آساں نہیں ہے جادۂ حیرت عبورنا
حیراں ہوئے بغیر اِسے مت عبورنا
میرے خلاف کوئی بھی بکتا رہے مگر
سیکھا ہے میں نے سرحدِ تُہمت عبورنا
صد آفریں! خیال تو اچّھا ہے واقعی
آنکھوں کو بند کرکے محبّت عبورنا
آوارگانِ عشق! ذرا احتیاط سے
وحشت کے بعد لذّتِ شہوت عبورنا!!
تعمیرِ ماہ و سال میں تاخیر کے بغیر
کس کو روا ہے عرصۂ مُہلت عبورنا؟
جُزوِ بدن بنے گا تو باہر بھی آئے گا
یہ زخم تھوڑی دیر سے حضرت! عبورنا
افتخار فلک