آکٹوپس کے تین دل ہوتے ہیں !...... وردہ بلوچ

٭ آکٹوپس کے تین دل ہوتے ہیں جو اس کے نیلے رنگ کے خون کو پمپ کرتے ہیں۔ ٭ آکٹوپس سپیوں کا رشتہ دار ہے لیکن ارتقا کے نتیجے میں اس کا خول نہیں رہا۔ ٭ آکٹوپس تمام سمندروں میں اور پانی کی تمام گہرائیوں میں پائے جاتے ہیں۔ ٭ تمام آکٹوپسوں میں زہر ہوتا ہے۔ ان کے زہر میں انزائم ہوتے ہیں جن سے وہ خوراک ہضم کرتے ہیں۔ ٭ آکٹوپس انسانوں کو پہچاننے اور یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٭ تمام طرح کے آکٹوپس کی زندگی مختصر ہوتی ہے۔ طویل العمر آکٹوپس تین یا چار برس زندہ رہتے ہیں۔ زیادہ تر چھوٹے آکٹوپسوں کی زندگی چھ ماہ سے ایک سال تک ہوتی ہے۔ ٭ جس قسم کے آکٹوپس پر نیلے دائرے ہوتے ہیں اس کا زہر انسان کے لیے مہلک ہو سکتا ہے۔ ٭ آکٹوپس 30 ملی سیکنڈز میں اپنا ظاہر بدل سکتے ہیں۔ یہ اپنے جِلد میں رنگ پیدا کرنے والے ننھے تھیلوں، جنہیں کروماٹوفورس کہا جاتا ہے، کو پُھلا کر ایسا کرتے ہیں۔ ٭ آکٹوپس کے خون کا نیلا رنگ آکسیجن لے کر جانے والے رنگ دار مادے (pigment) کی وجہ سے ہے جسے ہیموسیانین کہتے ہیں۔ ٭ چونکہ آکسیجن لے جانے والا مادہ ہیموسیانین، ہیموگلوبن جتنا مؤثر نہیں اس لیے آکٹوپس کے دو مزید دل ہوتے ہیں۔ ٭ آکٹوپس بچے نہیں انڈے دیتے ہیں۔ ٭ ڈولفن، کوا اور چیمپنزی کی طرح آکٹوپس ان جانداروں میں شامل ہیں جو آلات استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٭ غیر فقاری (invertebrate) جانوروں میں سب سے بڑا دماغ آکٹوپس کا ہے۔ ٭ بعض آکٹوپس زمین پر چہل قدمی، یہاں تک کہ بھاگ سکتے ہیں۔ ٭ آکٹوپس واحد سمندری جانور ہے جو مرتبان کا ڈھکن کھول سکتا ہے۔ ٭ آکٹوپس کے تقریباً دو تہائی اعصاب بازوؤں میں ہوتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ کٹنے پر بھی یہ افعال سرانجام دیتے اور حساس رہتے ہیں۔ ٭ دنیا کا سب سے بڑا آکٹوپس بحرالکاہل کا ’’انٹروکٹوپس ڈفلینی‘‘ ہے۔ اس کا وزن 15 کلوگرام ہوتا ہے۔ اس کے بازوؤں کا پھیلاؤ 14 فٹ ہوتا ہے۔ جہاں آکٹوپس کے تین دل ہوتے ہیں وہیں 9 دماغ ہوتے ہیں۔ ٭ سب سے چھوٹے آکٹوپس کی قسم ’’آکٹوپس وُلفی‘‘ ہے جو ایک انچ لمبی ہوتی ہے اور اس کا وزن ایک گرام سے کم ہوتا ہے۔ ٭ آکٹوپس کا منہ اس کے بازوؤں کے نیچے ہوتا ہے۔ ٭ آکٹوپس تازہ پانی میں نہیں پائے جاتے۔ ٭ آکٹوپس کا بازو اگر کٹ جائے تو دوبارہ ’’اُگ‘‘ آتا ہے اور پہلے کی طرح فعال ہو جاتا ہے۔ ٭ آکٹوپس میں ہڈیاں نہیں ہوتیں۔