صفحہ 14 از 16 اوليناولين ... 41213141516 آخریآخری
نتائج کی نمائش 131 تا: 140 از: 151

موضوع: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

  1. #131
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    938
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    وہ بھی نہیں بچے جن پہ اس وبا کوپھیلانے کا شک کیا جا رہا تھا
    کچھ احباب سوشل میڈیا پر لکھ رہے ہیں کہ اسرائیل میں کورونا کیوں نہیں پھیلا؟ یہ ان کی سازش ہے کہ وہاں نہیں پھیل رہا وغیرہ وغیرہ۔ ان کی سازش ہے یا نہیں یہ تو بعد میں پتہ چل ہی جائے گا لیکن احباب کو بتاتے چلیں کہ اسرائیل بھی اس وبا سے نہیں بچا ،کورونا وہاں بھی پہنچ چکا ہے چونکہ اسرائیل کی آبادی اتنی زیادہ نہیں، دوسرا ان کے ملک میں آمد و رفت اور چیکنگ کا نظام بہت سخت ہے، جس کی وجہ سے اسرائیل کے قریب ترین یورپی ملک اٹلی کے مقابلے میں وبا کا اتنا زیادہ پھیلاؤ نظر نہیں آ رہا۔ لیکن تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 23 مارچ تک اسرائیل میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 1,656 ہو گئی ہے۔ وائرس سے متاثر ہو کر مرنے والی دوسری شخصیت ایک عورت ہے جس کی عمر 67 برس بتائی جا رہی ہے جس کا تعلق ہولان شہر سے بتایا جا رہا ہے۔ بہرحال سچ یا جھوٹ؟ وہ بھی وائرس کا نشانہ بن رہے ہیں جن پہ اس وبا کوپھیلانے کا شک کیا جا رہا تھا۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  2. #132
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    938
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    شرح سود اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، دیر کیوں کی؟ کام کرنا نہیں آتا
    شہباز شریف کا ٹاپ گیئر میں واپس آنا، بلاول کی طرف سے اپوزیشن کی وڈیو کانفرنس منعقد کرنے کا شکریہ کا سپیڈ سے آنا، وزراء کا بلبلانا، شرح سود اور پیٹرولم مصنوعات کی قیمتوں گر جانا اسے سمجھنے کے لیے راکٹ سائنس کا طالب علم نہیں بلکہ پولیٹیکل سائنس کا طالب علم ہونا ضروری ہے، یہ پولیٹیکل سائنس ہے جس کی وجہ سے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوئے 2 ماہ ہو گئے اور آج دو ماہ بعد حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کی کمی کا اعلان کیا، گویا پہلے خزانے کا پیٹ بھرا، مہنگائی سے عوام کو مارا اور پھر اپوزیشن جماعتوں کو ایک بار پھر ہاتھ ملاتے دیکھا تو جتنی کمی ممکن تھی اس سے کہیں کم قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا تاکہ گرتی ساکھ اور حکومت دونوں کو بچایا جائے۔ شکر ہے کہ ان سے یہ اقدام بھی ہو گیا وگرنہ ممکن تھا انہوں نے کورونا کا بہانہ کر کے اسے ٹال دینا تھا تو ہم کیا کر لیتے؟ لیکن اس کی ٹائمنگ ایسی ہے کہ کہ عوام کو اس کا فائندہ کم پہنچے گا کیونکہ عوام کے باہر نکلنے پر پابندی ہے، موٹر بائیک پہ صرف ایک سواری کے ساتھ سفر کی اجازت ہے، ایسے میں کوئی باہر نکلے گا تو اسے قیمتوں میں کمی کا فائدہ ہو گا ناں؟ البتہ باربرداری کےمیدان میں اخراجات میں ضرور کمی ہو گی۔ جہاں تک کورونا وائرس اور معیشت یا ملکی نظام کو چلانے کی بات ہے تو یہ حکومت ایک دن کچھ کہہ رہی ہوتی ہے اور دوسرے دن اس کے الٹ کام ہو رہا ہوتا ہے۔پرسوں موصوف فرما رہے تھے "لاک ڈاؤن نہیں کروں گا"، پھر کرنے والوں نے وائرس کو بڑھتا دیکھ کر اپنے دستے بھیج کر لاک ڈاؤن یا جو بھی نام دیں وہ کر کے دکھایا۔ صحافی نے اس مدعے پر سوالکا باؤنسر مارا تو لاک ڈاؤن کرفیو کی گگلیاں مارتے ہوئے عوام کو مزید الجھادیا۔ اس طرزِ حکومت کو کیا کہیں کہ جہاں حکومت کا سربراہ کہتا ہے "مجھے پتہ چلا کہ فلاں کام ہو گیا ہے"، میرا سوال یہ بنتا ہے کیا کرتا کوئی اور ہے اور ان کو صرف پتہ چلتا ہے؟ لگتا ہے ان کو کرسی پر بٹھایا ہوا ہے اور حکومت کوئی اور چلا رہا ہے۔ ملک کے معیشت دان گزشتہ دو ماہ سے چیخ رہے ہیں کہ "شرح سود کم کرو" مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی، صحافی نے شرح سود میں کمی کا سوال پوچھا تو "فرماتے ہیں ابھی مشاورت جاری ہے"،ادھر پریس ٹاک ختم ہوئی اور ساتھ ہی گورنراسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید کمی کا اعلان کر دیا۔ یہ حکومت ہے یا مذاق؟ وہیں اسی پریس کانفرنس کے ساتھ ہی یہ اعلان ہوتا تو زیادہ مناسب ہوتا، حکومتی فیصلوں کو دیکھیں تو ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ سامنے کوئی اور ہے اور اسے چلا کوئی اور رہا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ شرح سودکو %1.5 کم کر کے اسے %11 پر لایا گیا ہے لیکن اس میں ابھی بھی بہت کم کمی کی گئی ہے، اسے سنگل فگر میں ہونا چاہیے تھا۔ جس کام کا عوام کو براہِ راست تھوڑا بہت فائدہ ہواہے وہ ہے پٹرولیم مصنوعات کی کمی ہے جس سے اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہو گی، کھانے پینے کی چیزوں پر سے ٹیکس کا خاتمہ بھی ایک اچھا اقدام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزگار میں کمی کی وجہ سے بجلی گیس سمیت یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کو تین ماہ کی قسطوں پر بہتر فیصلہ ہے۔ لیکن عقلبندایکمعاملےمیں گند کر گئے وہ تھادیہاڑی دار افراد کو 3 ہزار ماہوارامداد جو کہ بالکل ایک سنگین مذاق ہے، کوئی حکومتی وکیل مجھے حساب کر کے بتائے گا کہ ایک غریب کا بجلی کا بل اس سے زیادہ ہوتا ہے وہ بجلی جلائے گا یا روٹی کھائے گا؟ اس 3 ہزار سے وہ کیا کیا بھگتائے گا؟ پتہ نہیں چلتا کہ اس حکومت کا وزیراعظم کون ہے اور نظام کون چلا رہا ہے؟ ظاہر ہے جب آئی ایم ایف کے غیر ملکی کارندے نظام چلائیں گے تو ان سےعوامی مفاد کے فیصلے ممکن نہیں۔دیکھا جائے تو ملک کی مو جودہ صورت حال کے مجرم وہ ہیں جو سسٹم سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے ہیں، کسی کو ٹکنے نہیں دیتے، اور ایسے ایسے نمونے لے کر آتے ہیں جنہیں معیشت کی الف بے کا پتہ نہیں ہوتا، حکومتی اداروں کو کیسے چلانا ہے اس کا ادراک نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس صورت حال کی مجرم متحدہ اپوزیشن اور خاص کر اپوزیشن لیڈر بھی ہے، جو اپنے فائدے کے لیے کبھی ملک سے باہر رہنا پسند کرتی ہے اور بیڈ گورنس کے بعد موقع دیکھ کر 'اشارے' پر واپس آ جاتے ہیں۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ جیسا بھی ہے اس سے عوام کو تھوڑا بہت فائدہ ضرور ہو گا، لیکن اس کا حکومت کو کوئی سیاسی فائدے کم ہی پہنچے گا کیونکہ اس کی ٹائمنگ درست نہیں ہے۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  3. #133
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    938
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    منصفو وقت آ گیا ہے کہ اپنے حلفِ منصبی سے وفاداری کرو
