جو نمکیات و معدنیات ہمارے جسم میں پائے جاتے ہیں، ان میں کثرت کے لحاظ سے پوٹاشیم کا نمبر تیسرا ہے، جس سے اس کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے، مگر حیران کن بات ہے کہ پوٹاشیم کی اس اہمیت اور جسم میں اس کثرت کے باوجود اس کے متعلق لاعلمی، نہ صرف عوام الناس بلکہ طبی حلقوں میں بھی عام ہے۔ عموماً لوگ پوٹاشیم کی مطلوبہ مقدار نہیں لیتے۔ مثال کے طور پر ایک جائزے کے مطابق امریکا میں 98 فیصدبالغ آبادی پوٹاشیم کی تجویز شدہ مقدار نہیں لیتی۔ ہمارے جسم میں 98 فیصد پوٹاشیم جسم کے خلیوں میں پایا جاتا ہے، اس میں سے 80 فیصد پٹھوں کے خلیوں میں اور باقی 20 فیصد ہڈیوں، جگر اور سرخ خلیوں میں ہوتا ہے۔ صحت کے ادارے روزانہ کم از کم ساڑھے تین گرام (3500 ملی گرام) پوٹاشیم بذریعہ غذا تجویز کرتے ہیں۔ پوٹاشیم ایک الیکٹرولائٹ بھی ہے۔ الیکٹرولائٹ پورے جسم میں برقی پیغامات کی حرکت کو ممکن بناتے ہیں اور جسم کے بہت سے افعال میں معاون ہوتے ہیں۔ ان میں یہ افعال شامل ہیں؛ فشارِ خون، پانی کا توازن، پٹھوں کا سکڑاؤ، اعصابی پیغامات، انہضام، دل کی دھڑکن کا نظم۔ آپ کا جسم قدرتی طور پر پوٹاشیم نہیں بناتا، اس لیے مناسب مقدار میں پوٹاشم والی غذائیں کھانا ضروری ہوتا ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو عارضی سے لے کر طویل المدت، مختلف طرح کے صحت کے مسائل آپ کو گھیر سکتے ہیں۔ مندرجہ ذیل مسائل پوٹاشیم کی کمی پیدا کر سکتے ہیں: گردوں کے امراض، ’’ڈیوریٹکس‘‘ کا حددرجہ زیادہ استعمال، بہت زیادہ پسینہ، اسہال اور قے، میگنیزیم کی کمی، بعض اقسام کی اینٹی بائیوٹکس کا استعمال۔ جسم میں پوٹاشیم کی کمی کی علامت کا تعلق اس کی شدت سے ہوتا ہے۔ پوٹاشیم میں عارضی کمی سے ممکن ہے کوئی علامت ظاہر نہ ہو۔ مثلاً اگر سخت محنت کے بعد آپ کو بہت زیادہ پسینہ آیا ہے تو پوٹاشیم کی سطح کم ہو جائے گی لیکن کھانے اور پینے کے بعد یہ نارمل ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر کمی شدید ہو جائے تو اس سے جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ پوٹاشیم کی کمی کی علامات یہ ہیں: شدید تھکاوٹ، پٹھوں میں اینٹھن، دل کی دھڑکن کی بے قاعدگی، قبض، متلی یا قے۔ پوٹاشیم کی کمی یا ہائپوکالیمیا کی تشخیص عام طور پر خون کے ٹیسٹ سے ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر دل کے ’’الیکٹرو کارڈیوگرام‘‘ ٹیسٹ کے علاوہ خون میں ’’پی ایچ‘‘ کی سطح جانچنے کے ٹیسٹ کرنے کا کہہ سکتا ہے۔ جس طرح پوٹاشیم کی کمی خطرناک ہے، اسی طرح اس کی زیادتی بھی خطرے سے خالی نہیں۔ زیادتی کے اسباب میں شامل ہیں: پوٹاشیم سپلی منٹ کا حددرجہ زیادہ استعمال، گردوں کے امراض، طویل ورزش، کوکین کا استعمال، جسم میں پوٹاشیم کی بچت کرنے والے ’’ڈیوریٹکس‘‘ کا استعمال، کیموتھراپی، ذیابیطس، جسم کا زیادہ جل جانا۔ پوٹاشیم کے بہت زیادہ استعمال کی سب سے واضح علامت دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا (ارہیتھمیا) ہے۔ اس کی شدت سے موت واقع ہو سکتی ہے۔ آج ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا جسم جن چھوٹے چھوٹے خلیات سے بنا ہوا ہے، پوٹاشیم ان سب میں موجود ہے اور ان خلیات کی فعالیت میں یہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہمارے عضلات کا بھی اہم حصہ ہے اور ان کے فعل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح جسم کے اعصاب میں جو برقی لہر دوڑتی پھرتی ہے اس کی کارگزاری میں بھی پوٹاشیم کا اہم کردار ہے۔ اگر پوٹاشیم کی خون میں کمی بیشی ہو جائے تو اس کا دل کی دھڑکن پر اثر پڑتا ہے، توانائی کے ذخیرہ کرنے میں بھی پوٹاشیم نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پوٹاشیم فشار خون (بلڈپریشر) کو بھی معمول پر لاتا ہے۔ اگر غذا صرف ایک ہی طرح کی نہیں بلکہ مختلف اقسام پر مشتمل ہے یعنی ترکاریاں، سبزیاں، گوشت، پھل، خشک میوہ، دودھ، بغیر چھنے آٹے کی روٹی اور پھلیاں وغیرہ، تو ہماری ضرورت کے لحاظ سے پوٹاشیم مل جاتا ہے۔ مگر اس زمانے میں چونکہ بالعموم غذا متوازن نہیں کھائی جاتی، اس لیے پوٹاشیم کی قلت ہو سکتی ہے۔ وسائل رکھنے والا فرد روزانہ جو غذا کھاتا ہے، بشرطیکہ وہ مختلف النوع ہو تو اس سے ساڑھے تین گرام پوٹاشیم روزانہ مل سکتا ہے جو ہماری جسمانی ضروریات کے لحاظ سے کافی ہے۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تندرست آدمی جو ملی جلی غذائیں کھاتے ہیں، جن میں نارنگی کے قسم کے پھل بھی ہوں وہ قلتِ پوٹاشیم میں مبتلا نہیں ہو سکتے لیکن بعض حالتیں ایسی ہوئی ہیں جن میں یہ قلت واقع ہو سکتی ہے اور بعض دفعہ کچھ حالات کے تحت جسم سے پوٹاشیم کا بے تحاشہ اخراج بھی ہو سکتا ہے۔ بعض امراض گردہ میں پیشاب میں ضرورت سے زیادہ پوٹاشیم خارج ہو جاتا ہے۔ جو ذیابیطس قابو سے باہر ہو، اس میں بھی زیادتی پیشاب کے ساتھ پوٹاشیم بھی کثرت سے خارج ہو جاتا ہے۔ قے اور اسہال میں بھی پوٹاشیم کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس زمانہ میں پوٹاشیم کی کمی کی ایک نئی وجہ پیشاب آور ادویہ کا استعمال ہے۔ یہ ادویہ بلند فشارخون، قلبی دمہ اور استسقا کے علاج میں استعمال کی جاتی ہیں۔ ان ادویہ سے دل کے پرانے مریض اور ان کے لواحقین واقف ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ بات بتانے اور جاننے کی ضرورت ہے کہ جب بھی جسم میں پوٹاشیم کی کمی کسی وجہ سے بھی ہو جائے وہ شخص بہت نقاہت محسوس کرتا ہے۔ سخت گرمی کے عالم میں پسینہ آنے سے بھی سوڈیم اور پانی کثیر مقدار میں جسم سے خارج ہو جاتا ہے تو جسم کے خلیات کے اندر پوٹاشیم باہر آ کر سوڈیم کی قائم مقامی کرتا ہے تاکہ جسم کے اندر توازنِ نمکیات درست رہے، لیکن پوٹاشیم کی نقل مکانی سے، خلیات میں پوٹاشیم کی قلت ہو جاتی ہے۔ اگر اس وقت پوٹاشیم جسم میں داخل نہ کیا جائے تو ان مریضوں کو سخت کمزوری محسوس ہوتی ہے چنانچہ جو لوگ پیشاب آور دوا لیتے ہیں جن کو سخت گرمی میں پسینہ آتا ہے یا لو لگ جاتی ہے یا قے اور اسہال میں مبتلا ہوتے ہیں اور وہ پوٹاشیم کھا کر اس کی کمی کو پورا نہیں کرتے، وہ سخت نقاہت محسوس کرتے ہیں۔ جب بھی پوٹاشیم کی کمی واقع ہو جائے تو منہ میں خشکی، پیاس، نقاہت، غنودگی، پیشاب میں کمی ہوتی ہے، پٹھوں میں درد اور بل پڑتے ہیں، دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی آتی ہے۔ سرعت قلب اور اختلاج قلب کے دورے پڑ سکتے ہیں۔ پوٹاشیم اکثر غذاؤں میں موجود ہے۔ مندرجہ ذیل غذاؤں میں پوٹاشیم تقریباً 100 ملی گرام مقدار میں ہوتا ہے: کیلا نصف، چکوترا نصف، پالک ایک پیالی، نارنگی ایک، عرق نارنگی چوتھائی پیالی، عرق ٹماٹر چوتھائی پیالی، سردا آٹھواں حصہ، پھلیاں چوتھائی پیالی، دالیں چوتھائی پیالی، اخروٹ 12 عدد، آلو ایک، بادام 15 عدد، خوبانی ایک، آلوبخارا ایک۔۔