نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: کچھ آسرے کسبِ فیض کے ہیں ، کچھ آئینے کشف نور کے ہیں

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    5,512
    شکریہ
    654
    715 پیغامات میں 742 اظہار تشکر

    کچھ آسرے کسبِ فیض کے ہیں ، کچھ آئینے کشف نور کے ہیں

    کچھ آسرے کسبِ فیض کے ہیں ، کچھ آئینے کشف نور کے ہیں
    عجب سلیقے شہ زماں کے ، عجب قرینے حضور کے ہیں​
    حرا سے کرنوں کی جگمگاہٹ ہمارے دل تک پہنچ رہی ہے
    یہ گھڑیاں پل پل مسرتوں کی ، یہ لمحے پیہم سرور کے ہیں​
    میں دل میں جھانکوں تو دیکھتا ہوں جھلک ترے روضہِ حسیں کی
    کہ فاصلے جو نگاہ میں ہیں ، مغالطے نزد و دور کے ہیں​
    حبیب مولائے کل کے اعجاز و فقر و جود و سخا کے آگے
    جو ریزہ ریزہ بکھر رہے ہیں صنم متاع غرور کے ہیں​
    مرے نبی کی نظر مکمل جمالِ یزداں میں منہمک ہے
    مقام سدرہ کی وسعتوں میں کہاں حجابات طور کے ہیں​
    خدا سے بندے کی قربتوں میں کوئی مزاحم نہیں ہے اصغر
    جو اٹھ رہیں ہیں گماں کے پردے یہ سب کرشمے حضور کے ہیں​

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    Maria (02-21-2020)

  3. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2019
    پيغامات
    566
    شکریہ
    598
    443 پیغامات میں 447 اظہار تشکر

    جواب: کچھ آسرے کسبِ فیض کے ہیں ، کچھ آئینے کشف نور کے ہیں

    بہت عمدہ انتخاب
    شیئر کرنے کا شکریہ

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے Maria کا شکریہ ادا کیا:

    حبیب صادق (02-22-2020)

  5. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    5,512
    شکریہ
    654
    715 پیغامات میں 742 اظہار تشکر

    جواب: کچھ آسرے کسبِ فیض کے ہیں ، کچھ آئینے کشف نور کے ہیں

    پسند اور رائے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

اس موضوع کے کلیدی الفاظ (ٹیگز)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University