جیسی ہے وہ ہمیں تو، محبوب سی لگے ہے
سب روشنی اسی سے منسوب سی لگے ہے
پھر موسم تمنا، باران اشک لایا
خوابوں کی ہر خیاباں مرطوب سی لگے ہے
اُس بات کا حوالہ بدلا گیا ہے شاید
ناخوب تھی جو پہلے اب خوب سی لگے ہے
نکلے کشید ہو کر، لب کی گلاہیوں سے
ایسے سخن کی تلخی مرغوب سی لگے ہے
جس رخ سے منعکس ہوں کرنیں دو چند ہو کر
ہر چیز اُس کے آگے معیوب سی لگے ہے
خود کو چھپائے رکھے آنکھوں کی اوڑھنی میں
وُہ بے حجابیوں میں محبوب سی لگے ہے
ہر وقت دھیان میں ہے اور دھیان سے پرے بھی
یہ زندگی تو ہم کو مجذوب سی لگے ہے

آفتاب اقبال شمیم