جو اہلِ دل ہیں ، کیفیت سے کب باہر نکلتے ہیں
کہ ہر منظر سے طیبہ کے ، کئی منظر نکلتے ہیں

شبِ معراج اُن کی اک جھلک جس راہ پر دیکھی
اُسی پر آج تک ہر شب مہ و اختر نکلتے ہیں

طوافِ قصر و ایواں اورہم،توبہ ، معاذ اللہ
کہ ہم جیسوں کے ارماں آپ کے در پر نکلتے ہیں

رہے آباد میخانہ ترا اے ساقیِؐ بطحیٰ!
کہ جس سے انبیاء و اولیا پی کر نکلتے ہیں

عجب ہے اُن کے دیوانوں کا عالم راہِ طیبہ میں
جنوںِ شوق کی اوڑھے ہوۓ چادر نکلتے ہیں

جو زائر ہیں، وہ زندہ لَوٹتے ہیں حاضری دے کر
جو عاشق ہیں ، وہ اُن کے شہر سے مر کر نکلتے ہیں

بہا لے جاۓ جن کو موجِ عشقِ ساقئؐ کوثر
قیامت میں سہی ، لیکن لبِ کوثر نکلتے ہیں

تری نسبت کی دولت سیر چشمی بخش دے جن کو
شہان، بُو الہوس سے وہ گدا بہتر نکلتے ہیں

میسر آگیا تھا لمسِ نعلینِ نبیؐ جن کو
اب ان ذرات سے خورشید کے تیور نکلتے ہیں

سرِ محشر کہیں گے آپؐ ِ دامن خشک سب ، تیرے
مِرے حصے میں کر دے ، جن کے دامن تر نکلتے ہیں

پرستارِ خرد ! نعتِ نبیؐ آساں نہیں اِتنی
کہ یہ اشعار دل کی راہ سے ہو کر نکلتے ہیں

حنیف اپنی اُمیدیں بھی ہیں اُ س کوچے سے وابستہ
کہ جس کُوچے کے بے زر ، وقت کے بُوذرنکلتے ہیں
------
حنیف