زرق حلال اوراخراجات میں میانہ روی
تحریر : علامہ سید محمود احمد رضوی
روزی کے متعلق سب سے پہلے اسلام نے خوب اچھی طرح یقین دلایاہے کہ دنیا اور اس کی تمام اشیاء کامالک ایک اﷲ ہے۔یہ مال ودولت حقیقت میں میر اتیر اکسی کا نہیں صرف خدا کا ہے۔رزق کی کشایش اور تنگی دونوں کام خدا کے ہیں اور حکمت سے ہیں ۔دولت مند انسان یہ سمجھتا ہے کہ مجھ ہی میں کوئی ایسی بات ہے یا مجھے ایسا ہنر اور طریقہ معلوم ہے۔جس سے یہ ساری دولت میری چاروں طرف سمٹی چلی آرہی ہے۔ لیکن مذہبی تعلیم کے علاوہ دنیا کے واقعات پر گہری نظر اس یقین کو مٹانے کے لیے کافی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے،

ترجمہ’’ اور زمین میں کوئی چلنے والانہیں،مگر یہ کہ اس کی روزی خداکے ذمہّ ہے‘‘۔(سورہ ہود ۔ ۱)

ترجمہ’’ اسی کے ہاتھ میں ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں وہ جس کے لیے چاہتاہے رزق پھیلادیتاہے اور جس کے لئے چاہے ناپ دیتا ہے۔وہ ہر چیز کی خبر رکھتا ہے‘‘۔(سورہ شوریٰ آیت۱۱ )

