اس کی آنکھوں میں خون اترا ہے بھائی… مہر بخاری
سیاست اس وقت دو انتہائوں پر کھڑی ہے۔ ایک انتہا وہ ہے جس کے کردار مولانا صاحب ہیں۔ آزادی مارچ اس وقت جس کیفیت میں مبتلا ہے‘ یوں لگتا ہے اس کی آنکھوں میں خون اترا ہے۔ میں نے یہ منظر کنٹینر میں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ مولانا صاحب جو بازی کھیل رہے ہیں اس کی ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ ہر قیمت سے مراد، لاشیں، ملک میں انارکی، حتیٰ کہ استبدادی حکومت بھی۔ ایک ملاقات کا احوال جس کے دو ورژن ہیں۔ مولانا صاحب بقلم خود یوں بیان کرتے ہیں کہ دھمکی بڑی سرکار نے نہیں انہوں نے بڑی سرکار کو دی ہے۔ بقول ان کے انہیں ملوکیت میں اسیری تو قبول ہے مگر اس حکومت میں ایسی آزادی ہرگز قبول نہیں۔ ایک منتخب وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کی اتنی بھاری قیمت وہ سیاستدان ادا کرنے جا رہا ہے‘ جس کا ماضی میں کردار ہمیشہ ایک پُل کا رہا ہے‘ جس نے ہمیشہ اپنی سیاسی بصیرت، حکمت اور مفاہمت سے اپنے لیے سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے۔ وہ پچاسی سے اب تک پانچ حکومتوں کا حصہ رہے۔2002 سے 2007 تک بلوچستان میں ق لیگ کے ساتھ حکومت بنائی اور ساتھ مرکز میں کم سیٹوں کے باوجود حزب اختلاف میں بھی رہے۔ مولانا صاحب سیاست کے کچے کھلاڑی تو تھے نہیں کہ ان سے توقع رکھی جاتی کہ وہ کسی دن اسلام آباد کی حدود میں 126 دن کے لیے آ بیٹھیں گے‘ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر دیں گے‘ امپائر کی انگلی سے حکومت مسل دینے کے خواب دیکھیں گے۔ مولانا زیرک سیاستدان ہیں۔ ان سے اس انتہا کی توقع ہرگز نہیں۔ انٹرویو کے دوران مولانا صاحب میرے سوال کے جواب میں میرے اس یقین کو رد کرتے رہے کہ وہ کوئی درمیانی راستہ نکالیں گے‘ ملک کو لاحق خطرات کا خدشہ ظاہر کریں گے‘ اپنی خواہش پر سمجھوتہ کریں گے۔ مولانا صاحب کے پاس انتخابات میں دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ہے‘ حتیٰ کہ کوئی منطق بھی بر نہیں آتی۔ میرا سوال تھا‘ آپ کی خواہش سر آنکھوں پر مگر ملک عدم استحکام کا شکار ہو گا، تو جواب تھا: ہم لاشیں اٹھائیں گے‘ جانیں دیں گے‘ وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا ہو گا۔ میرا اگلا سوال تھا: نئے انتخابات کے لیے مکمل کیئرٹیکر سیٹ اپ ضروری ہے‘ کیا جماعتیں بشمول آپ کے نئے انتخابات کے لیے تیار ہیں؟ جواب توقف میں تھا۔ میں نے پھر سوال کیا: اگر نئے انتخابات ہوئے اور فوج کی نگرانی میں اور پھر اسی حکومت سے واسطہ پڑا تو کیا حکمت عملی ہوگی؟ مولانا صاحب بولے: ہم پھر سڑکوں پر آئیں گے۔ جو سرد مہری دکھائی جا رہی ہے‘ اس کے آگے اسلام آباد کی ٹھٹھرتی راتیں تو کچھ بھی نہیں۔ سیاست کا ماضی گواہ ہے‘ جب مخالف کے آنکھوں میں خون اترے تو سب سے پہلے جن ساتھیوں کے ساتھ پر تکیہ ہوتا ہے‘ وہی رخ بدلنے لگتے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کو اس کا تجربہ سب سے زیادہ ہے مگر پاکستان نیشنل الائنس کی تحریک سیاست کے ماضی کا وہ تلخ تجربہ ہے جسے سوائے سبق نہ سیکھنے والوں کے کوئی فراموش نہیں کر سکتا۔ جنوری 1977ء میں انتخابات کا اعلان ہوا۔ ذوالفقار بھٹو نے 155 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔ الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف پی این اے نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا تھا۔ حکومت کی طرف سے گرفتاریاں شروع ہوئیں‘ جس سے حالات خراب ہو گئے۔ تقریباً بارہ ہفتوں کے بعد 3 جون کو حکومت اور پی این اے کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوا‘ جس میں حکومت سے زخمی افراد کی مالی معاونت، میڈیا پر پی این اے کے خلاف پروپیگنڈا مہم فوری طور پر ختم کرنے اور تحریک کے قائدین کی رہائی جیسے مطالبات کیے گئے۔ مفتی محمود نے دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ بھی کیا‘ گویا مذاکرات میں حکومت اور پی این اے کے مابین اختلاف، نئے انتخابات کی تاریخ، قیدیوں کی رہائی، اسمبلیوں کے توڑنے کی تاریخ، سینیٹ کے نئے اراکین کی رکنیت ختم کرنے کی تاریخ جیسے معاملات زیر بحث تو آتے رہے مگر کوئی حل نہ نکلا۔ پی این اے کی احتجاجی تحریک رکنے میں نہیں آ رہی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں جزوی مارشل لا لگا دیا۔ کراچی سے پشاور تک احتجاج برپا تھا۔ گرفتاریاں کی جا رہی تھیں۔ مقدمے بن رہے تھے۔ ایک دن ایک جوان احتجاج میں آگے بڑھا اور نظام مصطفی کا نعرہ لگایا تو گولی چل گئی۔ دوسرا نوجوان آگے بڑھا تو ایک اور گولی چلائی گئی۔ یوں چند بپھرے ہوئے نوجوان مارے گئے‘ مگر دوسرے روز نیلا گنبد کے پاس فوج نے ہجوم پر گولی چلانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اللہ اکبر کہنے والوں پر ہم گولی نہیں چلا سکتے۔ حکم عدولی کرنے والوں کا فوجی کمان نے اپنے قوانین کے تحت محاسبہ تو کیا مگر حکم عدولی کا یہ سلسلہ طویل ہوتا گیا۔ ایک شام ذوالفقار علی بھٹو اپنی آرام گاہ پر موجود تھے۔ ان کا خادمِ خاص‘ جسے وہ پیار سے نورا کہتے تھے‘ بھاگتا ہوا آیا اور کہا: بڑے صاحب‘ باہر فوجی آئے ہیں۔ بھٹو کو گمان گزرا کہ ضیا کے ماتحت کچھ فوجیوں کی شرارت ہو گی۔ مسٹر بھٹو نے فوج کے سربراہ ضیاالحق کو فون ملایا۔ صورتحال حال سے آگاہ کیا تو جواب ملا کہ وہ اپنی فوج کا ڈسپلن خراب نہیں کر سکتے‘ انہیں یہ کرنا ہی تھا ''ووئی ہیڈ ٹو ڈو اٹ‘‘۔
ماضی کے اس تلخ قصے کی کچھ شباہت موجودہ سیاسی حالات میں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ کل بھٹو صاحب کو گمان تھا دھاندلی کے خلاف معمولی تحریک ہے‘ تھم جائے گی۔ آج خان صاحب کی خام خیالی یہ ہے کہ پولیٹیکل لیجیٹیمیسی کے بغیر مولانا صاحب کتنی دیر اور بیٹھ سکتے ہیں؟ کل بھٹو کسی پر تکیہ کر رہے تھے‘ آج عمران خان ویسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اب تک تو سب او کے کی رپورٹ ہے‘ مگر پانی سر سے گزرنے کا جواز بننے میں دیر کتنی لگتی ہے؟ ایسی انتہائیں سیاست کے اوراق پلٹ دیتی ہیں۔ پھر کچھ بھی رونما ہو سکتا ہے۔ سو احتیاط برتنا لازم ہے۔ سیاسی یُوٹرنز کا کفارہ ادا ہو سکتا ہے مگر غیر سیاسی یُوٹرنز سیاست کے لیے جان لیوا ہوتے ہیں۔ اس بات کا ادراک بہت ضروری ہے‘ آزادی مارچ اور فیض آباد کے دھرنے میں کچھ نہیں تو زمین آسمان کا فرق ہے۔ نہ مولانا صاحب خالصتاً مذہبی بنیادوں پر یہاں بیٹھے ہیں نہ ان کی سیاست اتنی نومولود ہے کہ انہیں وقتی طور نیوٹرل کر لیا جائے۔ نہ ان کا قد کاٹھ خادم رضوی سے مطابقت رکھتا ہے‘ نہ دونوں کے سیاسی وزن کا کوئی موازنہ کیا جا سکتا ہے‘ نہ ہی مولانا صاحب کا ووٹ بینک خالصتًا مذہبی رہا ہے۔ دائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت عوامی نیشنل پارٹی پر کسی زمانے میں ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی اعلیٰ عدالت کے ذریعے پابندی لگوا دی تھی‘ لیکن مولانا مفتی محمود خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں میں اس کے ساتھ شراکت دار رہے۔ مفتی محمود کا شمار ملک کی ان سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا جو جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہوئیں۔ جب ضیاالحق نے مارشل لا لگایا تو مفتی محمود نے پہل کی‘ نصرت بھٹو کے پاس چل کر گئے اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر ایم آر ڈی کی تحریک چلائیں گے۔ مولانا صاحب ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بی بی محترمہ کو غلام اسحاق کی بجائے نوابزادہ نصراللہ خان کو صدر پاکستان بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس وقت ملکی سیاست میں اگر کوئی با آواز بلند نعرہ لگا رہا ہے تو وہ مولانا صاحب ہیں‘ وگرنہ جرنیلوں کو سینگوں پر اچھالنے والے اور اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کا قصہ ماضی ہوا۔ اول الذکر انتہا کا تذکرہ کچھ طویل ہو گیا۔ اب بات سیاست کی دوسری انتہا کی۔ اس کے کردار سوائے مولانا کے باقی سب ہیں۔ یہ معاملہ اپنی کیفیت میں انتہا اس لیے ہے کہ یہاں ہر ایک نے قدم پیچھے اٹھائے ہیں۔ نہ کوئی غرایا۔ نہ کوئی للکارا۔ نہ طعنہ زنی ہوئی‘ اور نہ کسی ڈیل کا شور اٹھا ہے۔ یہ معاملہ ہے سلاخوں کے پیچھے قید کچھ اہل سیاست کے بیرون ملک جانے کا۔

سیاست کا ایک اور دھنی علاج کی غرض سے بس کچھ ہی لمحوں میں ملک سے باہر پرواز کر جائے گا۔ ماضی سے سبق سیکھنے والے میاں صاحب کی سیاسی زندگی میں نہ جانے ہر بار ایسا موڑ کیوں آ جاتا ہے کہ انہیں مصلحت سے کام لینا پڑتا ہے۔ خیر اس معاملے میں تو حکومت نے بھی بیک وقت ایسا ہی کیا ہے۔ میاں صاحب اور مشرف کے مابین نفرتوں کی انتہا تھی۔ جمہوریت بحالی تحریک چلانے پر بی بی اور نوابزادہ نصراللہ کا ن لیگ کے ساتھ اتفاق ہوا۔ اس دوران میاں صاحب ایک ڈیل پر دستخط کرکے سعودی عرب چلے گئے۔ اے پی ڈی ایم میں بھی سیاسی جماعتوں کا گلہ یہ تھا کہ انہیں استعفوں پر راضی کرکے میاں صاحب خود الیکشنز میں اتر گئے۔ اب کی بار مر جائوں گا‘ ملک سے باہر نہیں جائوں گا اور مر جائوں کا این آر او نہیں دوں گا‘ فریقین یُو ٹرن کی انتہا پر کھڑے ہیں۔ خبریں گردش میں ہیں کہ مریم نواز بھی ایک ہفتے کی تاخیر سے ابا کی تیمارداری کے لیے ملک سے روانہ ہو جائیں گی۔ شاید خان صاحب بھی سمجھ گئے ہیں کہ بیک وقت سبھی جماعتوں سے چھیڑ چھاڑ مناسب نہیں۔ عمران خان مشہور ملٹری سٹریٹیجسٹ سن رو کی حکمت پر عمل کر رہے ہیں‘ جس کے مطابق حریف کو اتنا تھکا دو اور انتظار کرائو کہ آپ آدھی جنگ جیت چکے ہوں۔ آنے والے وقتوں میں ایک بڑا لیڈر باہر دوسرا بڑا لیڈر پمز کے ایگزیکٹو وارڈ میں مگر ستم ظریفی یہ ہے بھٹو اسی حکمت پر چلے اورآج ہم میں نہیں رہے۔