کرتار پور اور تاریخ کا الجھا ہوا تانا بانا , شمشاد احمد

دنیا بھر کی سکھ برادری کیلئے کرتار پور راہداری کا افتتاح حقیقتاً ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اس نے نریندر مودی کے فاشسٹ انڈیا کی نفرت و تعصب پر مبنی پالیسیوں کے بالکل برعکس دوسرے مذاہب کیلئے پاکستان کی رواداری اور احترام کی حقیقت دنیا پر عیاں کر دی ہے۔ یہ کنایہ اس رویے سے بالکل متضاد ہے جو انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں اختیار کررکھا ہے، جسے وہ عملاً ایک بندی خانے اور جہنم میں تبدیل کرچکا ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں سے کشمیری مکمل فوجی لاک ڈائون، ناقابل بیان مصائب و تشدد اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ وہ بنیادی انسانی ضروریات و حقوق سمیت بیرونی دنیا کے ساتھ کھلے رابطے تک سے بھی محروم ہیں۔
آج وادی دنیا کے سب سے بڑے خونیں فوجی قبضے کا منظر پیش کر رہی ہے۔ حتیٰ کہ انڈین اپوزیشن راہنمائوں کو بھی مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ملی جہاں ظالمانہ گرفتاریاں‘ ہلاکتیں‘ میڈیا کی زبان بندی، کرفیو اور فوجی چھاپے ایک مکروہ حقیقت بن چکے ہیں۔ اس صورتحال کی کوئی مثل جنوبی ایشیا میں تو دکھائی نہیں دیتی‘ باقی دنیا میں بھی اس جیسی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔ کرتار پور راہداری امن کی امید اور باہمی احترام کی ایک روشن جھلک بن کر نمودار ہوئی ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ عمران خان کے اس تاریخی اقدام کے جواب میں مودی کے رویے میں کس حد تک تبدیلی آتی ہے۔ بالخصوص کشمیر میں صورتحال مودی کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ مودی کویہ بات ضرور باور کرلینی چاہیے کہ کشمیری جدوجہد آزادی اس لیے جاری ہے کہ انڈیا نے بزور طاقت، غیر قانونی طور پر خودکو کشمیریوں پر مسلط کررکھا ہے جبکہ کشمیری انڈیا کے ساتھ بالکل رہنا نہیں چاہتے۔ وہ انڈین افواج کو قابض قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سنگ دلی اور تذلیل کا کوئی حربہ کشمیریوں کو ان کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا‘ حتیٰ کہ موت کا خوف بھی پسپائی پر مجبور نہیں کر سکتا۔ کشمیری محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ وہ انڈیا کے تسلط سے نجات چاہتے ہیں۔ ان کی آواز مظلوم کی وہ آہ و زاری ہے جو انڈیا اور دنیا کے ضمیرکو جھنجھوڑ رہی ہے۔ یہ وہ ہیبت ناک پس منظر ہے جس میں کرتارپور راہداری انڈیا کے ضمیرکیلئے، اگر اس کے پاس ایسی کوئی شے ہے، بصورت صورابھری ہے۔
انڈیا میں اقلیتوں کے خلاف بربریت روکنے کے ساتھ ساتھ، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے، کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے متعلق فیصلے کیلئے آزادانہ اور منصفانہ ماحول مہیا کیا جانا چاہیے۔ مودی کو نہ صرف کشمیر میں اپنی جارحیت بلکہ دیگر مذاہب کے متعلق اپنے عدم برداشت کے رویے پر نظرثانی بھی کرنی ہو گی۔ اس کے علاوہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان روایتی مخاصمانہ رویوں پر بھی نظرثانی ہو۔ کرتارپور راہداری کے افتتاح سے دونوں ملکوں کے مابین اچھے ماحول کا جو سماں پیدا ہوا ہے اس کو مذاکرات کے آغازاور باہمی اعتماد سازی کیلئے استعمال کرنا چاہیے تاکہ تنازعات کا پُرامن حل نکل سکے۔
نریندر مودی نے پانچ برس قبل، 2014ء کی کٹھمنڈو سارک کانفرنس میں اپنے خطاب میں، خود یہ تسلیم کیا تھا کہ اس خطے میں ہمارے نوجوان نسل کو ایک بہتر مستقبل کی امید دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ آئیے مل کر مایوسی کے اندھیروں کو امید کے سویرے میں بدلیں۔ انہوں نے بجا طور پر یہ تسلیم کیا تھا کہ معاشی ترقی اور امن کیلئے مشترکہ کاوشوں کی جتنی فوری ضرورت جنوبی ایشیا میں ہے دنیا بھر میں کہیں اور نہیں۔ لکھی ہوئی انگریزی تقریر کو چھوڑ کر وہ اچانک ہندی میں بولنے لگے: ہم پاس پاس ہیں لیکن ساتھ ساتھ نہیں‘ ساتھ ساتھ ہونے سے ہی طاقت کئی گُنا بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انڈیا کے حجم اور اس کی حیثیت کی وجہ سے اس کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے۔ اس کے بعد انہوں نے خطے میں روابط کاری میں بہتری کی ضرورت کے حوالے سے اپنے پیشرو منموہن سنگھ کی تجویز دہراتے ہوئے مادی‘ معاشی اور ذہنی روابط کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اس خطے میں موجود اقتصادی امکانات سے مستفید ہوا جا سکے۔ دراصل ان کا مطلب یہ تھا کہ جنوبی ایشیا دنیا کے دیگر خطوں سے تال میل نہیں رکھتا، جو اپنے تنازعات اور اختلافات کو حل کرکے معاشی نمو اور علاقائی یکجہتی کی راہ پر گامزن ہیں۔
