ٹالسٹائی کی زندگی کا اہم موڑ

محمد یٰسین
ٹالسٹائی روس کے ایک خوشحال اور متمول زمیندار گھرانے میں 1828ء میں پیدا ہوا۔ وہ ابھی پورے دو سال کا بھی نہیں ہوا تھا کہ والدہ نے داغِ مفارقت دے دی اور چند ہی برسوں میں وہ باپ کی شفقتوں سے بھی محروم ہو گیا۔ اس کی ابتدائی تعلیم و تربیت رشتہ کی چچی کے سپرد ہوئی جس نے اس ہونہار بچے کی بڑی محبت سے نگہداشت کی۔ بچپن ہی سے ٹالسٹائی اپنے بھائی بہنوں کے مقابلہ میں زیادہ ذہین، طباع اور حساس تھا۔ اس کی بہن کے بقول لڑکپن میں اس کی مثال روشنی کی کرن کی طرح تھی جو اپنی مسکراہٹوں سے لوگوں کا دل موہ لیتا اور انہیں اپنی نئی دریافتوں کے بارے میں بتانے میں فخر محسوس کرتا تھا۔ ان خصوصیات کے باوجود ٹالسٹائی پڑھائی لکھائی کی طرف زیادہ متوجہ نہیں ہو سکا اور نہ ابتدائی دور میں اس کے ہاں بحیثیت مصنف کسی غیر معمولی ذہانت کا پتہ چلتا ہے۔ وہ جس معاشرہ کا فرد تھا اس میں سماجی امتیاز کو سب سے اہم تصور کیا جاتا تھا چنانچہ ٹالسٹائی بھی رفتہ رفتہ ایسی ہی شخصیت کا مالک ہو گیا۔ وہ زمیندار طبقہ کے محبوب مشاغل یعنی شکار، کسرت، موسیقی، تاش اور حسن پرستی کو زندگی کی برکت سمجھتا تھا۔ اپنی ڈائری کے ابتدائی مندرجات میں اس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’ زندگی میں یک طرفہ پن انسان کو خوشیوں سے محروم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔‘‘ دیوانی جوانی کی دلچسپیوں اور مشغلوں کے باوجود ٹالسٹائی کے ہاں عنفوان شباب ہی سے تصنیف و تالیف سے شغف کا رجحان ملتا ہے۔ 18 سال کی عمر میں اس نے اپنی ڈائری لکھنی شروع کی۔ ان اوراق میں بھی ہم نوخیز مصنف کے انتخاب اور تجزیہ کا غیرشعوری عمل محسوس کرتے ہیں۔ ٹالسٹائی کی باقاعدہ ادبی زندگی کی ابتدا 24 سال کی عمر میں ہوئی جب روسی جریدہ The Contemporary نے 1852ء کے ستمبر کے شمارہ میں اس کی کتاب ’’بچپن‘‘ کو L. N. کے فرضی نام سے شائع کیا۔ ٹالسٹائی کی ادبی زندگی میں ذہنی جودت کے علاوہ مشاہدہ اور مطالعہ کا خاص حصہ ہے۔ بچپن ہی سے اسے روسی عوامی کہانیوں اور بائبل کے قصوں سے بڑی دل چسپی تھی۔ ان کے علاوہ وہ پریوں کی کہانیوں اور الف لیلیٰ کے قسم کے افسانوں سے بھی بہت اثر قبول کرتا رہا۔ 14 سے 20 سال کی عمر کے دوران میں اس کا مطالعہ وسیع ہوتا گیا اور وہ روسی ادب کے علاوہ انگریزی اور فرانسیسی ادبیات کے شاہکاروں سے بھی فیضیاب ہوا۔ ’’انجیل مقدس‘‘، روسو کی ’’اعترافات‘‘، ڈکنز کا ناول ’’ڈیوڈ کاپرفیلڈ‘‘ گوگول کی تحریر ’’مردہ روحیں‘‘، ترگنیف کی ’’شکاری خاکے‘‘ اور لرمنتوف کی تصانیف نے اس متاثر کیا۔ اس دوران میں اس نے اسٹرن کے ناولوں، شیکسپیئر کے ڈراموں اور فرانسیسی و کلاسیکی یونانی المیہ ڈراموں کا بھی خصوصی مطالعہ کیا۔ ٹالسٹائی کے مطالعہ کی دوسری فہرست جو 1848ء سے 1863ء کے عرصے پر مشتمل ہے، نسبتاً مختصر ہے لیکن اس کی مخصوص اہمیت ہے۔ اس دور میں اس کی گوئٹے اور ہیوگو کی مشہور تصانیف کے علاوہ روسی شاعروں کے کلام، ہیومر کی رزمیہ نظموں کے تراجم اور افلاطون کے مکالمات سے گہری دل چسپی کا ثبوت ملتا ہے۔ ادبیات کے علاوہ وہ روسی، فرانسیسی اور انگریزی تاریخ کا بھی غائر مطالعہ کرتا رہا۔ اس میں کلام نہیں کہ ٹالسٹائی کی ذہنی تربیت اس کے معاصرین کے مقابلے میں زیادہ اچھی طرح ہوئی۔ اس کے ایک نقاد نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اٹھارہویں صدی کی ’’روشن خیالی‘‘ اور انیسویں صدی کی ’’اخلاقیت‘‘ کا بہترین امتزاج پیش کرتا ہے۔ ابتدائی دور میں ٹالسٹائی فنون لطیفہ اور سائنس کے متعلق کچھ زیادہ اچھی رائے نہیں رکھتا تھا۔ البتہ فلسفہ سے اس کی دلچسپی نسبتاً زیادہ گہری تھی۔ اس کے بقول زیادہ خوشی اور فراغت کے لیے جدوجہد ہے لہٰذا ہمیں سچی خوشی کی تلاش اپنے اندر کرنا چاہیے۔ ذہنی اور قلبی سکون کے لیے داخلی طمانیت ضروری ہے۔ یہی نہیں بلکہ انسان کو اپنے نفس کو اس طرح قابو میں رکھنا چاہیے کہ اسے زندگی کی تمام تر خوشیاں نصیب ہو سکیں۔ یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ روسی ادب کے دونوں اہم مشاہیر یعنی دستووسکی اور ٹالسٹائی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ترجمہ سے کیا۔ دستووسکی نے فرانسیسی ناول نگار بالزاک کی تصنیف ’’ Eugene Grandet‘‘ کا ترجمہ کیا اور ٹالسٹائی نے انگریز مصنف اسٹرن کی مشہور کتاب ’’سینٹی مینٹل جرنی‘‘ کو ترجمے کے لیے منتخب کیا۔ اگرچہ وہ ایک تہائی سے زیادہ اس ناول کا ترجمہ نہ کر سکا لیکن اسٹرن کے ہاں جذبات کی ترجمانی اور خوش مذاقی کے لطیف اشارے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ٹالسٹائی کو یہ خصوصیات پسند تھیں۔ اسٹرن کا سب سے واضح اثر ٹالسٹائی کے نامکمل افسانے ’’کل کی کہانی‘‘ (A History of Yesterday) میں موجود ہے۔ اس کہانی میں جو 1851ء میں شائع ہوئی، مصنف نے اپنے دور کے رشتہ داروں کے ساتھ ایک شام کے تاثرات کو قلمبند کرنے کی کوشش کی ہے۔ سفر سے واپسی کے دوران میں جب وہ کوچوان کی زندگی پر تبصرہ کرتا ہے تو اس پر نیند کا غلبہ ہونے لگتا ہے اور پھر وہ خوابوں کی مختلف تعبیرات پر قیاس آرائی کرنے لگتا ہے۔ بقول مصنف کے، وہ کل کی روداد میں اس لیے دل چسپی لے رہا ہے کہ وہ ایک دن کی روداد کو تمام تر داخلی کیفیات اور قلبی واردات کے آئینہ میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ اس افسانہ میں اسٹرن کی طرح افسانہ در افسانہ اور ’’گریز‘‘ (Digression) کی تکنیک بخوبی برتی گئی ہے۔ لفظی رعایتوں اور مکالموں سے ابتدائی دور میں ٹالسٹائی کی فنی دلچسپیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ ٹالسٹائی کی حساس اور جوشیلی طبیعت کو نصابی تعلیم سے کوئی خاص دل چسپی پیدا نہیں ہوئی چنانچہ وہ کازان یونیورسٹی سے ادبیات یا قانون کی کوئی سند نہیں حاصل کر سکا۔ تعلیم کی اس کمی کو اس نے ذاتی مطالعہ سے پوری کرنے کی کوشش کی مگر طبیعت کی افتاد کچھ ایسی تھی کہ وہ ہمیشہ بے چین رہنے لگا۔ خوش قسمتی سے جب 1851ء میں اسے اپنے بھائی نکولس کے ساتھ قفقاز (قازقستان) جانے کا موقع ملا تو گویا دل کی کلی کھل گئی۔ اس ماحول میں آکر اس پر وجد سا طاری ہو گیا اور وہ اس علاقہ کے فطری مناظر سے بے حد مسرور ہوا۔ شاید قفقاز کے مناظر ہی کا اثر تھا کہ اس نے اپنی گزشتہ زندگی کے اوراق کو الٹ کر انہیں باقاعدہ طور پر مرتب کرنا شروع کیا۔ ’’بچپن‘‘ میں سرگزشت کی یہ نئی ترتیب تاریخ نہ تھی، اس وجہ سے اس کو افسانہ کہا گیا۔ 1852ء میں ٹالسٹائی نے روس کے مقتدر جریدہ The Contemporary کے ایڈیٹر نکراسوف کو لکھا کہ میرے مسودہ یعنی ’’بچپن‘‘ پر ایک نظر ڈال کر مجھے بتائیے کہ کیا یہ اس قابل ہے کہ اسے آپ کے رسالہ میں جگہ مل سکے۔ اگر یہ آپ کے معیار پر پورا نہ اتر سکے تو آپ اپنی رائے کے ساتھ مسودہ مجھے واپس کر دیں۔‘‘ اس دوران میں وہ کبھی اپنے کارنامہ پر اطمینان کی سانس لیتا اور کبھی بے حد مایوس ہو جاتا تھا۔ تقریباً دو ماہ کے بعد اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا جب ایڈیٹر نے اسے اطلاع دی کہ اس کا مسودہ اشاعت کے لیے منظور کر لیا گیا ہے۔ اگرچہ ٹالسٹائی کو اس کا کوئی معاوضہ نہیں ملا لیکن ایڈیٹر نے آئندہ تصانیف کے لیے معقول نذرانہ کی پیشکش کی۔ بہرحال جب کتاب چھپی تو تبصرہ نگاروں نے یہ رائے ظاہر کی کہ اگر گمنام مصنف کا یہ پہلا افسانہ ہے تو ہمیں روسی ادب کے افق پر ایک نئے ابھرتے ہوئے ستارے کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ یہی نہیں بلکہ ترگنیف اور دستووسکی دونوں مشاہیر نے رسالہ کے ایڈیٹر سے مصنف کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جب افسانہ ’’بچپن‘‘ منظر عام پر آیا تو ٹالسٹائی نے اپنے ناشر سے اس بات کی شکایت کی کہ اس نے کتاب کا عنوان ’’میرے بچپن کی کہانی‘‘ کچھ زیادہ صحیح نہیں رکھا اس لیے کہ اس کا خیال تھا کہ وہ اس کتاب میں اپنے بچپن کی کہانی نہیں بلکہ اپنے بچپن کے ساتھیوں کی کہانی لکھنا چاہتا تھا۔ کہتے ہیں کہ ’’بچپن‘‘ کی تصنیف میں ٹالسٹائی غیر شعوری طور پر گوئٹے، شارلٹ برانٹے اور ڈکنز سے متاثر ہوا لیکن حقیقت یہ ہے کہ قفقاز میں قیام کے دوران خودبخود اسے اپنی سرگزشت لکھنے کی تحریک ہوئی اور اس صنف میں اس نے اپنی الگ راہ نکالی۔ ممکن ہے اس کارنامہ کو کچھ لوگ منتشر خیالات کا مجموعہ قرار دیں مگر بیشتر نقادوں نے ٹالسٹائی کے اسلوبِ بیان کی بے حد تعریف کی ہے اور یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس تصنیف میں بھی ڈکنز کی تفصیل نگاری کے ساتھ اسٹنڈ ہال کا نفسیاتی تجزیہ موجود ہے۔