طبیب اور پیر حکایت مولانا رومیؒ
ایک بوڑھا جس کے پائوں قبر میں لٹکے ہوئے تھے ،طبیب کے پاس پہنچا اور کہنے لگا کہ میں ضعف دماغ کا شکار ہوں۔ کوئی ایسی مقوی دوا دیجئے کہ یہ ضعف جاتا رہے۔ طبیب نے ہنس کر کہا کہ بڑے میاں ،یہ ضعفِ دماغ بڑھاپے کی وجہ سے ہے۔ یہاں دوا کیا کام دے گی۔ بوڑھے نے پھر کہا کہ میری آنکھوں میں دھندلاہٹ آگئی ہے۔ صاف دکھائی نہیں دیتا۔ طبیب نے جواب دیا کہ حضرت یہ بھی بڑھاپے کا روگ ہے۔ بڈھے نے کہا کہ کمر میں بھی درد رہتا ہے۔ طبیب بولا کہ اس کا سبب بھی بڑھاپا ہے۔ پھر بڈھے نے کہا کہ کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا۔ طبیب نے جواب میں کہا کہ کیا عرض کروں اس کا باعث بھی بڑھاپا اور ضعف معدہ ہے۔ بڈھے نے شکایت کی کہ جب چلتا ہوں تو ہانپنے لگتا ہوں اور سانس رُک رُک جاتا ہے۔ طبیب نے گردن ہلا کر کہا بے شک صحیح فرمایا۔ بڑھاپا سو بیماریوں کی ایک بیماری ہے۔ بڈھے نے کہا کہ جان تنگی میں ہے۔ کوئی چیز دل کو نہیں بھاتی۔ طبیب نے کہا کہ یہ سب کرشمے بڑھاپے کے ہیں۔ اپنی ہر شکایت کے جواب میں بڈھے نے طبیب کی زبان سے ایک ہی لفظ سنا تو جھلا کر بولا ’’تجھے کس احمق نے طبیب بنا دیا؟ برابر ایک ہی بات رٹے جاتا ہے۔ ارے کیا استاد نے اتنی ہی طبابت بتائی ہے؟ خبر نہیں کہ ہر مرض کی دوا،اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتِ کاملہ سے پیدا فرمائی ہے؟ مگر تو اپنے گدھے پن کا مظاہرہ کیے ہی جاتا ہے۔‘‘ جب بڈھا خوب غصہ ہوا تو طبیب نے مسکرا کر کہا ’’اجی حضرت! یہ غم و غصہ بھی بڑھاپے کی برکتوں میں سے ہے۔سنیے جس میں قوتِ برداشت باقی نہیںرہتی وہ گرما گرم آوازیں حلق سے نکالتا ہے اور جس کا معدہ ایک گھونٹ پانی قبول نہیں کرتا اسے قے ہو جاتی ہے۔ ہاں! لیکن وہ بڈھا ان عیوب سے مستثنیٰ ہے جو حق کا شیدا اور اس پر جان نثار کرتا ہے۔ یہی پاک و صاف زندگی ہے۔ ایسا شخص بظاہر بوڑھا مگر باطن میں معصوم بچہ ہے۔ ٭…٭…٭