قلعہ ہارلچ: حملہ آوروں کے لیے چیلنج



مارک کارٹ رائٹ

قلعہ ہارلچ شمالی ویلز میں واقع ہے جس کی تعمیر ایڈورڈ اول شاہ انگلستان (حکمرانی 1272-1307ء) نے 1283ء میں شروع کی۔ 1290ء تک اس کی تعمیر کم و بیش مکمل ہو چکی تھی، 1330ء تک اس میں کچھ مزید اضافے ہوتے رہے۔ یہ عہد وسطیٰ کے ہم مرکز (concentric) روایتی قلعوں کی ایک نمایاں مثال ہے۔ مقامی جغرافیے کے ماہرانہ استعمال، سمندر اور عظیم میناروں کے باعث ہارلچ حملہ آوروں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا جس کا ثبوت ویلز کی بغاوتوں کے دوران ہونے والے طویل محاصرے اور پندرہویں صدی عیسوی کے کٹھن حالات میں ہونے والی جنگِ گلاب ہیں۔ قلعہ ہارلچ کو یونیسکو نے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ تعمیر: 1272ء میں انگلستان کا نیا بادشاہ بننے کے بعد ایڈورڈ اول نے ویلز کے زیادہ تر حصے فتح کر لیے اور انہیں انگلستان میں رائج نظام کے تحت لے آیا۔ 1282ء میںویلز کے شہزادے لیویلین کی موت کے بعد ویلز کے شمالی پہاڑی علاقے ہی آزاد رہ گئے تھے اور بادشاہ نے یہاں کئی بڑے قلعے تعمیر کیے جن میں قلعہ کیرنارون، قلعہ کانوے اور قلعہ ہارلچ شامل ہیں۔ قلعہ ہارلچ پر کام کا آغاز جون 1283ء میں ہوا۔ مزدوروں، معماروں اور دستکاروں کی بہت بڑی تعداد کی نگرانی ماسٹر جیمز آف سینٹ جارجز کے ذمہ تھی۔ وہ ایک تجربہ کار ماہرِتعمیرات اور انجینئر تھا اور یورپ میں قبل ازیں کئی قلعے تعمیر کر چکا تھا۔ وہ ویلز میں ایڈورڈ کے دوسرے قلعوں کی تعمیر میں بھی خدمات انجام دیتا رہا۔ قلعے کی جگہ کا انتخاب محاصرے یا حملے کی صورت میں مقابلہ کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ہارلچ کو محفوظ ترین مقام پر استوار کیا گیا۔ یہ سمندر کے پاس ایک پتھریلا ٹیلا تھا (آج سمندر پیچھے ہٹ چکا ہے)۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی بندرگاہ یا گھاٹ بھی تھی، جس کا مطلب تھا کہ مشکل کے وقت کشتیوں سے بھی قلعے کو ضروری سامان بآسانی فراہم ہو سکتا تھا۔ (البتہ اس سامان کو پہنچانے والوں کو بھاری سامان کے ساتھ سیڑھیوں کے 100 سے زائد قدم چڑھنے پڑتے)۔ اگست 1283ء میں بادشاہ نے کام کی رفتار کا بذاتِ خود تین روزہ معائنہ کیا۔ تعمیر کے پہلے بڑے مرحلے کی تکمیل پر یقینا وہ بہت خوش ہو گا کیونکہ اس نے ماسٹر جیمز کو 1290ء میں قلعے کا کوتوال مقرر کر دیا، وہ 1293ء تک اس عہدے پر فائز رہا۔ 1303ء تک ہارلچ کی تعمیر پر 8,184 پاؤنڈز (آج کل ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے مساوی) خرچ ہو چکے تھے، اس کے باوجود یہ کیرنارون یا کونوے سے ایک تہائی سستا تھا۔ اس کا سبب اس کا نسبتاً چھوٹا ہونا، سنگ تراشی کا کم کام اور نقشے کی سادگی تھا۔ اس سے بھی اہم امر یہ تھا کہ اس میں مقامی پتھر استعمال ہوا جس سے بھاری پتھروں کی نقل و حمل پر ہونے والے بھاری خرچ کی بچت ہوئی۔ 1303ء سے 1330ء تک قلعے پر مزید 400 پاؤنڈز خرچ ہوئے۔ نقشہ: ہم مرکز قلعے کا فرش پختہ اور تقریباً چوکور ہے جس کے ہر کونے کی اندرونی دیوار پر بہت بڑے مینار ہیں اور ان کے مشرقی جانب بڑے دہرے میناروں میں مرکزی دروازہ ہے۔ مرکزی دروازے تک رسائی کے بیرونی راستے کا تحفظ دو ’’ڈی‘‘ نما میناروں سے کیا گیا ہے۔ یہاں ایک پُل بھی تھا، جو اب نہیں رہا۔ مرکزی راہ گزر میں یکے بعد دیگرے اوپر سے نیچے کی طرف بند ہونے والے لوہے کے جنگلے اور دو موٹے دروازے آتے۔ اس کے علاوہ اس تنگ داخلی راستے میں ’’موت کی موریاں‘‘ (روزنِ فصیل) ہیں تاکہ اگر کوئی یہاں تک پہنچ جائے تو اسے پریشان کرنے کے لیے مختلف ناگوار چیزیں پھینکی جا سکیں۔ مرکزی دروازے کی دو منرلوں پر بڑے آتش دان ہوا کرتے تھے۔ سلنڈر کی طرح کے جنوب مشرقی اور شمال مشرقی مینار میں تہ خانے تک جانے کا راستہ موجود تھا۔ یہاں سامان ذخیرہ ہوتا تھا۔ ان میناروں کے اندر قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ بغاوتیں اور خانہ جنگیاں: پندرہویں صدی کے اوائل میں ہارلچ کچھ عرصہ ویلز کی پارلیمنٹ کا مقام رہا۔ اوین گلینڈر نے اس پر حملہ کیا اور 1404ء سے 1415ء تک شہزادہ ویلز ہونے کا دعویدار رہا۔ اس نے انگلستان کی حکمرانی کے خلاف ایک اہم بغاوت کا آغاز کیا تھا جس کے دوران قلعے کو براستہ سمندر سامانِ ضرورت کی ترسیل نہ ہو سکی کیونکہ ویلز والوں کے نصب العین سے ہمدردی رکھنے والے فرانسیسی اور برٹنی بحری جہاز سمندری گشت کرتے رہے۔ نتیجتاً ہارلچ پر قبضہ ہو گیا اور یہ باغیوں کا ہیڈکوارٹر اور حکومت ویلز کا مرکز بن گیا۔ 1408ء میں بادشاہ کی فوج نے جواباً اس کا محاصرہ کر لیا جس کی قیادت مستقل میں شاہ انگلستان (حکمرانی 1413-1422ء) بننے والا ہنری پنجم کر رہا تھا۔ قلعے کے بہترین دفاعی اہتمام کے سبب اس پر توپوں سے مسلسل شدید بمباری کرنا پڑی۔ توپوں میں بہت بڑی ’’دخترِ شاہ‘‘ نامی توپ بھی شامل تھی۔ قلعے کا دفاع کرنے والوں کو اشیائے خورونوش کی کمی کا سامنا ہوا، بالآخر 1409ء میں قلعے میں دراڑ ڈال دی گئی۔ ہنری چہارم کی شاہی کا سب سے بڑا باغی مورٹائمر کارروائی میں مارا گیا لیکن اوین گلینڈر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ قلعے پر قبضے کے بعد ویلز کی بغاوت مؤثر انداز میں رفع ہو گئی۔ اس کے بعد ہارلچ کی بڑی پیمانے پر مرمت کی گئی اور 1418ء میں نیا داخلی پل بنایا گیا۔ 1461ء میں ہفت سالہ جنگ گلاب کے دوران ہنری چہارم سے وفادار رہنے کے سبب قلعہ ایک بار پھر بین الاقوامی معاملات میں ملوث ہوا۔ یہ لڑائی ہاؤس آف یارک اور لینکسٹر کے مابین تھی۔ البتہ محافظوں کا کیپٹن ڈافڈ اپ ایوان کو زیراحسان لایا گیا حالانکہ ہنری کا چچا جیسپر ٹوڈر مدد کے لیے فوج لے کر شمالی ویلز پہنچ چکا تھا، 14 اگست 1468ء کو اس نے یارک والوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اس قلعے میں لینکسٹر نواز فوج کی طویل مزاحمت سے متاثر ہو کر ایک نغمہ بہت مشہور ہوا… ’’دی مارچ آف دی مین آف ہارلچ‘‘۔ قلعہ ہارلچ میں آخری کارروائی انگلستان کی خانہ جنگی (1642-1651ء) کے دوران ہوئی۔ کوتوال کرنل ولیم اوون کے توسط سے قلعہ شاہ نوازوں کے ہاتھوں میں تھا جس کا محاصرہ 1646ء سے پارلیمنٹ نوازوں نے کر رکھا تھا۔ بالآخر یہاں کی نفری بہت کم ہو گئی اور 1647ء میں اس نے ہتھیار ڈال دیے۔ مرمت: سترہویں صدی کے بعد قلعے سے لاپروائی برتی جانے لگی لیکن جاذب نظر ہونے کے باعث اس نے کئی فن کاروں، بالخصوص جے ایم ڈبلیو ٹرنر (1775-1851ء) کو بہت متاثر کیا۔ مرمت کا قابلِ ذکر کام بیسویں صدی میں شروع ہوا۔ 1986ء کو ہارلچ سمیت ویلز کے تین دیگر قلعوں کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ آج یہ قلعہ عوام کے لیے کھلا ہے۔ (ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا)