کشمیر کی سیاہ تاریکی ،عندلیب عباس

دنیا سے کٹا ‘ محاصرے میںگھرا‘ ہر قدم سنگینوں کا پہرہ‘ یہ ہے دنیا کی سب سے بڑی انسانی جیل ۔ یہ چند الفاظ اس خوبصورت وادی پر چھائی ظلمت کی گھٹا کو بیان کرتے ہیں ۔ 27 اکتوبرکو مقبوضہ کشمیر میں یوم ِ سیاہ منایا گیا۔ 27 اکتوبر 2019 ء کو کشمیرمیں غیر معمولی تاریکی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ تاریکی صرف یہ نہیں کہ تمام ذرائع مواصلات منقطع ہیں‘ بلکہ یہاں انسانیت سیاہ دلدل میں دھنس رہی ہے‘ ہیبت ناک اندھیرا روشنی کے درپے ہے ۔ انسانی تاریخ اس طرح کے قوانین اور انسانی اقدار کی پامالی کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ تقرییاً ایک سو دن طویل محاصرے کی وحشت ناکی‘ اور اس عالم میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیر میں سفاک سیاست اور اندھی طاقت کا استعمال بچی کھچی روشنی کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
1947 ء کی کشمیر کہانی ایک سانحہ تھی‘ موجودہ حالات اس میں وحشت ناک اضافہ ہیں۔ جب بر صغیر کے لوگوں کو آزادی نصیب ہوئی تو کشمیریوں کے پاس دونوں نوزائیدہ ممالک میں سے کسی کے ساتھ ملنے کا موقع تھا۔ جموں اور کشمیر کی 87 فیصد مسلمان آبادی فطری طور پر پاکستان کو ترجیح دیتی۔ بدقسمتی سے تقسیم ِ ہند کے طے کردہ تمام قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انڈیا نے غیر قانونی طور پر حیدر آباد‘ جونا گڑھ اور کشمیر پر قبضہ کرلیا۔ جموں اور کشمیر کے مطلق العنان حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈین نیشنل کانگرس کے رہنمائوں اور انگزیز افسران کے ساتھ ساز باز کرکے اپنے عوام کو دباتے ہوئے انڈیا کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا۔ اس فیصلے نے کشمیر کا تنازع کھڑا کردیا۔
کشمیری دلیر قوم ہیں‘ اُنہوں نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے بھارتی استبداد کے سامنے سخت مزاحمت کی ۔ اُن کی ثابت قدمی نے بھارتی یلغار کو دفاعی قدموں پر لا کھڑا کیا۔ توہین آمیز شکست کو بھانپتے ہوئے یکم جنوری 1948 ء کو انڈیا یواین سکیورٹی کونسل کی طرف بھاگا تاکہ عالمی قوتیں اس تنازعے کا حل نکالیں۔ سکیورٹی کونسل نے کئی ایک قراردادیں منظور کرتے ہوئے (انڈیا اور پاکستان‘ دونوں نے انہیں قبول کرلیا) کشمیر میں بھارتی قبضہ ختم کرکے وہاں کے عوام کو حق ِ خود ارادیت دینے کا مطالبہ کیا۔ اقوام ِ متحدہ کی زیر ِ نگرانی ہونے والے استصواب ِرائے کے ذریعے اس حق کا اظہار ہونا تھا‘ تاہم ابھی تک اس کی نوبت نہیں آسکی ۔
تاریخ نے خود کو دہرایا ۔ اس مرتبہ نریندرمودی نے مہاراجہ ہری سنگھ کا کردارادا کرتے ہوئے بھارتی آئین میں غیر قانونی تبدیلی کی اور کشمیر پر قبضہ کرلیا۔ کشمیر میں نافذ کیا جانے والا کرفیو اور مواصلات کی بندش اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ بھارتی حکومت شدید ردعمل کی توقع کررہی ہے ۔ وہ جانتی ہے کہ کشمیری کسی طور پر بھارتی تسلط قبول نہیں کریں گے؛ چنانچہ مودی طاقت کے استعمال سے اُنہیں دبانے کی کوشش میں ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں لاوا پھٹنے کو ہے ۔ وحشیانہ تشدد اور ہلاکتوںکی بہت سی رپورٹس آرہی ہیں۔ تنازعے کے شروع سے لے کر اب تک کم و بیش ایک لاکھ کشمیری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ جسمانی تشدد اور آبروریزی کا بطور ایک ہتھیار استعمال بڑھتا جارہاہے ۔ سب سے خطرناک خاموش قاتل اور دباو ذہنی تنائو ہے۔ 2015 ء میں'' ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈرز ‘‘کا کیا گیا سروے ظاہر کرتا ہے کہ اٹھارہ لاکھ کشمیری‘ جوکہ آبادی کا پینتا لیس فیصد ہیں‘ شدید ذہنی دبائو کا شکار ہیں۔ اکتالیس فیصد سے زائد آبادی حزن و درماندگی‘ چھبیس فیصد ذہنی کرب اور انیس فیصد صدمے کی کیفیت سے دوچارہے۔ ایس ایم ایچ ایس میں دماغی امراض کے معالج ڈاکٹر اعجاز احمد خان کا کہنا ہے کہ صورت ِحال بدسے بدترہوتی جارہی ہے ۔بقول ان کے ''پانچ اگست کے بعد ہم نے مریضوں میں ایک تبدیلی دیکھی۔ اب نفسیاتی عارضے میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔کشمیری شدید جذباتی اور ذہنی صدمے کی کیفیت میں ہیں‘‘۔ یہ صدمہ کسی بھی سر کشی کارخ اختیار کرسکتا ہے۔
