موسیٰ بن شاکرکے 3 ہونہار بیٹے

حمید عسکری
خلیفہ مامون الرشید کے زمانے میں موسیٰ بن شاکر ایک امیر شخص تھا۔ جوانی میں اسے رہزنی کی لت پڑ گئی تھی لیکن اس کا رہزنی کا طریقہ نادر تھا۔ وہ رات کو عشا کی نماز دوسرے لوگوں کے ساتھ باجماعت پڑھتا۔ اس کے بعد وہ اپنی ہیئت تبدیل کرتا، اپنے سرخ رنگ کے گھوڑے کی ٹانگوں کے نیچے کے حصوں پر سفید کپڑا لپیٹتا تاکہ دور سے دیکھنے والوں کو اس کا گھوڑا سفید رنگ کا نظر آئے۔ پھر اس گھوڑے پر سوار ہو کر خراسان کی طرف جانے والی شاہراہ پر کوسوں دور نکل جاتا۔ راستے میں اسے جہاں کہیں موقع ملتا لوٹ مار کر کے دولت سمیٹتا اور پھر اس مال و دولت کو لے کر سحر ہونے سے پہلے اسی گھوڑے پر گھر پہنچ جاتا اور صبح کی نماز میں دوسرے نمازیوں کے ساتھ شریک ہو جاتا۔ اس نے ایسے جاسوس بھی رکھے ہوئے تھے جو اسے مال دار سوداگروں کے عزمِ سفر کی اطلاع دیتے تھے اور ان اطلاعات کی روشنی میں وہ رہزنی کا منصوبہ بنا لیتا تھا۔ اس طرح اس نے بے اندازہ دولت اکٹھی کر لی اور امیر کبیر بن گیا۔ ایک بار وہ رہزنی کے شبے میں گرفتار ہوا تو لوگوں نے شہادت دی کہ وہ رات کو نماز عشا اور صبح کو نماز فجر میں ہم سب کے ساتھ شریک رہا ہے، اس لیے اس کو بری کر دیا گیا مگر پہلے گرفتاری اور پھر رہائی کے اس واقعے نے اس کے دل پر اثر کیا، چنانچہ اس نے آئندہ رہزنی سے توبہ کر لی۔ دولت مند تو وہ بن ہی چکا تھا، اب وہ ایک مال دار رئیس کی طرح زندگی بسر کرنے لگا۔ ساتھ ہی اس نے تحصیل علم کی طرف توجہ کی اور ریاضی میں مہارت حاصل کر لی۔ مامون الرشید علما کا سرپرست تھا اس لیے اس نے موسیٰ بن شاکر کو اپنے ندیموں میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد اس کا شمار عمائدین سلطنت میں ہونے لگا۔ مامون الرشید کی خلافت میں جب اس نے وفات پائی تو اس کے تین خورد سال بچوں محمد بن موسیٰ بن شاکر، احمد بن موسیٰ بن شاکر اور حسن بن موسیٰ بن شاکر کو مامون الرشید نے اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا اور بیت الحکمت کے مشہور سائنس دان یحییٰ بن منصور کوان کا اتالیق مقرر کیا۔ مامون کے عہد ہی میں وہ جوان ہوئے اور نہ صرف علم کے آسمان پر درخشندہ ستارے بن کر چمکے، بلکہ دنیاوی جاہ و مرتبہ اور زرومال میں بھی کثیر حصہ پایا۔ چنانچہ ان میں سے ہر ایک کی سالانہ آمدنی لاکھوں دینار تک پہنچی ہوئی تھی۔ تاریخ میں وہ ’’بنو موسیٰ بن شاکر‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ محمد بن موسیٰ بن شاکر موسیٰ بن شاکر کا سب سے بڑا بیٹا محمد بن موسیٰ علم وفضل میں سب سے بڑھ کر تھا۔ وہ ہیئت اور ریاضی میں بہت ماہر تھا۔ علاوہ ازیں وہ حکومت میں فوجی خدمات بھی انجام دیتا تھا۔ سائنس سے گہرا شغف رکھنے کے باعث وہ اپنی دولت کا ایک کثیر حصہ علمی کاموں میں صرف کرتا تھا۔ چنانچہ اس دور کے سب سے بڑے مترجم حنین بن اسحاق سے اس نے متعدد یونانی کتابوں کا ترجمہ کروایا تھا اور ترجمے کا معاوضہ اپنی گرہ سے ادا کیا تھا۔ ایک بار جب وہ بلادِ روم میں ایک فوجی مہم کے خاتمے کے بعد واپس آ رہا تھا تو اسے چند یوم حران میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ یہاں اس کی ملاقات ایک نوجوان ثابت بن قرہ حرانی سے ہوئی جسے وہ اپنے ساتھ لے آیا۔ یہ شخص یونانی اور عربی زبانوں پر کامل عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ سائنسی علوم میں دست گاہ رکھتا تھا۔ چنانچہ اس سے بھی محمد بن موسیٰ نے اپنے خرچ پر کئی یونانی کتابوں کا ترجمہ کرایا۔ ریاضی میں محمد بن موسیٰ نے دو مقداروں کے درمیان دو وسطی متناسب مقداروں کے معلوم کرنے کا طریقہ دریافت کیا تھا، نیز وہ اعلیٰ قسم کی حساس اور صحیح وزن کرنے والی ترازو کا موجد تھا جسے ہم موجودہ زمانے میں کیمیائی ترازو (کیمیکل بیلنس) کہتے ہیں۔ اس ترازو کی ساخت اور طریقِ استعمال پر اس نے ایک رسالہ بھی لکھا تھا۔ محمد بن موسیٰ نے طویل عمر پائی اورمامون کے بعد آٹھ خلفا کا زمانہ دیکھا۔ اس کی وفات خلیفہ معتمد کے عہد میں 872ء میں ہوئی۔ احمد بن موسی اسلامی دور میں جتنے سائنس دان گزرے ہیں ان کی اکثریت ہیئت دانوں اور ریاضی کے ماہرین پر مشتمل ہے کیونکہ سائنس کی یہ شاخیں یعنی ہیئت اور ریاضی اس زمانے میں سب سے زیادہ مشہور تھیں۔ طبیعیات اور بالخصوص میکانیات کی سائنس نے اس وقت تک کوئی خاص ترقی نہیں کی تھی، اس لیے جس طرح سسلی کے قدیم سائنس دان ارشمیدس کے سوا یونانی دور میں کوئی نامور ماہر میکانیات نہیں گزرا، اسی طرح اسلامی دور میں جن سائنس دانوں نے میکانیات (مکینکس) کو اپنی تحقیقات کا محور قرار دیا ان کی تعداد دو تین سے زائد نہیں ہے۔ گنتی کے انہیں چند ماہرینِ میکانیات میں موسیٰ بن شاکر کے منجھلے بیٹے احمد بن موسیٰ کا شمار ہوتا ہے۔ میکانیات میں اس نے ایسی ایسی کلیں اور مشینیں ایجاد کیں جن کو دیکھ کر عقل دنگ ہوتی تھی۔ اس نے اس علم پر ایک کتاب بھی لکھی تھی جو میکانیات پر پہلی ضخیم کتاب تھی۔ حسن بن موسیٰ موسیٰ بن شاکر کا سب سے چھوٹا بیٹا حسن بن موسیٰ ہندسہ یعنی جیومیٹری کا بہت بڑا محقق تھا۔ اس زمانے میں اقلیدس جیومیٹری کی سب سے بڑی اور معیاری کتاب خیال کی جاتی تھی، اس لیے جو شخص اس کتاب کے تمام مسئلوں پر عبور حاصل کر لیتا وہ جیومیٹری کا عالم سمجھا جاتا تھا۔ حسن بن موسیٰ کا کمال یہ تھا کہ وہ جیومیٹری میں صرف اقلیدس کے لکھے ہوئے مسئلوں پر اکتفا نہ کرتا تھا، بلکہ خود نئے مسائل اختراع کرتا اور ان کے حل دریافت کرتا تھا۔ جیومیٹری میں قدرت نے اسے ایک خاص ملکہ عطا کیا ہوا تھا چنانچہ اس کی طالب علمی کے زمانے کا واقعہ ہے کہ مامون الرشید کے دربار میں اقلیدس کے مسائل پر جس سے خود مامون کو بھی بڑی دلچسپی تھی بحث ہو رہی تھی۔ مشہور ریاضی دان خالد بن عبدالمالک مروروزی وہاں موجود تھا۔ مامون کے ایما سے اس نے نوعمر حسن بن موسیٰ کا امتحان لیا۔ اس وقت حسن نے اقلیدس کے صرف چھ مسئلے پڑھے تھے، لیکن مامون اور اہلِ دربار کو یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا کہ جب اس سے آگے کے مسائل پوچھے جاتے تو وہ محض اپنی قوت متخیلہ سے ان کے حل پیش کر دیتا تھا۔ یہ حل نہ صرف درست ہوتے بلکہ بعض ان میں اقلیدس سے مختلف تھے اور یہ اس امر کا ثبوت تھا کہ یہ حل خاص اس کے دماغ کی ایجاد ہیں۔ جیومیٹری میں اس کا خاص کارنامہ وہ مسائل ہیں جو اس نے بیضے (Ellipse) کے متعلق بیان کیے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے ریاضی دان دائرے ہی کے مسائل سے واقف تھے۔ بیضے کے مسئلوں سے انہیں آگاہی نہ تھی اور نہ وہ بیضے کو بنانے کا قاعدہ جانتے تھے۔ موسیٰ بن شاکر کے یہ تینوں بیٹے یعنی محمد بن موسیٰ، احمد بن موسیٰ اور حسن بن موسیٰ چونکہ علم و فضیلت کے ساتھ ساتھ مال و جاہ میں بھی اونچا مرتبہ رکھتے تھے اس لیے ان میں عام عالموں کی سی منکسرالمزاجی نہ تھی، بلکہ وہ کافی حد تک مغرور تھے اور دوسرے علمائے سائنس کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