صفحہ 15 از 16 اوليناولين ... 513141516 آخریآخری
نتائج کی نمائش 141 تا: 150 از: 151

موضوع: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

  1. #141
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    912
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    اپنے گرائیں کرنل ریٹائرڈ راجہ وسیم اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر رقمطراز ہیں کہ "چینی کمپنی نے کرونا سے نمٹنے کا سامان مرکز کی جگہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو کیوں دیا؟ انتہائی رعایتی نرخوں پر یہی سامان مرکزی حکومت کی بجائے شہباز شریف کو کیوں بیچا؟ کیا وہ جان گئے کہ ہماری تحفتاً دی گئیtest kits چوری ہو گئیں؟ ان فری کی kits سے شوکت خانم والے فی ٹیسٹ 9700 روپے کما رہے ہں"۔ اب یہ الزام سچ یا جھوٹ؟ اس کا جواب دینا تو بنتا ہے ناں؟ خاموش رہو گےتو اسے خموشئ مجرمانہ یا جرم ماننا سمجھا جائے گا۔
    https://twitter.com/rajawaseem1511/s...73722912358401
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  2. #142
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    912
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    اب پتہ چلا کہ وہ کیوں بھاگا
    کل وزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلوایا اور پھر تقریر جھاڑ کر نکل گئے، اس بارے عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ عمران خان اس لیے پتلی گلی سے نکل گئے کہ شہباز شریف کے پاس کورونا وائرس کے بارے مریضوں اور میڈیکل سامان کی موجودگی سے متعلق فیکٹ اینڈ فگر موجود تھے، جو حکومتی فگرز کے مقابلے میں بہت زیادہ تھے۔ عمران خان کے اس طرح نکل جانے کی وجہ یہی تھی کہ ان کے پاس اپوزیشن کو فیس کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ شہباز شریف کی بیوروکریسی کے ساتھ تعلق کی وجہ سے معلومات موجود تھیں جو حکومتی نمبروں سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  3. #143
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    912
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ تبدیلی آ گئی ہے
    میں شریف برادران کا حامی نہیں لیکن اس بات کا معترف ہوں کہ انتطامی امور میں شہباز شریف عمران خان سے کہیں آگے ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف ویسے ہی واپس آئے ہیں؟ وہ ایسے ہی واپس نہیں آئے، انہیں واقعی کوئی ایسا اشارہ دیا گیا ہے، یا جب اصل حکومت والے کرسی پر بیٹھی حکومت سے کام کروانے میں ناکام رہے تو پریشر ٹیکٹس کے طور پر شہبازشریف کو واپس بلوا لیا اور اب گیم چینجر کو دیکھ کر تبدیلی والے پسنجر ٹرین سے اتر کر تیزرو پر سوار ہو گئے ہیں کہ کہیں مزید سست چلنے سے تختہ ہی نہ الٹ جائے۔ اس بات کو تقویت اس وجہ سے بھی ملتی ہے کہ شہباز شریف کو آج کل بڑا پروٹوکول مل رہا ہے۔ دوسری جانب ن لیگ کی اے پی سی میں اختر مینگل اور پرویز الٰہی جیسے حکومتی حلیفوں کا آنا اور مینگل صاحب کے آج کے بیانات دیکھیں تو قرائن بتاتے ہیں کہ تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ تبدیلی آ گئی ہے۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  4. #144
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    912
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    مجھے بتا تو سہی اور منافقت کیا ہے؟
