ن لیگ کے رویے سے لگتا ہے نواز شریف نے واپس نہیں آنا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ن لیگی قیادت نواز شریف کی صحت کو سیاسی مسئلہ نہ بنائیں، درمیانی اور معقول راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے معاملے پر حکومتی شرائط پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ قانونی نقطہ کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا۔ نواز شریف ایک کیس میں سزا یافتہ ہیں۔ کسی سزا یافتہ شخصیت کے باہر جانے کی نظیر نہیں ملتی۔

دنیا نیوز کے پروگرام دنیا کامران خان کیساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے بیرون ملک علاج میں کوئی بندش نہیں ہے۔ ن لیگی قیادت نواز شریف کی صحت کو سیاسی مسئلہ نہ بنائیں۔ مفصل جائزہ لینے کے بعد وزرا نے رائے دی۔ دیکھنا پڑتا ہے کہ کہاں گنجائش ہے۔

ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس مسئلہ کو طول دینا مقصد نہیں ہے۔ دعاگو ہیں اللہ نواز شریف کو شفا عطا فرمائے۔ ن لیگی قیادت کو درمیانی اور معقول راستہ اختیار کرنا چاہیے، اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ ایسے رویے سے لگتا ہے کہ جیسے انہوں نے واپس نہیں آنا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سیاست نہیں کر رہے، قانونی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے راستہ نکالا گیا۔ نواز شریف کے پاس اتنے اثاثے موجود ہیں، وہ صاحب ثروت ہیں۔ کل ہم سے سوال کئے جا سکتے ہیں۔ اگر انہیں فیصلہ قبول نہیں تو عدالت میں چیلنج کریں۔

مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دھرنا ختم کرنے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اچھا فیصلہ ہے۔ دھرنا حکومت اور مولانا کے مفاد میں نہیں تھا۔ ہم نے رکاوٹ ڈالی نہ انہوں نے قانون ہاتھ میں لیا۔ دھرنے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پس پشت چلا گیا تھا۔





وزیر خارجہ نے کہا کہ مولانا کا شاہراہیں بند کرنے کا فیصلہ مناسب نہیں، وہ سنجیدہ سیاستدان ہیں، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ پرویز خٹک کو چاہیے کہ وہ ان سے دوبارہ رابطہ کریں۔