اولاد کی اصلاح

حضرت یوسف ؑکے برادران سے کبیرہ اور شدید گناہ سرزد ہوئے ۔حضرت یعقوبؑ نے صاحبزادوں سے قطع تعلق کرنے یا ان کو نکالنے کی بجائے انہیں مصر سے غلہ لانے کے لیے بھیجا۔ اور انہیں معاف کر دیا۔ بالآخر وہ سب اپنی خطاؤں پر نادم اور گناہوں سے تائب ہوئے اس سے معلوم ہوا کہ اگر اولاد سے کوئی گناہ و خطا سر زد ہو جائے تو باپ کو چاہیے کہ تربیت کر کے ان کی اصلاح کی فکر کرے ، اور جب تک اصلاح کی امید ہو قطع تعلق نہ کرے۔ہاں اگر اصلاح سے مایوسی ہو جائے اور ان کے ساتھ تعلق قائم رکھنے میں دو سروں کے دین کا ضرر محسوس ہو تو پھر قطع تعلق کر لینا مناسب ہے۔