نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    573
    شکریہ
    170
    121 پیغامات میں 139 اظہار تشکر

    جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا

    جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا
    اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا
    دل صداقتیں مانگے خیر و شر کی دنیا میں
    وہم ہے محبت کا سب سے دوستی کرنا
    کیوں پسند آیا ہے لا مکاں کی وسعت کو
    میرا، چند گلیوں میں سیرِ زندگی کرنا
    آ دماغ روشن کر، یہ چراغ روشن کر
    ظلمتوں میں اچھا ہے شغلِ مے کشی کرنا
    اے امامِ صحرا تُو آج کی گواہی دے
    شرطِ آدمیت ہے جبر کی نفی کرنا
    موتیے کی خوشبوئیں مل رہی ہیں یادوں میں
    اس سمے تو آنکھوں کو چاہئے نمی کرنا
    عشق میں مقلد ہیں ہم طریق ”غالب” کے
    مہ رُخوں سے سیکھنا ہے ہم نے شاعری کرنا
    آفتاب اقبال شمیم

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,121
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    جواب: جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا

    موتیے کی خوشبوئیں مل رہی ہیں یادوں میںاس سمے تو آنکھوں کو چاہئے نمی کرنا
    عشق میں مقلد ہیں ہم طریق ”غالب” کے
    مہ رُخوں سے سیکھنا ہے ہم نے شاعری کرن
    بہت اعلی جناب
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  3. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    حبیب صادق (11-11-2019)

  4. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    573
    شکریہ
    170
    121 پیغامات میں 139 اظہار تشکر

    جواب: جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا

    بہت بہت شکریہ

اس موضوع کے کلیدی الفاظ (ٹیگز)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University