    ابھی تھوڑی دیر پہلے ٹویٹر پر خواجہ آصف کی پریس کانفرنس دیکھی اور ان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات یا الزامات سنے۔ خواجہ آصف نے عمران خان پر شوکت خانم ٹرسٹ، فیملی و دوستوں کے ذریعے سے پیسہ باہر انویسٹ کرنے کے معاملات پر جو سنگین الزامات لگائے ہیں یا ان کے بارے جو سوالات اٹھائے ہیں، قوم ان سب کا جواب مانگتی ہے۔ جو شخص جتنے بڑے منصب پر ہو اسے خود احتسابی اختیار کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنے پر لگنے والے الزامات کی صفائی دینی چاہیے لیکن اگر وہ فارن فنڈنگ کیس کی طرح اپنے معاملات کی صفائی دینے سے بھاگے تو قوم جان لے کہ وہ مجرم ہے اور اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ قوم کے منصفو! یاد رکھنا کہ آپ پر بھی الزام لگتا ہے کہ آپ نے وقت کے ہر حاکم کی پشت پناہی کی، آپ پر ماضی و حالمیں یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ آپ نے ہر برسراقتدار مجرم کا ساتھ دیا ہے، ابھی بھی وقت ہے کہ اپنا فرضِ منصبی جانتے ہوئے انصاف کرو، دیکھ لو کورونا وائرس کی صورت میں اللہ کی پکڑ آن پہنچی ہے۔ یہ نہ ہو کہ مجرم کے سہولت کار بننے کے جرم میں تم منصف لوگ مجرم سے بھی پہلے قانونِ قدرت کی پکڑ میں آ جاؤ۔
    https://twitter.com/RiazHussain44/st...96905394950144
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  4. #134
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    938
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    مومن بنو ایک سوراخ سے بار بار مت ڈسے جاؤ
    کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے سے دنیا بھر کی طرح پاکستانی قوم پر بھی کڑا وقت ہے، دیکھتے ہیں کہ جو جہانگیر ترین عمران خان کی حکومت سازی مہم کے لیے اپنے جہاز میں ملک بھر سے لوٹے جمع کرتا ہوا پایا گیا تھا وہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران اپنے جہاز کا کیا استعمال کرتا ہے؟ اگر تو وہ جہاز میں فیملی سمیت سوار ہو کر بھاگ گیا تو سمجھیں اس کے دل میں قوم کا کتنا درد ہے اور اگر واقعی اس کے دل میں قوم کا درد ہے تو اپنے جہاز کو رکشہ بنا کر عوام کو خوراک بانٹتا نظر آئے گا۔ میری پاکستانی قوم گواہ رہنا، جہانگیر ترین اور اس جیسے پیسے والوں پہ کڑی نظر رکھنا، وہ اس مصیبت کی گھڑی میں جیسا کردار ادا کریں آپ بھی بعد میں جو بھی دیکھنا اس کے حساب سے ان کے ساتھویسا ہی کرنا۔ میرا آپ کو مشورہ ہے کہ مومن بنو ایک ہی سوراخ سے بار بار مت ڈسے جاؤ،شکریہ۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  5. #135
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    938
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    اگر یہ خبر درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے کورونا وائرس بارے تجاویز سنے بغیر اجلاس سے چلے گئے تو یہ بڑے دکھ، شرم اور افسوس کا مقام ہے۔ یاد رکھنا قوم خوشی کے موقعے پر لیڈروں کی ایسی باتیں بھول جاتی ہے لیکن دکھ کے ماحول میں لیڈروں کا گھناؤنا کردار نہیں بھولتی۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  6. #136
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    938
