حکومت نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ خود دیکھے: نیب

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے معاملے پر موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت خود اس معاملے کو دیکھے۔


دنیا نیوز ذرائع کے مطابق نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے کیونکہ نیب نے ان کا نام واپس وزارت داخلہ کو بھجوا دیا ہے۔ وزارت داخلہ نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ نیب کو بھیجی تھی۔


قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے جواب میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ خود سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے معاملےکا جائزہ لے۔


ذرائع کے مطابق نواز شریف نے پروگرام کے مطابق آج قطر ائیرویز کی پرواز سکس ٹو نائن سے براستہ دوحہ لندن روانہ ہونا تھا، تاہم ان کی ٹکٹیں کینسل کروا کر روانگی منسوخ کر دی گئی ہے۔


شہباز شریف اور ڈاکٹر عدنان کی نشستیں بھی کینسل کروا دی گئی ہیں۔ انہیں بھی نواز شریف کے ہمراہ اسی پرواز سے روانہ ہونا تھا۔ نواز شریف کی روانگی کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔


رات گئے صوبائی وزیر صحت کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ کے اجلاس ہوا جس میں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور ہوا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نواز شریف کو تمام طبی سہولیات ایک ہی چھت تلے ملنی چاہیں۔ادھر خبریں ہیں کہ نواز شریف کی حالت بدستور تشویشناک ہے، ان کے پلیٹ لیٹس سیلز میں کمی بدستور جاری ہے۔ انھیں مرکزی لندن کے ایک نجی ہسپتال میں نواز شریف داخل کرانے کے انتظامات مکمل ہیں، جہاں ان کی طبی ٹیم کو بھی تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔


لندن میں موجود پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف کو اُسی ہسپتال میں داخل کروانے کے انتظامات کیے گئے ہیں جہاں وہ ماضی میں بھی زیرِ علاج رہ چکے ہیں۔


ترجمان (ن) لیگ مریم اورنگزیب نے ایک بیان مین بتایا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک لے جانے والی ائیر ایمبولینس بدھ کو پہنچے گی۔ ڈاکٹروں نے نواز شریف کی نازک صحت دیکھتے ہوئے ایئر ایمبولینس کا انتظام کرنے کا کہا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق ڈاکٹروں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد قابل سفر سطح پر لانے کیلئے ڈاکٹر کل طبی معائنہ کریں گے۔
نیب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوابدیدی اختیار کے تحت نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ کرے، اس طرح کے مختلف مقدمات میں حکومت پہلے بھی اپنے اختیارات استعمال کر چکی ہے۔ وفاقی حکومت ایسا میکینزم بھی بنائے کہ نواز شریف عدالتوں میں زیر التوا مقدمات اور تحقیقات کے لیے بوقت ضرورت حاضر ہوں۔


اس سے قبل مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی جبکہ وزارت داخلہ نے خط کے ذریعے معاملہ نیب کو بھیج دیا تھا۔