نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    2,538
    شکریہ
    641
    700 پیغامات میں 726 اظہار تشکر

    دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے

    دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے
    جب سے ہم اُن کو میسر ہو گئے
    ہم جو کہلائے طُلوعِ ماہتاب
    ڈوبتے سُورج کا منظر ہو گئے
    شہرِ خوباں کا یہی دستورہے
    مُڑ کے دیکھا اور پتھر ہو گئے
    بے وطن کہلائے اپنے دیس میں
    اپنے گھر میں رہ کے بے گھر ہو گئے
    سُکھ تری میراث تھے،تجھ کو ملے
    دُکھ ہمارے تھے،مقدر ہو گئے
    وہ سر اب اُترا رگ وپے میں کہ ہم
    خود فریبی میں سمندر ہو گئے
    تیری خود غرضی سے خود کو سوچ کر
    آج ہم تیرے برابر ہو گئے
    پروین شاکر

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    Maria (10-25-2019)

  3. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2019
    پيغامات
    566
    شکریہ
    598
    442 پیغامات میں 446 اظہار تشکر

    جواب: دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے

    خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس موضوع کے کلیدی الفاظ (ٹیگز)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University