اگر وزیر اعظم نریندر مودی وژنری ہوتے تو وہ اپنے تعصبات سے بالا تر ہو کر خطے میں مزید تنازعات اور جھگڑوں کا سبب بننے کی بجائے امن و تعاون کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر سکتے۔ مودی کو ادراک ہے کہ اس خطے کو کیا بیماری لاحق ہے اور انہیں یہاں موجود طویل مدتی تنازعات کے حل اور بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے۔ مودی اگر سوچیں تو اب بھی، بہت زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ اگر آج کی بدلتی دنیا میں اپنا مقام حاصل کرنا ہے تو اس خطے کو اپنے جغرافیائی و سیاسی تعطل سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ ایک بڑے ملک کے طور پر انڈیا کی جانب سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ اعتماد سازی تک اس خطے میں موجود اعتماد کا فقدان دور نہیں ہوگا۔ کرتار پور آغاز ہے اس سلسلے کا جو ناصرف دونوں ملکوں کو آپس میں قریب لائے بلکہ کشمیریوں کے مصائب میں کمی لا کر انہیں بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق وعدہ کردہ انصاف مہیا کرے۔ تاریخی اعتبار سے سکھ قوم کا، جن کے مقدس ترین مقامات آج کے پاکستان میں ہیں، مخمصہ سمجھنا ہو تو تاریخ پر ایک نظر ڈالنا ہو گی۔ اگر سکھ 1947ء میں درست فیصلہ کرتے تو آج اس پورے خطے کی جیوپولیٹکس بالکل مختلف ہوتی۔ اُس وقت سکھوں اور مسلمانوں کا باہمی مفاد پنجاب کی وحدانیت میں مضمر تھا‘ لیکن یہ صرف اسی وقت ممکن تھا اگر سکھ پاکستان کا حصے بننا منظور کر لیتے۔
مسلم لیگ نے انہیں بطور اقلیت پاکستان میں خصوصی حقوق و استحقاقات دینے کی پیشکش کی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی انہیں پاکستان کا انتخاب کرنے کی صورت میں فراخ دلانہ سلوک کی یقین دہانی کرائی تھی۔ فیصلہ سکھوں نے کرناتھا اور انتخاب کا حق بھی انہی کے پاس تھا۔ مغلوں کے زمانے سے پائی جانے والی مسلم مخاصمت کے باعث انہوں نے انڈیا میں شمولیت کا انتخاب کر لیا۔ کانگریس نے اس زمانے کے سکھ رہنمائوں کو بہلانے پھسلانے میں کلیدی کردارادا کیا تھا۔ اس میں حیرانی کی بات نہیں کہ ان کے اس ناعاقبت اندیشانہ فیصلے کے نتیجے میں پنجاب کو تقسیم ہونا پڑا اور بہت بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ اگر سکھ قوم پاکستان میں اپنی برادری کیلئے موجود امکانات کو بھانپ لیتی تو یقینا بالکل مختلف فیصلہ کرتی۔
اب سکھوں کو اندازہ ہوچکا ہے کہ ان سے بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی۔ اگر وہ پاکستان کے ساتھ شمولیت اختیار کر لیتے تو پنجاب تقسیم نہ ہوتا‘ نہ ہی بڑے پیمانے پر ہجرت اور فرقہ وارانہ قتل عام کا المیہ دیکھنا پڑتا۔ مسلم اکثریتی اضلاع، فیروزپور اور گورداسپور پاکستان کا حصہ ہوتے۔ انڈیا کے پاس کشمیر تک آسان رسائی نہ ہوتی جو بعدازاں بھارت نے کشمیر پر فوجی قبضے کیلئے استعمال کی۔ اگر یہ سب نہ ہوتا تو تنازع کشمیر بھی نہ ہوتا‘ پاک بھارت جنگیں نہ ہوتیں، نہ ہی 1984 میں گولڈن ٹیمپل میں سکھوں کا قتل عام ہوتااور عین ممکن ہے کہ 2002 میں گجرات میں مسلمانوںکا قتل عام بھی نہ کیا جاتا۔ اتنے بڑے حجم اور مرکزیت سے محروم انڈیا کو اپنی حدودوقیود میں رہنا پڑتا۔ پاکستان میں اگروہ سب سے بڑی نہیں تو سب سے اہم اقلیت ضرور ہوتے۔ فوج میں ان کی پوزیشن انہیں مؤثر اثرورسوخ مہیا کرتی۔ سکھوں کے پاس کالونیوں والے اضلاع کی بہترین زمینیں تھیں، بہترین کاشتکار ہونے اوراچھے میکانکی ذرائع کی بدولت وہ ملک کی معاشی زندگی، انتظامیہ اور مقننہ میں اہم کردار اداکرتے۔ لیکن انہوں نے حقیقتاً سیاسی خود کشی کا انتخاب کیا، اپنے مقدس مقامات پاکستان میں چھوڑکر چل دیے، جہاں اب وہ صرف اجنبی زائرین بن کر ہی آ سکتے ہیں۔ انڈیا میں، اب بھی وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں جن پر دیوانگی کی حد تک فرقہ پرست ہندوئوں نے کبھی اعتماد نہیں کیا۔ جیوپالیٹکس کا ستم! اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب مل کر تاریخ کے افسوسناک دھارے کو پلٹائیں اور اپنے خطے کو تنازعات اور تنائو سے پاک کریں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم انڈیا کے مودی کے بارے میں یقین سے کیاکہہ سکتے ہیں؟ کیا ہم اس خطے کی تاریخ کے الجھے ہوئے تانے بانے سے نکل سکتے ہیں؟