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    اگر یہ خبر درست ہے کہ شہباز شریف نے شریف خاندان کے 130 ایکڑ پر مشتمل رائے ونڈ فارم ہاؤس کو قرنطینہ سینٹر بنانے کا اعلان کیا ہے تو پھر تو یہ شکر کا مقام ہے کہ محلات میں رہنے والی لیڈرشپ کی جانب سے قوم کے لیے کوئی اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ ویسے تو تقریباً تمام ہی بڑی سیاسی لیڈرشپ کے پاس کئی ایکڑ پر مشتمل جائیداد اور محلات ہیں، چلئے ہم دیکھتے ہیں ان میں سے کون کون اپنے گھروں کے دروازے عوام کے لیے کھولتا ہے؟
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  7. #137
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    938
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    قوم دیکھ لے کہ ان کی لیڈرشپ کورونا وائرس کے معاملے میں کتنی سنجیدہ ہے
    اگر یہ خبر درست ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان پارلیمانی قیادت کا اجلاس بلا کر خود تقریر کر کے اجلاس سے چلے گئے ہیں تو ایک تو یہ آدابِ میزبانی کے خلاف ہے اور دوسرا اگر یہ کورونا وائرس جیسے سیرئیس معاملے پر بھی ان کی جوڑ توڑ والی بچگانہ بلکہ منتقمانہ حکمت عملی کا حصہ ہے تو پھر تو یہ بڑے شرم کا مقام ہے۔ اس وقت جب دنیا بھر میں نوعِ انسانی کو شدید ترین خطرات لاحق ہیں ملک کا چیف ایکزیکٹو جو کہ اس آن لائن اجلاس کا میزبان بھی تھا،اجلاس کے شروع میں ہی تقریر جھاڑ کر چلا جاتا ہے تو ان کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں بھی قوم کو تقسیم کر رہے ہیں وہ بھی ایسے وقت میں جب پوری دنیا کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے متحد ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پر جواباً شہباز شریف،بلاول زرداری اور دیگر اپوزیشن نے بھی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا حالانکہ انہیں اپنا احتجاج ریکارڈ کروا کر اپنی تجاویز ضرور دینی چاہیے تھی۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  8. #138
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    938
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    قوم اپنی لیڈرشپ کا کردار دیکھ لے
    اگر یہ خبر درست ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان پارلیمانی قیادت کا اجلاس بلا کر خود تقریر کر کے اجلاس سے چلے گئے ہیں تو ایک تو یہ آدابِ میزبانی کے خلاف ہے اور دوسرا جواباً شہباز شریف،بلاول زرداری اور دیگر اپوزیشن نے بھی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا حالانکہ انہیں اپنا احتجاج ریکارڈ کروا کر اپنی تجاویز ضرور دینی چاہیے تھی۔ میں سمجھ رہا تھا کہ تاریخ کے مشکل ترین دور میں ہر ایک سیاسی لیڈر کو اپنے ماضی و حال کے کردار پر شرمندگی ہونا چاہیے تھی، میں سوچ رہا تھا کہ یہ مجرموں کا ٹولہ اب اپنے کیے پر شرمندہ ہو گا یا نہیں؟ اپنے گناھوں کی معافی خلوص دل سے مانگنے کو تیار ہو گا یا نہیں؟ یا یہ صرف عوام کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے ایک ایکٹ کا ڈرامہ کر رہے ہیں؟ تو میرے ذہن میں گھنٹی بجی کہ میری آخری بات شاید درست ہے، اگر ایسا ہے تو یہ یہ لیڈرشپ کورونا وائرس جیسے خطرناک مسعئلے پر واقعی پاکستان کو تباہی و بربادی کی طرف لے جا رہی ہے، اللہ خیر کرے۔ قوم بھی اپنی لیڈرشپ کا کردار دیکھ لے اور آئندہ پھر کسی اندھے گڑھے میں گرنے سے پہلے سو بار سوچ کر اچھے افراد کو منتخب کرے تاکہ ہماری اگلی نسلوں کو ان ناسوروں سے دوبارہ واسطہ نہ پڑے۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  9. #139
