ذہین اور خوبصورت ڈولفن ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : لاورا کلیپن باخ

ڈولفنز دانتوں والی وہیلز سے تعلق رکھنے والی 44 اقسام کا ایک گروہ ہیں۔ کرۂ ارض کے تمام سمندروں میں ڈولفنز پائی جاتی ہیں۔ ڈولفنز کی بعض اقسام جنوبی ایشیا اور جنوبی امریکا کے دریاؤں کے میٹھے پانیوں میں رہتی ہیں۔ ڈالفنز کی سب سے بڑی قسم (اوکرا) 30 فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہو سکتی ہے جبکہ سب سے چھوٹی، ہیکٹرز ڈولفن، صرف ساڑھے چار فٹ لمبی ہوتی ہے۔ ڈولفنز اپنی ذہانت، غول میں رہنے کی فطرت اور بازی گری کی صلاحیتوں کی وجہ سے جانی مانی ہیں۔ لیکن ان میں ایسی صلاحیتیں بھی پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں اور یہی ایک ڈولفن کو ڈولفن بناتی ہیں۔ ڈولفنز چھوٹے دانتوں والی فیل ماہی (Cetaceans) ہیں۔ یہ بحری میملز کا وہ گروہ ہیں جو زمینی میملز سے ارتقا پذیر ہوا۔ ڈولفنز کی خمیدہ ’’چونچ‘‘ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہ ہر وقت مسکراتی رہتی ہیں۔ ڈولفنز ان جانوروں سے ارتقا پذیر ہوئیں جن کی ٹانگیں جسم کے نیچے تھیں، اسی لیے ڈولفنز کی دُم تیرتے ہوئے اوپر نیچے حرکت کرتی ہے جبکہ مچھلیوں کی دم دائیں بائیں حرکت کرتی ہے۔ دانتوں والی دیگر وہیلز کی طرح ان میں سونگھنے کی استعداد کم ہوتی ہے۔ ان کی بعض اقسام میں 130 تک دانت ہوتے ہیں۔ ڈولفنز دنیا کے تمام بحروں اور بحیروں میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سمندری ساحلی اور کم گہرے پانیوں کے علاقے بھی شامل ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر ڈولفنز نسبتاً گرم، منطقہ حاری یا معتدل پانیوں میں رہنا پسند کرتی ہیں لیکن ایک قسم، اوکرا (جسے بعض اوقات کِلر وہیل بھی کہا جاتا ہے) بحر قطب شمالی اور بحر شمالی انٹارکٹیکا دونوں میں رہتی ہے۔ ڈولفن کی پانچ اقسام تازہ اور قدرے نمکین پانی کو ترجیح دیتی ہیں اور یہ براعظم جنوبی امریکا اور جنوبی ایشیا میں رہتی ہیں (اور ان میں دریائے سندھ میں پائی جانے والی اندھی ڈولفن ’’بلہن‘‘ بھی شامل ہے)۔ڈولفنز گوشت خور ہیں۔ یہ شکار کو اپنے مضبوط دانتوں سے پکڑتی ہیں، اس کے بعد اسے یا تو نگل لیتی ہیں یا چیر پھاڑ کر چھوٹے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔ یہ نسبتاً کم کھاتی ہیں، مثال کے طور پر باٹل نوز ڈولفن اپنے وزن کا تقریباً پانچ فیصد روزانہ کھاتی ہے۔ ڈولفنز کی بہت سی اقسام کھانے کی تلاش کیلئے ہجرت کرتی ہیں۔ یہ بہت طرح کے جانور کھاتی ہیں جن میں مچھلیاں، قیر ماہی (Squid)، قشری، جھینگے اور آکٹوپس شامل ہیں۔ بڑی اوکرا ڈولفن بحری میملز جیسا کہ سِیل اور بحری پرندے جیسا کہ پینگوئن بھی کھاتی ہے۔ ڈولفن کی بہت سی اقسام گروہ کی صورت میں مچھلیوں کو نرغے میں لیتی ہیں۔ یہ ماہی گیروں کی کشتیوں کا بھی پیچھا کرتی ہیں تاکہ ان کی پھینکی ہوئی ’’بے کار اشیا‘‘ کھا سکیں۔ زیادہ تر ڈولفنز پانچ سے آٹھ برس کی عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں۔ ڈولفن ایک سے چھ سالوں میں ایک بچہ دیتی ہیں اور اسے دودھ بھی پلاتی ہیں۔ بچہ 11 سے 17 ماہ ماں کے پیٹ میں رہتا ہے۔ اس عرصے کی طوالت پر مقام کا اثر بھی پڑتا ہے۔ پیدائش سے قبل ماں خود کو غول سے الگ کر لیتی ہے اور پانی کی بالائی سطح پر آ جاتی ہے۔ پیدائش پر بچے 35-40 انچ لمبے ہوتے ہیں اور ان کا وزن 23 سے 65 پاؤنڈز ہوتا ہے۔ ماں فوراً اپنے بچے کو سطح آب پر لے آتی ہے تاکہ وہ سانس لے سکے۔ بچہ اپنے والدین سے دِکھنے میں مختلف ہوتا ہے۔ اس کی جِلد گہرے رنگ کی ہوتی ہے جس پر ہلکے نشانات ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتے جاتے ہیں۔ اس کے مہیپر خاصے نرم ہوتے ہیں لیکن بہت جلد سخت ہو جاتے ہیں۔ بچہ فوراً تیرنے کے قابل ہوتا ہے لیکن اسے غول کے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ دراصل ڈولفن زندگی کے پہلے دو سے تین برس دودھ پیتی رہتی ہے اور ماں کے ساتھ رہتی ہے۔ ماں کے ساتھ رہنے کا عرصہ آٹھ سال تک ہو سکتا ہے۔ ڈولفن کی ایک قسم ’’بیجی‘‘ کی آبادی میں گزشتہ چند دہائیوں میں بہت تیزی سے کمی ہوئی ہے۔ اس کا سبب چین کے دریائے یانگتسی کا آلودہ ہونا اور صنعتی مقاصد کے لیے اس کے پانی کا استعمال ہے۔ 2006ء میں دریا میں باقی بچ جانے والی ’’بیجی‘‘ کے مقام کے تعین کے لیے ایک سائنسی مہم شروع کی گئی لیکن اس میں یانگتسی میں کوئی ایک بھی ’’بیجی‘‘ نہ ملی۔ اس کے بعد اسے عملاً ناپید قرار دے دیا گیا۔ ڈولفنز انسانوں کو ہمیشہ مسحور کرتی رہی ہیں، لیکن انسانوں اور ڈولفنز کے درمیان تعلق پیچیدہ ہے۔ ڈولفنز کہانیوں اور دیومالائی داستانوں کے ساتھ ساتھ عظیم فن پاروں کا بھی موضوع رہی ہیں۔ ذہین ہونے کی بنا پر ڈولفنز کو فوجی مشقوں اور تھراپی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کرتب دکھانے کے مقصد کے تحت انہیں قید رکھا اور سدھایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اس عمل کو ظالمانہ سمجھتے ہیں۔ (ترجمہ و تلخیص: وردہ بلوچ)