    بدقسمتی سے پاکستان ایسا ملک بنتا جا رہا ہے کہ جہاں ڈنڈے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کا ڈریکونین قانون کا درجہ حاصل ہے، جب ہمارے منافق سیاسی چغد اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو اپنے اور عوام کے حق کے لیے دھرنے، جلسے اور سوشل میڈیا کو بے لگام ہتھیار بنا کر ہر جائز و ناجائز تنقید کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ اور جب یہی منافقین ملکی و غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کا کندھا استعمال کر کے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں تو میڈیا، صحافیوں اور مخالفین سے مرضی کے سوال، ججز سے مرضی کے فیصلے اور امپائرز سے مرضی کے الیکشن نتائج مانگتے نظر آتے ہیں اور مخالفین کے خلاف انہی قوانین کو مزید سخت بناتے نظر آتے ہیں جن کو اپنے اپوزیشن دور میں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے تھکتے نہیں تھے اور ان قوانین کو بیک جنبش قلم ختم کروا دیتے ہیں جن سے ان کی گردن پھنستی نظر آئے۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  5. #145
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    912
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    میرے آبائی علاقے کہوٹہ سے تعلق رکھنے والے کرنل وسیم راجہ نے کھلم کھلا الزم لگایا ہے کہ "تفتان کے قرنطینہ سنٹر کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کرونا کی نرسری بنایا گیا، پھر کرونا پورے ملک میں ایکسپورٹ ہوا۔ شاید زیادہ چندہ، زیادہ امداد کی ضرورت تھی، 22 کروڑ عوام میں سے 1یا 2 کروڑ مر بھی جائیں تو کیا فرق پڑے گا"۔
    https://twitter.com/rajawaseem1511/s...93755155775489
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  6. #146
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    912
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    کچھ ہٹ کے
    کچھ دوستوں نے کہا کہ "میں حکومت وقت کی ناجائز تنقید کرتا ہوں"، دوستوں سے بھی یہی کہا اور یہا بھی یہی یہ بتا رہا ہوں کہ کسی کی بے جا تعریف کرنا اسے خواہ مخواہ بانس پر چڑھا کر نیچے بلندی سے نیچے گرانے والی بات ہے، بہتریہی ہے کہ حکمران کے اچھے کام کی تعریف کریں تاکہ ایسے کام جاری رہیں اور برائی کی نشاندہی کریں تاکہ وہ اس سے بچا رہے۔ میں جو کچھ لکھتا ہوں جو قلم کی تلخی ہے اس کی وجہ موجودہ و گزشتہ حکمرانوں کی نادانیاں ہیں جو خوشامدیوں میں بیٹھ کر بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے انہیں کس کام کے لیے مقرر کیا تھا اور وہ کن چاپلوسوں کی محفل میں ایسے کام کر رہے ہیں جو آگے چل کر انہیں سوائے ذلالت کے کچھ نہیں دینے والا۔ قصہ مختصر کہ احباب میرےلکھے کو بطور ناقد و ناصح دیکھیں، تنقید سے آگے بڑھنے میں مدد ملتی ہے اور غلطی کی نشاندہی سے حکمران وہی غلطی بار بار کرنے سے بچ سکتا ہے بشرطیکہ وہ عقل رکھتا ہو۔ تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو پتہ چلتا ہے کہ کسی حکمران کا زوال تبھی شروع ہوتا ہے جب وہ خوشامدیوں میں گھر جاتا ہے، ایک اچھے پکوان یا مفاد کی خاطر یہ خوشامدی حکمران کے سامنے اس کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ نرگسیت کا عادی بن کر عوامی مسائل سے کٹ جاتا ہے اور ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ خوشامدی حکمران انسان کے اندر تکبر کا بیج بو دیتا ہے اور جس سے اس میں تکبر آ جاتا ہے، تکبر کے ڈیرا ڈالنے کی دیر ہوتی ہے کہ پھر اچھا خاصا حکمران اپنی دنیا و آخرت تباہ کر بیٹھتا ہے۔ شکر ہے میں نے آج تک سوائے اچھے کام کی تعریف اور غلطی کی نشاندہی کے سوا اور کام کم ہی کیا ہے، اب بھی اگر میں آپ کی نظروںمیں غلط ہوں تو آپ رائے رکھنے میں آزاد ہیں،مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ مجھے بھی رائے دینے کی آزادی دیں۔میریکہی بات یا میرے قلم سے لکھے الفاظ ایک رائے ہے کوئی فیصلہ نہیں جس پرحکمران عمل کرنے کے پابند ہوں۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  7. #147