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    938
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    کیا عوام کو کورونا جیسی اذیت ناک موت کا شکار کرنے والا شکنجے میں آ گیا؟
    کورونا وائرس اور تفتان کے رستے ایران سے زائرین کی واپسی میں وزیراعظم پاکستان کے معاون زلفی بخاری کا نام سامنے آتا رہا ہے اور اب تو لوگ کھل کر ان کا نام لیتے ہیں کہ انہوں نے زائرین کے بلا تحقیق بغیر چیک اپ کے ملک میں واپسی کا رستہ ہموار کیا کیونکہ موصوف بھی اسی مسلک سےتعلق رکھتے ہیں جو زائرین کا مسلک بتایا جاتا ہے۔ میں یہاں مسلکی جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی یہ میرا میدان ہے بلکہ یہ بتا رہا ہوں کہ کیسے بڑے عہدے پر چھوٹے لوگ بٹھانے سے اور ان کی غلط فیصلوں سے ملک کو آگ میں جھونک دیتے ہیں۔ آج اسی سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایرانی زائرین کی مختلف شہروں میں رکھے جانے پر سول سوسائٹی کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر سماعت ہوئی ہے، اس کیس کو جسٹس عامر فاروق سن رہے ہیں، درخواست گزار کے وکیل مظہر جاوید ایڈووکیٹ نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ "تفتان بارڈر سے زائرین کو فیصل آباد، جھنگ یا دوسرے شہروں میں منتقلی سے روکا جائے اور تفتان بارڈر کو فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا جائے"۔ جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ "یہ پالیسی معاملہ ہے، شارٹ ڈیٹ دے رہے ہیں، حکومت کا جواب آنے دیں، حکومت سے پوچھ لیتے ہیں کہ تفتان سے آنے والوں کو کہاں رکھا ہے؟ قرنطینہ مراکز کہاں قائم کیے ہیں؟"۔ جس کے بعد عدالت نے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے اور تفتان بارڈر سیل کر کے مزید زائرین کی واپسی روکنے کے لیے دائر درخواست پر وفاق، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور زلفی بخاری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا ہے۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  10. #140
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    938
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    یہ کون ہے؟ اسے کسی بات کا علم بھی ہے؟
    پرسوں وزیراعظم کی پریس کانفرنس کا ایک جملہ کہ "کورونا وائرس کی وجہ سے کراچی میں پورٹ بند کر دی گئی جس کی وجہ سےدالیں وہاں سے منتقل نہیں ہو سکیں"۔ غالباً موصوف اس کا الزام سندھ انتظامیہ پر تھوپنا چاہتے تھے، آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ کراچی بندر گاہ kpt کراچی پورٹ ٹرسٹ کے انڈر آتی ہے، عام طور پر اس کا چئیرمین پاکستان نیوی کا ایک حاضر سروس ایڈمرل ہوتا ہے اور یہ بحیثیت ادارہ وفاقی وزارت پورٹ اینڈ شپنگ کے تحت آتا ہے۔ کوئی وزیراعظم کو سمجھائے کہ خدارا کنٹینر سے اتر آئے، ہر بار جھوٹ نہیں چلتا، اتنے مشکل وقت میں بھی جو انسان جھوٹ گھڑتا رہے کیا آپ کو اس سے بھلے کی امید ہے؟ اگر اپ کو امید ہے تو اللہ آپکا حامی و ناصر ہو، اس کے ساتھ آپ کو بھی علاج کی ضرورت ہے۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

صفحہ 14 از 16 اوليناولين ... 41213141516 آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University