نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,872
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے

    ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
    حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگِیر ہیں غنچے
    خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے
    لمحاتِ مسرت ہیں تصوّر سے گریزاں
    یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
    تاروں سے سجالیں گے رہِ شہرِ تمنا
    مقدور نہیں صبح، چلو شام ہی آئے
    کیا راہ بدلنے کا گِلہ ہم سفروں سے
    جِس رہ سے چلے تیرے درو بام ہی آئے
    تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کُوئے تمنا
    کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
    باقی نہ رہے ساکھ، ادا دشتِ جنوں کی
    دل میں اگر اندیشۂِ انجام ہی آئے
    شاعر ادا جعفری

  2. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے

    واہ بہت خوب۔ شئیرنگ کاشکریہ۔

متشابہہ موضوعات

  1. کانٹوں کا اِک مکان مرے پاس رہ گیا
    By عبادت in forum فاخرہ بتول
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 07-12-2014, 11:09 AM
  2. جوابات: 3
    آخری پيغام: 05-16-2012, 07:58 PM
  3. جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-03-2012, 01:30 PM
  4. ہے آپ کے ہونٹوں پر جو مسکان وغيرہ
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 03-31-2012, 01:34 PM
  5. فوری جواب کے آپشن میں مسکراہٹوں کی کمی
    By راجہ صاحب in forum تجاویز،مشورے اور شکایات
    جوابات: 17
    آخری پيغام: 01-04-2011, 09:43 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University