ترجمہ ’’ زمین اور آسمان کے خزانے اسی کے ہیں۔خدا ہی کا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور زمین میں ہے۔آسمان وزمین کی ملکیت یابادشاہی اسی ایک اﷲکی ہے۔قرآن مجید نے بار بار بیان کرکے مسلمانوںکے ریشہ ریشہ میں اسی لیے رچایاہے تاکہ ان میں فیاضی ،مال سے ایثار،شکر،قناعت پسندی کے جوہرپیداہوجائیں۔روزی کمانادراصل انسانی زندگی کی ضروریات سے ہے اور شرعاًوعقلاً ہرمسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ضرویات کی تکمیل اور اصلاح کے لیے حصول رزق کی کوشش کرے،خواہ وہ تجارت وزارعت کی شکل میں ہو یاملازمت و نوکری کی صورت میں۔ قرآن مجید میں اﷲفرماتا ہے کہ ۔ترجمہ’’ زمین کی تمام چیزیں اﷲنے تمہارے لیے پیداکی ہیں ‘‘اور سورۂ جمعہ میں اﷲتعالیٰ نے فرمایا۔ترجمہ’’زمین میں پھیل جاؤ اور اﷲ کا فضل تلاش کرو‘‘(سورہ جمعہ)قرآن پاک کے محاورے میں ’’ خداکافضل تلاش کرنے‘‘ سے مقصود تجارت اور روزی کا کمانا ہوتا ہے۔معلوم ہُوا کہ رزق کی تلاش ،رزاقِ کائنات میںا فضل کام ہے اور یہ زمین اس کے لیے بمنزلہ میدان کے ہے اوراس میدان کی تمام اشیاء انسان کے نفع کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔لہٰذا ضروری ہوا کہ ایسے قواعدضوابط مقرر کردیے جائیںجن کے ماتحت فضل ِ الٰہی کی تلاش کی جائے کیونکہ رزق اور اس کے حصول کے لیے اگر کوئی قاعدہ اور ضابط نہ ہو ااور اسے بے قید چھوڑ دیا جائے تو ظاہر ہے کہ اس طرح عدل اور ظلم،امانت،اور خیانت، پاک اور ناپاک ،جائز اور ناجائز کی تمیز اُٹھ جائے گی اور یہ بات نظام انسانی کی تباہی و بربادی کا باعث ہوگی۔ اسلام سے قبل دنیا کی کچھ ایسی ہی حالت تھی۔جس کے جی میں جو آتا اور جیسے آتا کماتا تھا۔حتیٰ کہ ظلم وجور سے کمائی ہوئی دولت پر فخر کیا جاتا تھا۔اسلام آیاتو اس نے حصول رزق کے حدود مقرر کئے،جائز و ناجائز کی تفرق پیدا کی۔حلال و حرام کا ضابطہ مقرر کیا۔پا ک روزی ڈھونڈنے اورا سی سے ضروریات ِ زندگی کوپوراکرنے کی تاکید فرمائی۔چنانچہ سورۂ، بقرہ رکوع 21، آیت نمبر 171 میں رزق حلال کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔گویایہ بتایا گیاہے کہ انسان کا اپنے رب کے ساتھ بندگی اور نیاز مندی کا تعلق ہے ،اور اس تعلق کا اہم تقاضا یہ ہے کہ اﷲکے بندے رزق حلال کی کوشش کریں اور ذرائع آمدنی کی صحت وپاکی کا خیال رکھیں کیونکہ رز ق کے سلسلہ میں پاکی و صحت سے صرف نظر کرلینا اصول بندگی کے بھی خلاف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود عام طور پر معمولی سوتی قسم کے کپڑے پہنتے تھے۔ بسااوقات ان میں کئی کئی پیوند بھی ہوتے تھے لیکن جب وسعت ہوئی تو دوسرے ملکوں اور دوسرے علاقوں کے بنے ہوئے قیمتی جبے بھی پہن لیتے تھے۔ کئی کئی روز فاقہ سے بھی گزرتے تھے‘ دو دو ماہ تک آپؐ کے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی اور جب کھانے میسر ہوتے تو عمدہ کھانے بھی تناول فرمالیتے۔ خرچ کرنے کا صحیح اور اسلامی انداز واضح ہونے کے بعد آج عام معاشرہ کی طرف دیکھنا ہوگا۔ جہاں یہ انسان عام شادی بیاہ رچاتا ہے‘ ہزاروں روپے آتشبازی کی نذر کردیتا ہے‘ گھروں اور دیواروں کو روشنیوں سے جگمگانے پر سینکڑوں روپے بہادیتا ہے مہمانوں سے کئی گنازیادہ کھانا پکاتاہے۔ یہ تمام کام یہ انسان صرف اپنی ناک اپنی عزت کی خاطر کرتا ہے یہی وہ غلط انداز ہے جہاں ایک لڑکی کی شادی کرتا ہے اتنی ہی رقم میں عمدہ طریقے سے دس لڑکیوں کی شادی کرسکتا تھا۔ گھر میں چند بلبوں اور ٹیوب لائٹوں سے گذارا ہوسکتا ہے‘ یہ انسان ایک کمرے میں کئی بلب روشن کرتا ہے۔ چند کمروں میں چند افراد رہتے ہیں لیکن ہر کمرے میں ائرکنڈیشنڈ چل رہاہے یہی پیسے کے خرچ کرنے کا غلط انداز ہے۔اسلام نے خرچ کرنے کی جگہیں بھی بالکل واضح طور پر سامنے رکھی ہیں۔ اپنے گھر والوں پر اپنی ذات پر ہمسایوں پر رشتہ داروں پر خرچ کیجئے۔ بقدر ضرورت اور بقدر حق اور زکوٰۃ وصدقات جو اللہ نے بندہ پر حکما جاری فرمائے ہیں ان کے لئے خدائے برتر نے جگہیں مقرر فرمادی ہیں‘ جن میں غرباء مساکین ، قرض دار، مسافر وغیرہ شامل ہیں لیکن آج کے معاشرہ میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن حکیم نشان دہی فرماتا ہے۔ ایسے لوگوں کو پہچان کر ان کی مدد کرنا اعلیٰ ترین اخلاقی خوبی ہے فرمایا۔ان لوگوں کو ہمارے معاشرہ میں سفید پوش کہاجاتا ہے جو کسی بھی حالت میں مانگنا گوارا نہیں کرتے حتیٰ کہ انہیں یہ بھی اندازہ ہوجائے کہ دینے والا غریب سمجھ کرد ے رہا ہے تولینے سے انکار کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہدیے اور تحفوں اور اشیاء ضرورت کو پیش کرکے ان پر خرچ کیاجاسکتا ہے۔

