سزائے موت بذریعہ ہاتھی


محمد ریاض

سزائیں آج بھی دی جاتی ہیں اور ماضی میں بھی دی جاتی تھیں۔ عموماًیہ نظامِ انصاف کے ذریعے اور قانون کے تحت دی جاتی تھیں اور ہیں لیکن متعدد مرتبہ ایسا نہیں بھی ہوتا۔ ماضی میں اکثر ایسا ہوتا کہ کبھی مطلق العنان حاکم اور کبھی کوئی طاقت ور قبیلہ زیردستوں کو من مانی ’’سزائیں‘‘ دے ڈالتا۔ کبھی سزائیں اقتدار کے کھیل کا ایک حصہ ہوتیں۔ بادشاہ کے انتقال پر وارثوں میں اقتدار کی لڑائی چھڑ جاتی اور پھر جو حلقہ کامیاب ہوتا اکثر دوسرے کو مجرم قرار دیتا۔ یورپ میں عہدوسطیٰ میں یوں بھی ہوا کہ کسی کو چڑیل یا جادوگرنی قرار دے کر زندہ جلا دیا گیا۔ اس عہد میں مسلسل سنگ باری سے اذیت ناک موت دی جاتی رہی۔ مغل دربار سے وابستہ ایک کنیز کو دیوار میں چننے کی داستان سے تو ہم سب واقف ہیں ہی۔ غرضیکہ تاریخ میں ایسی دردناک اور ظالمانہ سزائیں دی جاتی رہی ہیں جن کا آج تصور کرنا محال ہے۔ ان میں سے ایک سزا ہاتھی سے کچلنا تھی۔ ایشیائی ہاتھی کا وزن 54 سو کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے اور جنگلی افریقی ہاتھی کا 27 سو کلوگرام کے قریب۔ افریقہ کے سبزہ زاروں میں پائی جانے والی ہاتھی کی ایک قسم کا وزن سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ 6 ہزار کلوگرام کے لگ بھگ وزنی ہوتے ہیں۔ ہاتھی ایشیائی ہو یا افریقی، اتنا بھاری ہوتا ہے کہ اس کا پاؤں سینے پر پڑ جائے تو انسان کی جان چلی جائے۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ ہاتھی سے انسان کو مارنے کا خیال سب سے پہلے کسے آیا لیکن اتنا ضرور ہے کہ زمانہ قدیم سے بعض علاقوں میں بطور سزا ’’مجرموں‘‘ کو ہاتھیوں کے ذریعے کچلا جاتا تھا۔ ظاہر ہے اس سزا کا رواج ان علاقوں میں تھا جہاں ہاتھی پائے جاتے تھے۔ یہ سزا بالخصوص برصغیر میں رائج رہی اور اس کے لیے ایشیائی ہاتھیوں کواستعمال کیا جاتا۔مغل بادشاہوں کی جانب سے لوگوں کو ایسی سزاؤں کا ذکر مختلف دستاویزات میں درج ہے۔ 1330ء کی دہائی میں دہلی آنے والے مشہور سیاح ابن بطوطہ نے ایک وزیر کی جان لینے کی کوشش پر دی جانے والی ایسی ہی سزا کا احوال بیان کیا ہے۔ برصغیر میں مراٹھا حکمران بھی ہاتھیوں سے ’’مجرموں‘‘ کو مارا کرتے تھے۔ میانمار اور ملائیشیا جیسے ممالک میں اس طرح کی سزاؤں کا پتا زمانہ قدیم کے شواہد سے چلتا ہے۔ مانو سمرتی ہندو قوانین کی ایک قدیم کتاب ہے جسے تقریباً دوسری صدی عیسوی میں لکھا گیا۔ اس میں بہت سے جرائم کی سزا ہاتھیوں سے کچلنے کو قرار دیا گیا ہے۔ اس کام کے لیے ہاتھیوں کو سدھایا جاتا تھا اور وہ ایک ہی بار یا اذیت دے دے کر مارنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ سزائیں وہی دے سکتے تھے جن کے پاس ہاتھی جیسے بڑے جانور پالنے اور سدھانے کی استطاعت ہو۔