اردو صحافت کی انگریز سا مراج پر ضرب

معصوم مراد آبادی
کسی بھی زبان کی صحافت اپنے عہد کا سب سے شفاف آئینہ ہوتی ہے۔ اخبارات ہی روزمرہ کی اچھی اور بری سرگرمیوں کا گوشوارہ تیار کرتے ہیں جس سے ہمیں اس عہد کے رجحانات اور شخصیات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ جنگ آزادی 1857ء کی تاریخ کا اصل ریکارڈ اور ماخذ یا تو اس وقت کی سرکاری دستاویزات ہیں یا پھر وہ اخبارات ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں سے انگریز سامراج کے سامنے سب سے بڑا چیلنج کھڑا کر دیا تھا ۔ بغاوت کی وہ لہر جو میرٹھ سے شروع ہو کر دہلی پہنچی تھی اس کی چنگاری کو شعلہ بنانے میں اردو صحافت نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ہر چند کہ یہ اردو صحافت کا ابتدائی دور تھا اور ابھی پوری طرح اس کے بال و پَر بھی نہیں نکلے تھے لیکن اس ابتدائی دور میں بھی اردو صحافت نے بے باکی اور جرأت کا ایسا پرچم بلند کیا کہ انگریزوں کو اپنے اقتدار کی بنیادیں لرزتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ 13 جون 1857ء کو جابرانہ ایکٹ (Gagging Act) کو جاری کرتے ہوئے گورنر جنرل لارڈ کیننگ نے قانون ساز کونسل کے سامنے جو تقریر کی وہ انگریز حکمرانوں کی پریشانی کو اجاگر کرتی ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’مجھے شک ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دیسی پریس کے ذریعہ خفیہ اطلاعات کے نام پر پھیلائی گئی افواہوں کے نتیجے میں ہندوستان کی مقامی آبادی کے دلوں میں بغاوت کی آگ جس بے ہودہ حد تک بھڑکائی گئی ہے اس کو اچھی طرح سمجھا اور پہچانا گیا ہے۔ یہ کام ثابت قدمی، ہوشیاری اور فنکاری سے کیا گیا ہے۔ حقائق کو مسخ کرنے کے علاوہ گورنمنٹ کو بدنام کرنے، اس کے مقاصد کو غلط رنگ میں پیش کرنے اور اس کی رعیت میں بے چینی اور منافرت پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کی گئی ہے۔‘‘ جنگ آزادی 1857ء کی سرگرمیوں کا محور و مرکز پایۂ تخت دہلی تھا۔ اس لیے اس دور کی سرگرمیوں کی تفصیلات ہمیں سب سے زیادہ دہلی کے اخبارات سے ہی ملتی ہیں۔ اگرچہ لاہور، آگرہ اور لکھنؤ کے اخبارات بھی اس جنگ کی خبریں شائع کرنے میں پیش پیش تھے لیکن دہلی کے اخبارات سب سے زیادہ سبقت لیے ہوئے تھے۔ یوں تو اردو صحافت کا آغاز 1822ء میں کلکتہ سے ’’جامِ جہاں نما‘‘ کی اشاعت کے ساتھ ہو چکا تھا لیکن دہلی میں اردو صحافت کی ابتدا 1837ء میں ’’دہلی اردو اخبار‘‘ سے ہوئی جو مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے جاری کیا تھا۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران دہلی میں اسی اخبار نے سب سے زیادہ انقلابی رجحانات کو فروغ دینے کا کام کیا۔ 1857ء کی بغاوت کی رپورٹنگ اور اس عہد کے واقعات کو صحیح تناظر میں پیش کرنے کی پاداش میں اس پر انگریزوں کا عتاب نازل ہوا اور مولوی محمد باقر کو گرفتار کر کے نہایت سفاکی سے شہید کر دیا گیا۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ مولوی محمد باقر وطنِ عزیز کی آزادی پر اپنی جان نثار کرنے والے اولین صحافی ہیں اور برصغیر میں کسی بھی زبان کی صحافت اس قربانی کی کوئی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں اپنی جان قربان کرنے والا پہلا صحافی اسی اردو زبان ہی نے پیدا کیا جس کی کوکھ سے انقلاب کے لازوال نعرے نے جنم لیا تھا۔ اردو صحافت کی پیدائش بھی انقلاب کے بطن سے ہوئی اور اس میں آج بھی پچھلے زمانے کا وہ بانکپن اور جرأت اظہار بدرجہ اتم موجود ہے۔ اردو صحافت ایک بڑے مشن اور مقصد کے تحت وجود میں آئی تھی۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے لکھا ہے: ’’اردو صحافت نے استعمارکی آغوش میں آنکھ کھولی تھی اور انگریزی نظام حکومت اور سیاست کے زیرسایہ پروان چڑھ رہی تھی۔ اپنی پیش رو فارسی صحافت سے اس نے انگریز راج پر تنقید و احتساب کے آداب سیکھ لیے تھے چنانچہ دور اول کے اردو اخبارات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ ان اخبارات نے عام طور پر محتاط ہونے کے باوجود کمپنی کی حکومت سے کہیں کھلم کھلا اور کہیں ڈھکے چھپے الفاظ میں بیزاری کا اظہار تواتر سے کیا۔ کمپنی کی حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں لوگوں کی سوچ کیا ہے اور وہ اجنبی حکمرانوں کے بارے میں کیا احساسات رکھتے ہیں، ان اخبارات میں اس کی عکاسی ہوتی رہی تھی۔‘‘ مطبوعہ صحافت کے آغاز سے پہلے ہی قلمی اخبارات انگریزوں کے خلاف عوام کے ذہنوں کو تیار کرنے کا کام کر رہے تھے اور انہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا شروع کر دیا تھا۔ لارڈ میکالے نے 1836ء میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ: ’’یہ اخبارات مرتب کرنے والوں کی تعداد کثیر ہے جو ہر کچہری اور دیسی راجوں کے درباروں کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ دہلی کے شاہی محل اور ریزیڈینسی کے مقامات پر 20 یا 30 وقائع نگار موجود رہتے ہیں۔ دہلی سے ہر روز جو قلمی اخبارات باہر بھیجے جاتے ہیں ان کی ٹھیک ٹھیک تعداد معلوم نہیں ہو سکتی لیکن جانکار حلقوں کا اندازہ ہے کہ یہ 120 ہیں۔ ان اخباروں میں اکثر حکومت اور اس کے ملازمین کو رسوا کیا جاتا ہے اور ہمارے برطانوی کردار پر پھبتیاں اڑائی جاتی ہیں۔‘‘ اس حقیقت کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ بظاہر معمولی تعداد اشاعت والے ان قلمی اخبارات کی دسترس عام لوگوں کے ذہن و شعور تک تھی اور یہ نہایت خاموشی کے ساتھ انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والی چنگاریوں کو ہوا دینے کا کام پوری مستعدی اور جرأت کے ساتھ کر رہے تھے۔ 1857ء کے انقلاب کے دو سال بعد پادری لانگ فیلو نے دیسی پریس سے متعلق اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا: ’’دیسی باشندوں کے پریس کو ایسا حفاظتی بند (سیفٹی والو) سمجھنا چاہیے جو خطرے کی پیشگی خبر دیتا ہے۔ اگر دہلی کے ماہِ جنوری 1857ء کے دیسی اخبارات کا مطالعہ یورپین حکام نے کیا ہوتا تو انہیں پتہ چل جاتا کہ دیسی لوگ بغاوت کے لیے کس طرح تیار تھے اور فارس اور روس سے مدد کی امید کر رہے تھے۔‘‘ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس دور کے اردو اخبارات مجاہدین کی حوصلہ افزائی اور عوام الناس میں انگریز راج کے خلاف بیداری کی مہم چلانے میں سب سے آگے تھے۔ خاص طور پر دہلی سے شائع ہونے والے اخبارات کے بارے میں مولانا امداد صابری نے لکھا ہے کہ: ’’صادق الاخبار، دہلی اردو اخباراور سراج الاخبار، دہلی میں مجاہدین کے دلیرانہ اور بہادرانہ کارنامے، نمایاں طور پر شائع کیے جاتے تھے اور یہ تینوں اخبار دہلی کے عوام اور مجاہدین آزادی کو پیغامات پہنچانے اور ان کو پامرد بنانے اور انگریزوں کے خلاف جذبات برانگیختہ کرنے میں پیش پیش تھے۔‘‘ اردو صحافت نے 1857ء کی جنگ آزادی میں جو سرگرم کردار ادا کیا اسے دیکھ کر انگریز حکمرانوں کو یہ محسوس ہوا کہ اس انقلاب کے برپا ہونے میں دیگر اسباب کے علاوہ قلعہ معلی اور صحافت کے درمیان سازش بھی کار فرما تھی۔ اس سلسلے میں عبدالسلام خورشید نے بہادر شاہ ظفر کے خلاف چلائے جانے والے مقدمے کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ’’فوجی عدالت میں وکیل استغاثہ میجر ایف جے ہیرئیٹ نے اپنے طویل بیان میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ 1857ء کا انقلاب جن وجوہ کی بنیاد پر برپا ہوا، اس میں قلعہ معلی اور صحافت کے درمیان سازش بھی کارفرما تھی۔ انقلاب سے پہلے کے اخباری اقتباسات کا حوالہ دیتے ہوئے وکیل استغاثہ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اخبارات نے آنے والے انقلاب کے لیے زمین تیار کی۔ مثلاً صادق الاخبار نے جنوری کے مہینے میں یہ خبر درج کی کہ روس اور ترکی انگریزوں کے خلاف جنگ میں ایران کی مدد کریں گے اور شہنشاہ روس نے چار لاکھ سپاہیوں پر مشتمل فوج اس مہم کے لیے تیار کی ہے۔ اسی اخبار نے بتایا کہ شاہ ایران نے فیصلہ کر لیا ہے کہ کون کون سے درباری کو ممبئی، کلکتہ اور پونہ کی گورنری سونپی جائے اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ بہادر شاہ ہندوستان بھر کا بادشاہ ہو گا۔ مارچ میں اسی اخبار نے خبر چھاپی کہ ایرانی افسر اور سپاہی ہندوستان میں داخل ہو چکے ہیں اور پانچ سو آفیسر اور سپاہی تو بھیس بدل کر خود دہلی میں موجود ہیں۔ وکیل استغاثہ نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ قلعہ معلی اور صحافت کے درمیان کوئی سازش نہیں ہوئی اور جو کچھ ہوا اتفاق سے ہو گیا۔‘‘