جنرل قمر جاوید باجوہ کی قوم کے لیے خدمات پر ایک نظر

ٹھیک تین سال پہلے تصویر بہت مختلف تھی، آج جیسا امن تھا نہ ہی سکون، دنیا پاکستان کو انتہا پسندی کے حوالے سے جانتی اور پہچانتی تھی، جہاں بھی دہشتگردی کا ذکر آتا، وطن عزیز سر فہرست ہوتا۔


29 نومبر 2016 کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کے سولہویں سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، دنیا باجوہ ڈاکٹرئن کی قائل ہوتی چلی گئی، پہلے آپریشن ضرب عضب کے ثمرات سامنے آئے، پھر رد الفساد نے امن دشمنوں پر قہر ڈھائے، بطور سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے مکمل امن کی بحالی کو مشن بنایا۔


ناقابل تسخیر ملکی دفاع کا بیڑہ بھی اٹھایا۔ چیلنج بہت بڑے تھے، لیکن آرمی چیف نے انتہائی خندہ پیشانی سے قبول کیے، متاثر کن اقدامات سے اپنی الگ پہچان بنائی، دہشتگردوں کا بیانیہ ناکام بنانے کے لیے موثر حکمت عملی بھی اپنائی۔


دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے دیکھیں تو آرمی چیف کی ہدایت پر ملک بھر میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حتمی آپریشن ردالفساد شروع ہوا، سپہ سالار کی سکیورٹی پالیسی کا منفرد پہلو یہ تھا کہ انھوں نے کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں سے مذاکرات بھی کیے۔تحریک طالبان پاکستان، جیے سندھ قومی محاذ، متحدہ قومی موومنٹ، بلوچ علیحدگی پسندوں اور پنجابی طالبان کے ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کو جنرل راحیل شریف کے دور میں دی گئی معافی کا سلسلہ جنرل باجوہ کے دور میں تکمیل کو پہنچا۔


افغانستان سے متصل سرحد پر حفاظتی باڑ اور سرحدی قلعوں کی تعمیر سے دہشت گردی خاتمہ ہوا۔ اس کے ساتھ بحالی اور تعمیر نو کے لیے سابقہ فاٹا اور بلوچستان میں درجنوں ترقیاتی منصوبوں کو بھی مکمل کیا گیا۔


سپہ سالار کا اپنے سپاہیوں میں گہرا اور دوستانہ اثر رسوخ ہے، گزرے تین سال کے دوران وہ مسلسل کنٹرول لائن اور اگلے مورچوں کے دورے کر کے جوانوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے۔ مذہبی اور قومی تہوار ہو یا کوئی اور اہم موقع، آرمی چیف عمومی طور پر جوانوں کے ساتھ اگلے مورچوں پر ہی گزارتے رہے۔


جنرل قمر جاوید باجوہ کے تین برسوں میں فوجی سفارتکاری کا تصور سامنے آیا ہے جس سے ان کے غیر ملکی دوروں، پاکستان آئے غیر ملکی وفود سے ملاقاتوں اور خصوصاً افغان طالبان اور امریکہ میں مذاکرات میں کردار سمجھنے میں مدد ملی۔


انہوں نے سعودی عرب، قطر سمیت مختلف ممالک سے تعلقات مزید بہتر بنائے۔ ریاض اور تہران کے سمیت مختلف مسلم ممالک کے درمیان فوجی تعاون پیدا کرنے کے لیے موجود رکاوٹیں دور کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔بحالی امن کے حوالے سے سپہ سالار کے وژن کو ملکی سطح پر تو سراہا ہی گیا، اقوام عالم بھی اس کا گرویدہ ہے، امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے میں آرمی چیف کے کردار کو سراہا گیا، پینٹاگون کی جانب سے جنرل قمر باجوہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔


پاک فوج کے سربراہ نے جب چین کا دورہ کیا تو وہاں بھی انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، برطانیہ اور ایران بھی عالمی امن میں پاکستانی آرمی چیف کے کردار کے معترف ہیں۔


جنرل قمر باجوہ کا بین الاقوامی برادری میں تشخص ایک مرد آہن کا رہا مگر اپنے سپاہیوں میں ان کا تاثر سخت گیر نہیں تھا۔ تین سال پہلے جب انھیں بطور آرمی چیف نامزدگی کی اطلاع دینے کے لیے وزیراعظم ہاؤس بلایا گیا تو وہاں استقبال کرنے والے جونیئر فوجی و سول افسران سے بے تکلف ہو کر گلے ملے۔


سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں، معاشی اور اقتصادی حالت کی بہتری کے لیے انہیں قومی ترقیاتی کونسل کا حصہ بنایا گیا۔ جنرل قمر باجوہ نے حکومت کے معاشی ماہرین، ملک کی معروف کاروباری شخصیات اور تاجر برادری کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں۔


جنرل قمر جاوید جہاں امن دشمنوں کے لیے قہر ثابت ہوئے وہیں ازلی دشمن بھارت کو جارحیت پر جواب کے حوالے سے بھی مرد آہن بن کر ابھرے، مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے دوران جنرل قمر باجوہ کے کردار کو بین الاقوامی طور پر سراہا گیا۔بالاکوٹ پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیکر انہوں نے انتہائی کشیدہ صورتحال فوج کا مورال بلند کیا، مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر احتجاج اور کشمیریوں کی آواز بننے میں بھی سپہ سالار کا کردار اور عالمی اداروں سے تعلقات مثالی رہے۔


دشمن نے ہمیشہ امن پر وار کیا لیکن پاکستان نے ہمیشہ دوستی کا پیغام دیا، جس کا بڑا ثبوت کرتار پور راہداری ہے، دوستی کا یہ راستہ کھولنے میں بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں، انہی کی خصوصی دلچسپی کی وجہ سے منصوبے پر کام دس ماہ کی مختصر ترین مدت میں مکمل ہوا۔


1854 مذہبی سکالر کی جانب سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پیغام پاکستان کے نام سے فتویٰ بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں ہی جاری ہوا، فاٹا کا انضمام اور پر امن انتخابات کے انعقاد جیسے تاریخی اقدامات بھی سپہ سالار کے ہی کریڈٹ پر ہیں۔