شہنشاہ ولیم دوم جسے بھائیوں نے الجھائے رکھا

مارک کارٹ رائٹ
سرخ بالوں اور رنگت کی وجہ سے ولیم دوم شاہ انگلستان کو بعض اوقات ولیم ’’روفوس‘‘ (لاطینی میں سرخ) بھی کہا جاتا ہے۔ وہ 1087ء سے 1100ء تک شاہ انگلستان رہا۔ وہ ولیم فاتح (دورِحکمرانی 1066-1087ء) کا بیٹا تھا اور بڑے بھائی رابرٹ کرتھوس کے برخلاف اپنے باپ کا وفادار رہا لہٰذا برطانیہ کا تاج اس کے سر پر سجا۔ ولیم اور رابرٹ بعد ازاں ایک دوسرے کے علاقوں پر کنٹرول کے لیے لڑتے رہے تاہم بالآخر صلح کر لی۔ تاریخ کی کتابوں میں اسے غیر مقبول بادشاہ کہا گیا ہے جس نے شاہانہ زندگی گزاری اور ریاست اور کلیسا کو کنگال کر دیا، البتہ اس نے اپنے والد کے حاصلات کو استحکام دیا اور اپنے جانشین، ایک اور بھائی، ہنری اول (دورحکمرانی 1100-1135ء) کو طویل عرصہ تک اور کم و بیش پُرامن طور پر حکمرانی کرنے دی۔ اس سے ملک کو استحکام نصیب ہوا جس کا حصول انگلستان پر نارمنوں کی فتح کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کے پیشِ نظر بہت ضروری ہو گیاتھا۔ خاندانی تعلقات ولیم 1056ء کے لگ بھگ نارمنڈی میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ولیم، ڈیوک آف نارمنڈی تھا، جسے 1066ء کے بعد ولیم فاتح یا ولیم اول شاہ انگلستان کہا جانے لگا تھا۔ ولیم کی ماں ماٹِلڈا آف فانڈرز تھی جو کاؤنٹ آف فانڈرز کی بیٹی اور ہنری اول آف فرانس کی قریبی رشتہ دار تھی۔ ولیم چار بھائیوں میں سب سے ایک تھا، ان میں رابرٹ کرتھسو اپنے والد کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کا باعث بنا۔ جوان شہزادے کی حیثیت سے 1075ء میں ولیم نے ویلز میں مہم جوئی کی اور اسے کچھ کامیابی حاصل ہوئی۔ اس نے ویلز کے بادشاہ کاراڈوگ اپ گروفڈ کو زیر کیا۔ اس جیت کے بعد اسے بادشاہ بننے کے بعد ویلز پر حملہ کرنے اور مکمل فتح کرنے کا حوصلہ ملا۔ 1078ء میں اپنے بھائی کی سرکشی کے دوران ولیم اپنے والد کا وفادار رہا۔ رابرٹ اپنے لیے زیادہ علاقہ اور اختیار چاہتا تھا اور اسے فلپ آف فرانس کی حمایت حاصل تھی۔ وہ خطرناک انداز میں بڑھتی ہوئی نارمن سلطنت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بے تاب رہتا تھا۔ فلپ نے فرانس اور نارمنڈی کی سرحد پر واقع قلعہ جربیروئی رابرٹ کے حوالے کیا۔ بادشاہ ولیم فاتح نے اس قلعے کا محاصرہ کیا لیکن میدانِ جنگ میں رابرٹ کی فوج کے ہاتھوں شکست کھا گیا۔ پھر باپ اور بیٹے نے صلح کر لی اور 1079 میں رابرٹ کو سکاٹ لینڈ سے بار بار ہونے والے دھاوں کو روکنے کے لیے نارتھمبریا بھیج دیا گیا۔ رابرٹ کچھ زیادہ پانے کے لیے مشتاق رہتا تھا اور 1087ء میں مانٹیس کے محاصرے میں اپنے باپ کے دشمنوں سے مل گیا۔ یہ خاندانی چپقلش انگلستان یا نارمنڈی کے لیے اچھی نہیں تھی لیکن ولیم روفوس کے لیے خوش خبری تھی۔ وہ اب اپنے باپ کا چہیتا اور ممکنہ جانشین بن گیا۔ بادشاہت 9 نومبر 1087ء کو فرانس میں ایک مہم کے دوران والد کی فطری وجوہ کی بنا پر موت کے بعد ولیم کو اسی برس ویسٹ منسٹر ایبے میں 26 ستمبر کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔ اس دوران رابرٹ کرتھوس کو ڈیوک آف نارمنڈی کا لقب اور علاقہ وراثت میں ملا۔ تیسرے بھائی ہنری کو اراضی کے بجائے نقد ملا۔ چھوٹا بھائی رچرڈ 1075ء میں فوت ہو گیا۔ نتیجتاً نارمن سلطنت جغرافیائی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور تینوں بھائی اگلی دو دہائیاں سبقت لینے کے لیے ایک دوسرے سے الجھتے رہے۔ بحیثیت بادشاہ ولیم کو اپنے باپ کے کاموں کو جاری رکھنا پڑا اور انگلستان، ویلز اور سکاٹ لینڈ کے بعض حصوں میں نارمن اقدار کو مستحکم کرنا پڑا۔ اس کے والد کے بنائے گئے بہت سے قلعوں کی دیکھ بھال اور کارلیسل میں ایک نئے قلعے کی تعمیر اسے کرنا پڑی۔ 1093ء میں ویلز میں کامیاب مہمات کے بعد اس نے ویلز کے بہت سے شہزادوں کی وفاداریاں سمیٹ لیں، جبکہ شمال میں کمبریا کو ملک میں ضم کر لیا گیا اور حریف بادشاہ ڈونلڈ سوم (دورحکمرانی 1093-1094ء) کو بدل کر 1097ء میں سکاٹ سے دوستی بڑھا لی۔ اس کی جگہ نسبتاً اطاعت گزار نیفیو ڈونکن دوم اور ایڈگر نے لے لی۔ ولیم نے اس جوڑے کی فوج سے مدد کی جس سے وہ اپنے چچا کو تاج سے الگ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ولیم کے چچا اوڈو آف بیوکس (انتقال 1097)، جسے اس کے سوتیلے بھائی ولیم فاتح نے ارل آف کینٹ بنایا تھا، مشتاق اور خطرناک رشتہ دار تھا۔ ایک موقع پر وہ انگلستان کا دوسرا طاقت ور ترین فرد بن گیا لیکن وہ ولیم فاتح کی حمایت کھو بیٹھا اور اسے اس وقت معافی ملی جب بادشاہ بستر مرگ پر تھا۔ اس کے بعد ولیم دوم کے مقابلے تخت کے لیے اس نے رابرٹ کرتھوس کی حمایت کی، مگر باغیوں کو شکست ہوئی اور ایک محاصرے کے نتیجے میں قلعہ روچسٹر اوڈو کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اس کی زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا اور اسے انگلستان سے ہمیشہ کے لیے جلا وطن کر دیا گیا۔ اوڈو کا انتقال جنوری 1097ء میں سسلی میں پہلی صلیبی جنگ (1095-1102ء) میں دوران روانگی ہوا۔ 1091ء میں ولیم نے نارمنڈی پر حملہ کیا اور ہر وقت موقع کی تلاش میں رہنے والے رابرٹ کو زیر کرلیا، پھر وہ اپنے بھائی ولیم کے ساتھ ہو لیا، یہاں تک کہ ان دونوں کی فوجوں نے تیسرے بھائی ہنری کو مونٹ سینٹ مشل میں شکست دی اور اس کے علاقے آپس میں تقسیم کر لیے۔ اس کے بعد رابرٹ نے پہلی صلیبی جنگ میں شرکت کی تیاری کے لیے اپنی ڈیوکی ولیم کے سپرد کی۔ رابرٹ 1096ء کو روانہ ہوا اور بالآخر ولیم پوری سلطنت کا غیر متنازع بادشاہ بن گیا۔ کلیسا اور ٹیکس ولیم کے اجڈ طرززندگی سے کلیسا کی شخصیات جلدپریشان رہنے لگیں۔ کلیسا کی آمدن کا رخ اپنی طرف کرنے کے لیے بادشاہ کی طرف سے نئے بشپس کی تقرری میں تاخیر سے صورت حال مزید خراب ہوئی۔ اپنی عسکری مہمات کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے اس نے سخت مالی پالیسی اپنائی اور بہت زیادہ ٹیکس لاگو کیے جس کے باعث 1095ء میں اسے قتل کرنے کا ایک منصوبہ بھی بنایا گیا۔ بادشاہ نے اس کے بعد سازشیوں کے خلاف مہم شروع کر دی جس میں اذیت رسانی، اعضا کاٹنے اور سزائے موت دینے کا سہارا لیا۔ موت ولیم دوم دو اگست 1100ء کو نیوفارسٹ میں شکار کے دوران حادثے میں مارا گیا۔ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ولیم ٹیرل کا تیر غلطی سے اس کے سینے میں پیوست ہو گیا۔ اس وقت اسے حادثہ ہی سمجھا گیا اور ولیم ٹیرل کو سزا نہ ہوئی۔ (ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا)