نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: والدین کے لئے حقوق ۔اولاد کے لئے رہنما تحریر

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,242 پیغامات میں 1,616 اظہار تشکر

    والدین کے لئے حقوق ۔اولاد کے لئے رہنما تحریر

    والدین کے حقوق ۔ اولاد کیا کرے
    ایک عالم دین سے ایک نوجوان شخص نے شکایت کی کہ میرے والدین اڈھیر عمر ھیں اور اکثر و بیشتر وہ مجھ سے خفا رہتے ھیں حالانکہ میں انکو ہر وہ چیز مہیا کرتا ھوں جسکا وہ مطالبہ کرتے ھیں ۔۔
    ۔۔
    عالم دین نے نوجوان شخص کو سر سے پیروں تک دیکھا اور فرمانے لگے کہ بیٹا یہی تو انکی ناراضگی کا سبب ھے کہ جو وہ مانگتے ھیں تم ان کو لا کر دیتے ھو ۔۔
    نوجوان کہنے لگا کہ میں آپکی بات نہی سمجھ پایا تھوڑی سی وضاحت کر دیں ۔۔
    ۔۔
    عالم دین فرمانے لگے ۔۔۔۔بیٹا کیا کبھی تم نے غور کیا ھے کہ
    جب تم دنیا میں نہی آے تھے تو تمہارے آنے سے پہلےھی تمھارے والدین نے تمھارے لئے ہر چیز تیار کر رکھی تھی ۔
    تمھارے لئے کپڑے ۔
    تمھاری خوراک کا انتظام
    تمھاری حفاظت کا انتظام
    تمہیں سردی نہ لگے اگر گرمی ھے تو گرمی نہ لگے ۔
    تمہھارے آرام کا بندوبست
    تمھاری قضاے حاجت تک کا انتظام تمھارے والدین نے تمھاری دنیا میں آنے سے پہلے ھی کر رکھا تھا ۔۔
    ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔پھر آگے چلو ۔۔۔
    کیا تمھارے والدین نے کبھی تم سے پوچھا تھا کہ بیٹا تم کو سکول میں داخل کروائیں یا نہ ۔
    اسیطرح کالج یا یونیورسٹی میں داخلے کیلئے تم سے کبھی پوچھا ھو ۔۔بلکہ تمھارے بہتر مستقبل کیلئے تم سے پہلے ھی سکول اور کالج میں داخلے کا۔بندوبست کر۔دیا ھو گا ۔۔
    اسیطرح تمھاری پہلی نوکری کیلئے تمھارے سکول کی ٹرانسپورٹ کیلئے تمھارے یونیفارم کیلئے تمھارے والد صاحب نے کبھی تم سے نہی پوچھا ھو گا بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق بہتر سے بہتر چیز تمھارے مانگنے سے پہلے ھی تمہیں لاکر دی ھو گی ۔۔
    تمہہں تو شاید اسکا بھی احساس نہ ھو کہ جب تم نے جوانی میں قدم رکھا تھا تو تمھارے والدین نے تمھارے لئے ایک۔اچھی لڑکی بھی دھونڈنی شروع کر دی ھو گی جو اچھی طرح تمھاری خدمت کر سکے اور تمھارا خیال رکھ سکے ۔۔۔
    لڑکی تلاش کرتے ھوے بھی انکی اولین ترجیح تمھاری خدمت ھی ھوگی بلکہ انکے تو ذھین میں کبھی یہ۔خیال بھی نہی آیا ھو گا کہ ھم ایسی دلہن بیٹے کیلئے لائیں جو ھماری خدمت بھی کرے اور ھمارے بیٹے کی بھی ۔۔۔
    تمھارے لئے کپڑے ۔تمھاری پہلی سائیکل۔تمھارا پہلا موٹر سائکل ۔تمھارا پہلا سکول ۔تمھارے کھلونے ۔تمھاری بول چال ۔تمھاری تربیت ۔تمھارا رھن سہن چال چلن رنگ دھنگ گفتگو کا انداز ۔۔۔۔۔یہاں تک کے تمھارے منہ سے نکلنے والا پہلا لفظ تک تمکو تمھارے ماں باپ نے مفت میں سیکھایا ھے اور تمھارے مطالبے کے بغیر سیکھایا ھے ۔۔۔
    اور آج تم کہتے ھو کہ۔جو کچھ وہ مجھ سے مانگتے ھیں میں انکو لا کر دیتا ھوں اسکے باوجود وہ۔خفا رھتے ھیں ۔۔۔
    جاو والدین کو بن مانگے دینا شروع کرو ۔
    انکی ضروریات کا خیال اپنے بچوں کی ضروریات کیطرح کرنا شروع کرو ۔۔
    اگر انکی۔مالی مدد نہی کر سکتے تو انکو اپنا قیمتی وقت دو ۔انکی خدمت کرو ۔گھر کی۔زمہ داریاں خود لو ۔۔جیسے اپنے بچوں کے باپ بنے ھو ویسے ھی اپنے والدین کی نیک اولاد بنو ۔۔اور انکو بن مانگے دینا شروع کرو ۔۔
    اپنے آپ کو اس قابل بنا لو کہ انکو تم سے مانگنے کی یا مطالبے کی ضرورت ھی نہ پڑے ۔۔یا انکو کبھی تمھاری کمی محسوس ھی نہ ھو کم سے کم۔اتنا وقت تو انکو عطا کردو ۔۔۔۔انکو مسائل پوچھو ۔۔
    اگر انکی۔مالی مدد نہی کر سکتے تو انکی۔خدمت کرو
    کیا کبھی ماں یا باپ کے پاوں کی پھٹی ھوئی ایڑیاں دیکھیں ھیں تم نے ؟؟
    کیا کبھی ان پھٹی ھوئی ایڑیوں میں کوئی کریم یا تیل لگایا ھے جیسے وہ تمکو چھوٹے ھوتے وقت لگاتے تھے ؟؟
    کیا کبھی ماں یا باپ کے سر میں تیل لگایا ھو کیونکہ جب تم بچے تھے تو وہ باقاعدہ تمھارے سر میں تیل لگا کر کنگھی بھی کرتے تھے ۔۔تمھای ماں تمھارے بال سنوارتی تھی کبھی ماں کے بال سنوار کر تو دیکھو ۔۔۔
    کیا کبھی باپ کے پاوں دبائیں ھیں حالانکہ تمھارے باپ نے تمہیں بہت دفعہ۔دبایا ھو گا ۔۔۔
    کیا کبھی ماں یا۔باپ کیلئے ہاتھ میں پانی یا تولیہ لے کر کھڑے ھوے ھو ۔جیسے وہ تمھارا منہ بچپن میں نیم گرم پانی سے دھویا کرتے تھے ۔۔۔۔
    کچھ کرو تو سہی
    ۔۔۔۔۔ انکو بغیر مانگے لا کر دو
    ۔۔۔۔۔۔ان کی ذمہ داریاں اٹھا کر دیکھو ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔انکو وقت دے کر دیکھو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکی خدمت کر کے دیکھو ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکو اپنے ساتھ رکھو ھمیشہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکو اپنے آپ۔پر۔بوجھ مت سمجھو نعمت سمجھ کر دیکھو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جسطرح انہوں نے تم کو بوجھ نہی سمجھا بغیر کسی معاوضہ کے تمھاری دن رات پرورش کر کے معاشرے کا ایک کامیاب انسان بنایا ھے ۔کم سے کم انکی وھی خدمات کا صلہ سمجھتے ھوے ان سے حسن سلوک کا رویہ اختیار کرو ۔۔پھر دیکھنا وہ بھی خوش اور اللہ بھی خوش ۔۔
    عالم دین کی یہ باتیں سن کر نوجوان اشک بار ھوگیا اور باقی کے حاضرین کی آنکھیں بھی۔نم ھو گئیں ۔۔
    ۔۔واقعی۔یہ حقیقت ھے کہ ایسے نصیحت آموز باتیں دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی میں نہی مل۔سکتی صرف اور صرف دینی علماء ھی ایسی تربیت کر سکتے ھیں ۔۔۔
    اللہ۔ایسے علماء کا سایہ ھمیشہ۔قائم رکھے ۔۔
    اور ھر انسان کو یہ۔توفیق اور خوش نصیبی عطا کرے کہ۔وہ۔اپنے والدین کی۔ڈیمانڈ سے پہلے ھی انکی۔ضروریات کو جانتے ھوے پایہ تکمیل تک پہنچا دے ۔۔
    آمین یا رب العالمین ۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    Maria (01-03-2020),حبیب صادق (01-04-2020)

  3. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2019
    پيغامات
    462
    شکریہ
    487
    409 پیغامات میں 412 اظہار تشکر

    جواب: والدین کے لئے حقوق ۔اولاد کے لئے رہنما تحریر

    بڑے عمدہ طریقے سے سمجھایا گیا ہے

    اللہ تعالٰی ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق دے

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے Maria کا شکریہ ادا کیا:

    حبیب صادق (01-04-2020)

  5. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    1,762
    شکریہ
    586
    601 پیغامات میں 621 اظہار تشکر

    جواب: والدین کے لئے حقوق ۔اولاد کے لئے رہنما تحریر

    ثمہ آمین یا رب العالمین
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    آخری ادارت منجانب حبیب صادق : 01-04-2020 وقت 01:55 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University