آج کل کے بہت سے اچھے خاصے دیندار حلقوں میں بھی معاملات یعنی خریدو فروخت،امانت،قرض،نوکری،اور مزدو ر ی کی اصلاح کا اتنا اہتمام نہیں جتنا کہ ہوناچاہیے۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت لوگ جن کی حالت ِ نماز،روزہ وغیرہ عبادات کے لحاظ سے کچھ غنیمت بھی ہے،کاروبار ان کے بھی پاک نہیں ہیں۔حالانکہ کاروبار کی پاکی اور معاملات کی صحت کے شعبہ کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ اس کاتعلق بیک وقت اﷲکے حق سے بھی ہے اور بندوں کے حقوق سے بھی،نماز، روزہ،وغیرہ عبادات اگرچہ ارکانِ دین ہیں اور اس حیثیت سے ایمان کے بعد انہی کادرجہ ہے مگرکوئی شخص ان میں کوتاہی کرتا ہے تو صرف خدا کا مجرم ہوتا ہے۔پھر اگر سچے دل سے توبہ واستغفار کی جائے تو بارگاہ خداوندی سے ا س جرم کی معافی ہی کی امید ہے۔لیکن اگر لین دین میں خیانت واقع ہوجائے اور حصول رزق کے لیے ناجائز ذرائع کو اختیار کیا جائے تو اس طرح اﷲعزوجل کی نافرمانی بھی ہوگی اور کسی نہ کسی بندے کی حق تلفی بھی اور یہ بات دُہرا جرم قرار پائے گی۔رہایہ خیال جیسے اﷲ کے کرم سے معافی کی اُمید ہی ہے قیامت کے دن جس بندے کی حق تلفی ہوئی ہے اس سے بھی معافی حاصل کرلی جائیگی،تو اگرچہ اس کا امکان ضرور ہے مگر کون کہہ سکتا ہے جو بندے ہم جیسے کم حوصلہ ہیں وہ قیامت کے دن ضرورہی معاف کردیںگے۔پھر اگر وہ معاف نہ کریں تو؟معاملات کو دین کے دوسرے شعبوں کے مقابل یہ خاص امتیاز بھی حاصل ہے۔اس میںاپنی ذاتی منفعت ومصلحت اور اپنی خواہش نفس کی اور اﷲ عزوجل کے احکام کی کش مکش بہ نسبت دوسرے تمام شعبوں سے زیادہ رہتی ہے۔نفس کی خواہش عموماً یہ ہی ہوتی کہ جھوٹ سچ اور جائز ناجائز کا لحاظ کیے بغیر جیسا موقع ہو اور جس طرح بھی نفع کی زیادہ اُمید ہو کر گزراجائے۔اسلام نے حصول رزق سے متعلق عدل و انصاف پر مبنی جو اصول مقر ر کیاہے وہ ایک ایسی مرکزی حیثیت کاہے کہ جس کوپیش نظر رکھ کر ہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ حصول رزق کے ذرائع میں سے کونسا ذریعہ حلال اور جائز ہے اور کونسا حرام اور ناجائز ہے۔سورۂ نساء میںفرمایا۔

ترجمہ:’’اے ایمان والوتم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ لیکن یہ کہ لین دین ہو آپس کی خوشی سے ‘‘

یہ آیت لین دین کے متعلق ایک اصولی حیثیت رکھتی ہے اور اس نے لین دین کے ان طریقوں کوجو ایمانداری کے خلاف ہیںاور جن کی کوئی حد نہیں ہے ایک لفظ باطل سے بیان کردیا یعنی کسی کی چیز خواہ وہ دھوکہ و فریب ،ظلم و جور سے لی جائے یاچوری اور غصب ،رشوت اور خیانت اور سُود کے ذریعے حاصل کی جائے غرضیکہ جس ناجائز طریقہ سے بھی دوسرے کامال لیاجائے اس آیت کے عموم و اطلاق کے اندر داخل ہے۔پھر ا س سلسلہ میں اسلام کی تکمیلی تعلیم کا یہ عالم ہے کہ اس نے ان نازک سے نازک ناجائز معاملوں اور وسیلوں کی بھی جنہیں عام طور پر باطل نہیں سمجھاجاتا یاانہیں بہت ہی کم درجہ کا جرم خیال کیاجاتا ہے نشان دہی کی ہے اور ان کی دینی ودنیوی بُرائیوں کی تشہیر کرکے ان کی اہمیت کوظاہر کیاہے اور ان سے بچنے کی تاکید کی ہے۔جہاں تک اخراجات میں میانہ روی کا تعلق ہے تو ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ ﷺنے ’’اخراجات میں میانہ روی اختیار کرنا نصف معیشت (زندگی گزارنے کا طریقہ) ہے۔‘‘اچھی نیت سے، نیک مقصد کے لیے دنیا کی دولت حلال ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ بہت بڑی نیکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص دنیا کی دولت حلال طریقے سے حاصل کرے اور اس مقصد کے لیے حاصل کرے کہ دوسروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے دوسروںسے مانگنے سے بچار ہے‘ اپنے اہل وعیال کے لیے روزی اور آرام وآسائش کا سامان مہیا کرسکے اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی احسان اور اچھا سلوک کرسکے تو ایسا شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس شان کے ساتھ حاضر ہو گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوا اور روشن ہوگا‘‘۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص دنیا کی دولت حلال طریقے ہی سے حاصل کرے لیکن اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ بہت بڑا مالدار ہوجائے اور اس دولت مندی کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں اپنی شان اونچی کرسکے اور لوگوں کی نظروں میں بڑا بننے کے لیے دولت حاصل کرے۔ لَقِیَ اللّٰہ تعالٰی وَھُوَ عَلَیہِ غَضْبَانُتو ایسا شخص قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوں گے‘‘۔مال ودولت کی حرص عام انسانوں کی فطرت میں داخل ہوتی ہے‘ اگر دولت سے انکا گھر تو کیا جنگل کے جنگل اور صحراء بھی بھرے ہوئے ہوں تب بھی اس انسان کادل قناعت نہیں کرتا۔ یہ انسان اس میں اضافہ اور زیادتی چاہتاہے زندگی کے آخری سانس تک اس کی ہوس کا یہی حال رہتا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں۔

{لَوْکَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادیَانِ من مالٍ لا بتَغٰی ثَالِثًا ولا یَمْلائُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلاَّ التُّرَابُ}

’’یعنی اگر آدمی کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو یہ تیسری بھی چاہے گا اور آدمی کا پیٹ کوئی چیز بھی نہیں بھرسکتی مگر قبر کی مٹی۔‘‘

دولت کی ہوس جہاں انسان کے لیے دنیا کی بربادی کا نشان ہے وہاں آخرت کی ناکامی ہے لیکن یہی دنیا اور اس کی دولت اللہ کے احکام کے مطابق استعمال کی جائے تو وہ عبادت بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواحکامات دولت کے بارے میں عطا فرمائے ہیں ان کا تعلق اعتدال اور میانہ روی سے ہے۔ ارشاد نبویؐ ہے‘ فرمایا مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَد۔’’ جومیانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا‘‘۔ لیکن اگر انسان دولت کو حقوق پورا کرنے میں بھی صرف نہیں کرتا تو اس سے بخل پیدا ہوتا ہے اور ایسے شخص کو بخیل کہاجاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لا یَجْتَمعُ الشُحُّ وَالْاِ یْمَانُ فی قَلْبِ عَبْدٍاَبَداً۔’’ بخل اور ایمان کسی مومن بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے‘‘۔اور اگر انسان بے جا خرچ کرنا شروع کردے تو اسے اسراف اور فضول خرچی کہتے ہیں جس سے اللہ رب العزت نے منع فرمایا۔کلواوا شربوا ولا تسرفوا۔’’کھاؤپیو لیکن فضول خرچی نہ کرو‘‘۔معلوم ہوا کہ اگر مناسب جگہ بھی نہ خرچ کیاجائے تو بخل ہے اور اگر بے جا خرچ کیاجائے تو فضول خرچی ہے ان دو کے درمیان انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ہے اور یہی خرچ کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔علماء نے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی وضاحت فرمائی ہے کہ اگر اللہ کے بتائے ہوئے حقوق پر خرچ کیاتو یہ اللہ کے لیے خرچ کیا حتیٰ کہ اپنی جان پراپنے گھر والوں پر اپنے بچوں پر خرچ کرنا بھی اللہ ہی کی خاطر ہوتو وہ بھی عبادت ہے۔صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ ایک دینار تم نے اللہ کے راستہ میں خرچ کیا ، ایک دینار کسی غلام کوآزاد کرنے میں خرچ کیا، ایک دینار مسکینوں پر خرچ کیا اور ایک دینار گھروالوں پر خرچ کیا۔ تو وہ دینار جو گھر والوں پر خرچ کیا اس کا درجہ سب سے زیادہ ہے‘‘۔حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا۔’’ تم اللہ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اگر اپنی بیوی کو ایک لقمہ بھی کھلاؤ گے اللہ اس کا بھی اجر دے گا اور وہ صدقہ ہے‘‘۔یہ بات درست ہے کہ سادگی ایمان ہی کا حصہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ جب نصیب فرمائے اور وسعت و گنجائش ہوتو بدحال اور میلے کچیلے کپڑوں میں رہنا درست نہیں۔ابوالاحوص تابعی اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں بہت معمولی اور گھٹیا قسم کے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ مال ودولت ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں اللہ کا فضل ہے آپؐ نے پوچھا کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا مجھے اللہ نے ہر قسم کا مال دے رکھا ہے۔ اونٹ ، گائے ، بیل ، بھیڑبکریاں غلام باندیاں بھی ہیں۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا جب اللہ نے تمہیں مال ودولت سے نوازا ہے تو پھر انعام واحسان کا اثر تمہارے اوپر ضرور نظر آناچاہئے۔اللہ تعالیٰ جب بندہ کو دے بندہ اسے جائز خرچ کرے چاہے اپنی ذات پر خرچ کرے اللہ اسے پسند فرماتا ہے۔ انسان کسی پر خرچ کرے تو خرچ کرنے کے ان آداب کو ضرور ملحوظ رکھے جو اللہ رب العزت نے فرمائے۔