اپنی سمت کا تعین


ایس اے صدیقی
کامیاب لوگ (جو سو میں سے کوئی ایک ہوتا ہے) بقیہ لوگوں سے ایک خصوصیت کی بنا پر بالکل الگ ہوتے ہیں۔ ان کے اندر مثبت خودسمتی ہوتی ہے۔ یہ کیا ہے؟ …زندگی کا ایک جامع منصوبہ۔ کامیاب لوگ اپنی زندگی کا پورا اور جامع منصوبہ رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اب انہیں کیا کرنا ہے۔ آج وہ کیا کر رہے ہیں۔ کل انہیں کیا کرنا ہے… پرسوں کیا کریں گے۔ ان کے پاس سمت ہوتی ہے۔ انہیں پتا ہوتا ہے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ ان کے سامنے مقاصد ہوتے ہیں۔ وہ پہلے اپنا ایک مقصد طے کرتے ہیں پھر اسے حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں… مسلسل سعی۔ وہ خود کو اپنی ہدایت میں لے کر اپنے مقصد کی سمت بڑھتے ہیں۔ کامیابی کیا ہے؟ مقصد کے حصول کا یہ دوسرا نام ہے۔ بغیر مکمل پروگرام کے، بِلا کسی منزل کے تعین کے، آپ کدھر جائیں گے؟ پہلے طے کریں کہ کدھر جانا ہے، پھر راستے چنیں، چلنے کے طریقے سوچیں اور پھر چل پڑیں۔ تب ہی منزل ملتی ہے۔ جب تک ذہن میں یہ واضح نہ ہو کہ آپ کو جانا کہاں ہے یا ذہن میں منزل کا تعین درست نہ ہو، آدمی بھٹکتا رہتا ہے۔ کھلے جانور کی طرح ادھر اُدھر منہ مارتا رہتا ہے۔ سمت ضروری ہے۔ سمت کا تعین کریں۔ کامیاب آدمی کے ذہن میں اس کے مقاصد واضح اور صاف ہوتے ہیں۔ ناکام لوگ ادھر اُدھر بھٹکتے رہتے ہیں۔ وہ جن کے سامنے زندگی کا کوئی نصب العین نہیں ہوتا، زندہ رہتے ہوئے مر جاتے ہیں اور ان کی طبعی عمر بھی کم ہوتی ہے۔ مقصد کا حصول ہی وہ قوت ہے جس کی بنا پر آدمی ہر رکاوٹ، ہر مسئلے سے کسی نہ کسی طرح گزر جاتا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں کون سا مقصد چنا ہے؟ بہتوں کی منزل بس اتنی ہوتی ہے کہ وہ ٹی وی دیکھتے رہیں، کھیلوں میں مگن رہیں، دوسروں کو کماتے اور عیش کرتے دیکھتے اور کڑھتے رہیں۔ ہم جو کچھ اپنے بارے میں سوچتے ہیں، وہی بن جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم خود کو اس خیال کے مطابق چلاتے ہیں۔ ہم سب کے پاس زندگی میں کامیاب ہونے کی تمام تر لیاقتیں ہوتی ہیں۔ جتنی محنت اور جتنا کام آپ ایک بری زندگی گزارنے میں کرتے ہیں، شاید کامیاب زندگی کے لیے اس سے زیادہ کام نہیں کرنا پڑتا۔ پھر بھی ہم میں سے بہت سے بلا مقصد زندگی گزارتے ملتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں خوشی نہیں ہوتی۔ ناکام افراد کو یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ انہیں کرنا کیا ہے۔ ایسے لوگ دوسروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتے ہیں۔ آدمی کی زندگی کشتی کی طرح ہے۔ اگر اس کی سمت درست نہ رکھی جائے تو یہ راستے سے بھٹک کر طوفان کا شکار ہو جائے گی یا کسی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے گی۔ کامیاب افراد زندگی شروع کرتے ہی مقاصد کا تعین کرتے ہیں۔ میں کیا ہوں؟ مجھے آخر میں کہاں پہنچنا ہے؟ کیا میں جانتا ہوں کہ لوگ میرے جانے کے بعد میرے بارے میں کیا کہیں گے؟ کامیاب لوگوںکو پتا ہوتا ہے کہ وہ مقاصد کتنے اہم ہیں جن میں معینہ مدت کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ بہت سارے لوگ دن بھر سوتے رہتے ہیں، لوگوں کے ساتھ گپ کرتے رہتے ہیں، ادھر اُدھر شاپنگ کرتے رہتے ہیں، کھیل دیکھتے رہتے ہیں، ناپسندیدہ کتابیں الٹتے پلٹتے رہتے ہیں۔ وہ اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں… ان کاموں میں جن کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔وہ دراصل پلان نہیں بناتے اور ناکام ہو جاتے ہیں۔ کامیاب آدمی ہر صبح اور ہر شام اپنا منصوبہ بناتا ہے۔ وہ کاغذ پر ہر کام کو اولیت کے لحاظ سے درج کر لیتا ہے کہ اسے کل کیا کرنا ہے۔ صبح کو وہ اپنی لسٹ کے مطابق عمل شروع کر دیتا ہے۔ پھر جو کام ہو جاتے ہیں ان کی جگہ نئے کام لکھتا جاتا ہے۔ خریداری کے لیے فہرست لے کر جانے والا فائدے میں رہتا ہے یا یونہی جانے والا؟ کامیاب خود سمتی کا مطلب ہے ایسے مقاصد کا تعین کیا جائے جو فائدہ مند ہوں، کارآمد ہوں، آپ کے لیے بھی، آپ کے خاندان کے لیے بھی۔ تمام مقاصد واضح ہونے چاہئیں۔ کامیاب سیلف ڈائریکشن کا راز، واضح مقاصد کو فہرست میں لکھ لینے میں چھپا ہوا ہے، انہیں پر کام کریں۔ کوئی کشتی منزل پر محض ہوا کے سہارے نہیں پہنچتی۔ پلان بنائیں، نئے مقاصد چنیں، انہیں اپنے تحت الشعور میں بسا لیں، سوچیں کہ آپ انہیں یکے بعد دیگرے حاصل کر رہے ہیں۔ جیتنے کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیں، آج ہی جیتیں…گنوانے کے لیے ذرا سا وقت بھی نہیں۔