حکایت سعدی: مرید کی پٹائی

بیان کیا جاتا ہے، کسی بزرگ کا ایک مرید تُرک درویشوں کی محفل میں شامل ہوا اور ان کا گانا بجانا سن کر اس پر ایسی بے خودی چھائی کہ اس نے سازندوں کے ساز توڑ ڈالے۔ اس حرکت پر درویش بگڑ گئے اور انہوں نے اس شخص کی خوب مرمت کی۔ مار کھا کر یہ مرید صاحب اپنے پیر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان پر جو تشدد ہوا تھا اس کا حال سنایا۔ پیر نے ساری بات سن کر کہا کہ بیٹے! اگر تُو یہ نہیں چاہتا کہ تیرے چہرے کو دف کی طرح تھپڑ مار کر سرخ کیا جائے تو اپنا سر جھکا لے بزمِ رنداں میں سلامت رہ نہیں سکتے حواس عافیت چاہے تو ایسی بزم میں شامل نہ ہو بزمِ ہستی میں خِرد کی رہنمائی کر قبول ہوش میں رہ، جوش مدھم کر، سراپا دِل نہ ہو اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے ایسی محفلوں میں شرکت سے روکا ہے جہاں انسان کی عقل پر جذبات غالب آ جایا کرتے ہیں اور وہ ایسی حرکات کر گزرتا ہے جنہیں کوئی شریف آدمی پسند نہیں کرتا۔ برائی سے بچنے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ آدمی برے لوگوں اور ان کی محفلوں سے دور رہے اور لہوولعب کے خیالات کو ذہن سے بالکل نکال دے۔