نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    3,201
    شکریہ
    650
    709 پیغامات میں 735 اظہار تشکر

    مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

    مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
    مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے

    انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے
    تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے"

    مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
    کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے

    بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے، حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
    قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ، ملاقات کا دن بدلتے بدلتے

    ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسّم میں پھر آ گئے ہم
    ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

    بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
    اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے اُدھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے

    وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک، ہوئی شمع گُل اور نہ ڈوبے ستارے
    قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے
    استاد قمر جلالوی​

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    Maria (10-25-2019)

  3. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2019
    پيغامات
    566
    شکریہ
    598
    443 پیغامات میں 447 اظہار تشکر

    جواب: مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

    عمدہ اور خوب صورت غزل

اس موضوع کے کلیدی الفاظ (ٹیگز)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University