فائدہ مند مسالے

صائمہ اعجاز
برصغیر میں ہزاروں سال سے جڑی بوٹیوں اور مسالوں کے ذریعے علاج معالجے کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف طریقہ ہائے علاج کی تیز رفتار ترقی کے باوجود آج بھی کروڑوں افراد ان اشیا کی تاثیر میں یقین رکھتے ہیں۔ جو مسالے ہمارے کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں، ان کے بارے میں یہ کہنا غلط ہو گا کہ وہ ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس کے برعکس اگر ان مسالوں کو مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ صحت کے لیے فائدے کا باعث ہوں گے۔ آئیے، اس وقت چند ایسے مسالوں پر نظر ڈالتے ہیں، جن کا استعمال نہ صرف کھانوں کی لذت بڑھاتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ صحت کی خاطر ان مسالوں کو کھانے میں شامل کرنے کے علاوہ دوسرے طریقے بھی برتے جا سکتے ہیں۔ ہلدی: ہلدی کا سفوف مانع عفونت ہوتا ہے اور اس میں ایک ایسا کیمیائی مادہ پایا جاتا ہے جو نسیان سے محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔ ہلدی کی مانع سوزش تاثیر کھانسی، زکام اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے۔ سفید زیرہ: زیرے کو ابال کر سونے سے پہلے چائے کی طرح پینے سے نیند اچھی آتی ہے۔ اس میں مانع سرطان اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ فلفل دانہ: فلفل دانہ (Pepper Corn) سیاہ، سفید اور سبز رنگ میں ملتا ہے اور نظام انہضام کے لیے مفید ہے۔ اپنی وائرس کش خصوصیت کے باعث یہ کھانسی اور زکام کو بھی آرام پہنچاتا ہے۔ یہ سانس کی نالیوں کو صاف کرتا ہے۔ سرخ مرچ: تیز مسالوں والا کھانا کھانے سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ سرخ مرچ میں ایک ایسا جزو ہے جو درد کو بہت آرام پہنچاتا ہے۔ سرخ مرچ اگر تھوڑی مقدار میں پابندی سے کھائی جائے تو مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے۔ یہ ہاضمے میں مدد دینے والے عروق کی پیداوار میں محرک کا کام کرتی ہے اور اس کے کھانے سے جو پسینہ آتا ہے اس کے ساتھ جسم کے چند غیر ضروری مادے بھی خارج ہو جاتے ہیں۔ لہسن: لہسن صدیوں سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ یہ ایک طاقت ور مانع تکسید ہے جو جسم میں مضرت رساں فری ریڈیکلز کا توڑ کرتا ہے۔ لہسن میں پایا جانے والا کیمیائی مادہ Allicin ایک قدرتی ضد حیوی یا اینٹی بائیوٹک ہوتا ہے لہٰذا اس کا مستقل استعمال جسم کے مدافعتی نظام کو تقویت پہنچاتا ہے اور کھانسی زکام وغیرہ سے محفوظ رکھتا ہے۔ خیال رہے کہ Allicin سرطان سے محفوظ رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ لہسن خون کو پتلا کرتا ہے اور فشار خون اور کولیسٹرول کم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ لہسن جلد کی بیماریوں اور نکسیر سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔ ادرک: ادرک بہت اچھی مانع تکسید یا اینٹی اوکسیڈنٹ ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس کے کھانے سے دورانِ خون بہتر ہوتا ہے۔ ادرک نفخ اور اپھارے کو روکتی ہے اور ان میں افاقے کا باعث ہوتی ہے نیز ہاضمے کے عمل میں مدد دیتی ہے۔ ادرک اپنے کیمیائی مادے Zingerone کی وجہ سے جوڑوں کے درد اور جوڑوں کے پتھرانے سے بھی بچاتی ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ خون میں کمی اور جگر کی تکالیف کے لیے مفید ہے۔ دارچینی: دارچینی کی چھال کو ثابت استعمال کیا جائے یا سفوف کی شکل میں، یہ جراثیم کش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سانس کی بدبو دور کرنے اور ہاضمے میں مدد دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ پابندی سے استعمال کریں تو عام زکام سے بچا جا سکتا ہے۔ دار چینی کا تیل دانت اور سر کے درد کے لیے مفید ہے۔ چھوٹی الائچی: اس سے سانس میں مہک پیدااور متلی دور ہوتی ہے اور آنتوں کو آرام ملتا ہے۔ الائچی ملے تیز گرم پانی کی بھاپ سے دردِ سر میں افاقہ ہوتا ہے۔ دھنیا: دھنیے کے بیج اور پتیوں کے متعدد طبی فوائد ہیں۔ آیور ویدک طریقہ علاج میں دھنیے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ نظام انہضام کی حدت کم کرتا ہے اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ ہرا دھنیا یا ثابت دھنیا کھانے پکانے میں استعمال ہو یا اسے رات کو بھگو کر صبح پی لیا جائے، دونوں طرح مفید ہے۔ اس سے قبض میں بھی کمی ہوتی ہے۔ میتھی: مسور اور گوبھی وغیرہ جیسی چیزوں سے اگر نفخ ہو جائے تو کھانے میں میتھی کے دانے شامل کرنا مفید ہو گا۔ اپنی وائرس کش خصوصیت کے باعث یہ گلے کی خراش اور منہ کے قرحوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس سے بلند فشارخون کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مختصر یہ کہ مسالے جن کا ذکر اوپر کیا گیا، کھانے کے ذائقے میں اضافے کے ساتھ ساتھ انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں۔