ذرا تصور کریں کہ خوراک اور ادویہ تک ناکافی رسائی اور گھروں میں قید‘ اور نہیں جانتے کہ یہ عذاب کب ختم ہوگا۔ اس پر مستزاد‘ بے پناہ دبائو‘ ذہنی اذیت‘ خوف اور شدید جذباتی صدمہ۔ بچوں کو نظروں کے سامنے اٹھائے جانے اور خواتین کی تذلیل کا تصور کریں۔ ان جذباتی اور نفسیاتی صدمات کے نتیجے میں غصہ‘ اشتعال اور انتقامی ردِعمل کے جذبات ابھرنا لازمی ہے ۔اسی طرح انتہا پسندی اور جنونیت پروان چڑھتی ہے ۔ برہان وانی کی کہانی بھی یہی تھی۔ یہی ذہنی دبائو‘ تشدد‘ نفسیاتی اذیت انسانوں کو عدم برداشت کی راہ دکھاتی ہے ۔ قبل اس کے کہ کشمیر ایک اور افغانستان بن جائے‘ جہاں ہلاکتیں اور جنگیں زندگی کا ایک معمول بن چکی ہیں‘ پاکستان اور عالمی برداری کو بھار ت پر دبائو برقرار رکھنا چاہیے۔ کشمیر میں روا رکھے جانے والے ظلم وجبر کو بے نقاب کیا جائے۔ اس کے لیے جو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:
1: بچوں اور خواتین پر توجہ : معاشرے کے کمزور افراد‘ جیسا کہ بچوں اور خواتین‘ کی حالت ِ زار اجاگر کی جائے‘ کیونکہ ان پر دنیا زیادہ توجہ دے گی۔ میڈیا پر کشمیری بچوں کے لیے ایک گھنٹہ مخصوص ہونا چاہیے۔ انہیں اپنے جذبات اور اپنے بچپن اور تعلیم سے محرومی ‘اپنے الفاظ میں بیان کرنے کا موقع ملنا چاہیے ۔ اسی طرح کشمیری خواتین کا ہفتہ بھی منایا جائے‘ جس میں آزادکشمیر کی عورتیں مقبوضہ کشمیر میں مجبور اور مقہور بہنوں کی اذیت ناک زندگی کو اجاگر کریں۔
2: جھوٹ بولنے اور سچ چھپانے کی بھارتی کوشش: کشمیر میں حالیہ جارحیت کے بعد مودی اور انڈیا کی ساکھ پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ میڈیا اور اقوام ِ متحدہ اُن کے دعووں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بھارتی موقف پر اٹھنے والے شکوک و شبہات نے پاکستان کو موقع دے دیا ہے ۔ضروری ہے کہ مودی اور بھارتی فوج کی دروغ گوئی اور جھوٹی کہانیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت پیش کیے جائیں۔ پلوامہ کے بعد بھارتی آرمی چیف نے حالیہ دنوں پاکستان میں دہشت گردی کے تین ٹھکانے تباہ کرنے کا من گھڑت دعویٰ کیا‘ لیکن پاک فوج نے عالمی میڈیا کو موقع پر لے جاتے ہوئے تمام حقائق دکھادیے۔ بھارتی ہائی کمشنر کو بھی دعوت دی گئی کہ وہ اپنے آرمی چیف کی دروغ گوئی اپنی نظروں سے دیکھ لیں‘ لیکن انہوں نے گریز کیا۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عالمی رائے سازوں کو ایسے مزید دورے کرائے جانے چاہئیں تاکہ بھارت کے جھوٹے پراپیگنڈے کو بے نقاب کیا جاسکے ۔
3: نوجوان سول سوسائٹی کو متحرک کرنا : طلبا کسی بھی تحریک کی روح ِ رواں ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے امریکی اور یورپی جامعات کی طلبا تنظیموں اور سوسائٹیز کو اس مسئلے سے آگاہ کرنے کے لیے مذاکرات اور مباحث کا انعقاد کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں تعلیم سے محروم کشمیری بچوں اور عقوبت خانوں میں قید نوجوانوں کی حالت ِ زار سے آگاہ کرنا ہوگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مودی اس اُلجھن کا شکار ہوجائے گا کہ کیا وہ کرفیو اٹھائے یادنیا میں اپنے خلاف اٹھنے والی تحریک کا سامنا کرے۔ فی الحال مادیت پرستی اور طاقت کے نشے نے اُس کی آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ د نیا کشمیر پر نظر رکھنے سے کتراتی ہے ۔ پاکستان کے لیے واحد آپشن کشمیر کے مسئلے کو اتنا اجاگر کرنا ہے کہ دنیا جس طرف بھی دیکھے‘ اسے کشمیر پر چھائی وحشت کی تاریکی میں روشنی کے لیے ماتم کناں کشمیری دکھائی دیں۔