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    912
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    امیر غریب سبھی کورونا کے نشانے پر
    اللہ خیر کرے دنیا کے طول و عرض میں خواہ امیر ہوں یا غریب، سبھی کورونا کا نشانہ بنتے جا رہے ہیں، آج کی خبر ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن میں وائرس کی علامات پائی جا رہی تھیں جس کے بعد ان کا ٹیسٹ کیا گیا جس کا نتیجہ مثبت آ گیا ہے، طبی لحاظ سے ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے، کورونا ٹیسٹ نتائج کے بعد بورس جانسن نے خود کو دوسروں سے دوری اختیار کرتے ہوئے خود کو قرنطینہ میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "وہ ویڈیو لنک کے ذریعے تمام معاملات جاری رکھیں گے، وائرس میں مبتلا ہونے کے باجود وہ انتظامی امور دیکھتے رہیں گے"۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  8. #148
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    912
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    خبر نما اداریہ
    سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے یہ دیکھا ہے کہ پیپلز پارٹی واحد نہ سہی کم از کم دوسروں کے مقابلے میں قومی مسائل پر سب سے پہلا قدم اٹھانے میں دیر نہیں لگاتی ہے۔ ماں کے ناطے بھٹو کا لاحقہ لگانے والے بلاول زرداری کی جانب سے کورونا وائرس کے مسئلے پر سب سے پہلے یہ کہنا کہ "ہم اپنے وزیراعظم کے ساتھ ہیں، یہ وبا ایک قومی مسئلہ ہے"۔ لیکن ہر برسراقتدار حکمران کی طرح وزیراعظم نے تو اس مشورے کو خاطر میں لانا ہی مناسب نہیں سمجھا۔ "میں جانتا ہوں"، "میں سمجھتا ہوں"، "میں ہی فیصلے کرتا ہوں" کو یہ پتہ نہ ہو کہ کب کہاں اور کیا فیصلہ لینا ہے تو پھر میں قوم کے لیے دعا ہی کر سکتا ہوں۔ کیا طرہ ہے کہ تقریر کرتے وقت یا پریس کانفرنس کرتے وقت سوال کا جواب نہیں دینا بلکہ ایک طرح تڑی لگانے کا جو طریقہ ان موصوف نے اپنایا ہے وہ حاکمیت نہیں فرعونیت کو ظاہر کرتا ہے، موصوف اپنے قول کے مطابق تقریر اعظم اور کام کے لحاظ سے پسنجر ٹرین سے بھی سست انسان ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ اقتدار کا ہما بیٹھتا بھی بغیر بتائے ہے اور اڑنے میں بھی دیر نہیں لگایا کرتا۔ سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ ان کا کٹھ پتلی وسیم اکرم پلس اور اس کے مینٹور میں دو باتیں مشترک ہیں، ایک دایاں ہاتھ جھٹک جھٹک کر بس ہاتھ کی انگوٹھیاں دکھاتا اور تقریر جھاڑتا ہے اور دوسرا دونوں ہاتھ جوڑ کر خاموش زبان میں "ہائے میری انگوٹھیاں" کا خاموش ورژن گاتا دکھائی دیتا ہے۔ لائیو کیمرا ہو یا پریس کانفرنس بزدار کے منہ شریف پر اڑتی ہوائیوں دیکھیں تو ایک بات دھیان میں آتی ہے کہ آپ کا مستقبل اللہ ہی محفوظ رکھے تو رکھے، ان جیسے حکمرانوں سے تو یہ نہیں ہونے کا۔ میں ماضی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا سخت نقاد رہا ہوں، خاص کر گندم بحران اور تھرپارکر میں اموات کے مسئلے پر تو میں ان کی کافی کلاس لے چکا ہوں۔ لیکن خدا گواہ ہے کہ کورونا وائرس کے مسئلے پر اس سید زادے نے مجھے بہت متاثر کیا ہے، بات کر رہا ہو یا حکومتی اقدامات کو بیان کر رہا ہو تو اس کی ذہانت، اس کا متحرک پن، ہشاش بشاش چہرہ، دردمندی سے عوام سے یہ اپیل کرنا کہ احتیاط برتیے یہ کریں وہ نہ کریں، شاہ جی نے پچھلے 3 ہفتوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ شخص واقعی گُنی اور لائقِ تحسین ہے کہ اسے سب سے پہلے مسئلے کی سنگینی کا احساس ہوا اور پھر باقیوں نے بھی اس کی پیروی کی۔اگر کوئی مجھ سے اس وقت یہ پوچھے کہ کون پاکستان کو بہتر طریقے سے چلا سکتا ہے تو میرا جواب ہو گا؛ سید مراد علی شاہ، بڑے بڑے سیاسی نام اور سلیکٹڈ و سلیکٹر اس کے مقابلے میں بونے نظر آتے ہیں۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  9. #149
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    912
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کی خاکی، پی پی پی، ن لیگ، ق لیگ، مذہبی گروہوں، لسانی گروہوں اور چھوٹی پارٹیوں پر حکومتوں نے جہاں ملک کو معاشی وائرس پھیلایا وہیں موجود پی ٹی آئی حکومت نے کورونا وائرس پھیلا کر اس کے ذریعے ڈالرن مزیدن کی جو گھناؤنی سازش کی ہے اللہ کی ذات اسے اس کی سزا ضرور دے گی۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  10. #150
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    912
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    پی ایم ڈی سی کیس: 'حکومت عدالت کی توہین کر رہی ہے، وزیراعظم کو شرم آنی چاہیے '
    آج 30 مارچ 2020 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نےپی ایم ڈی سی کیس کی سماعت کی۔ آج عدالت نے پی ایم ڈی سی کو 11 فروری کے دئیے گئے عدالتی حکم کے باوجود بحال نہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی، اس دوران عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر و دیگر حکام پیش ہوئے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی عدم بحالی پر دائر توہین عدالت کی درخواست پر وفاقی حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہئے کہا کہ "حکومت عدالت کی توہین کر رہی ہے، وفاقی حکومت، وزیراعظم اور وزیر صحت کو شرم آنی چاہیے"۔ دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکریٹری ہیلتھ کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ "میں سیکریٹری ہیلتھ کو 6 ماہ کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیتا ہوں، ایس ایچ او جائیں اور سیکریٹری ہیلتھ کو گرفتار کر کے جیل بھیجیں، سیکریٹری سے کہیں کورونا ٹیسٹ کروا کے آئیں میں آج ہی جیل بھیجوں گا"۔ ساتھ ہی عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرنے پر سیکریٹری صحت کو توہینِ عدالت کا نوٹس کر دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ "حکومت عدالت کی توہین کر رہی ہے وزیروں اور اعلیٰ حکام کو جیل بھیج دوں گا۔ ایمرجنسی میں وفاقی حکومت جو کام کر رہی ہے وہ تباہ کن ہے، وفاقی حکومت، وزیراعظم اور وزیر صحت کو شرم آنی چاہیے۔ ایک گھنٹے میں پی ایم ڈی سی کا تالہ توڑ کر عدالت کو آگاہ کریں، میں اپنے فیصلے کو اس سطح پر لے جاؤں گا کہ کوئی برداشت نہیں کر سکے گا، ابھی جائیں اور پی ایم ڈی سی کے تالے توڑ کر رجسٹرار کو ان کے دفتر میں بٹھا کر آئیں"۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پی ایم ڈی سی کی بحال، پاکستان میڈیکل کمیشن تحلیل کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔ اس موقع پر عدالت کی جانب سے یہ پوچھا گیا کہ" کیا پی ایم ڈی سی کے ملازمین کو تنخواہ مل رہی ہے؟"، جس پر کونسل کے وکیل نے بتایا کہ" نہیں 5 ماہ سے تنخواہ نہیں مل رہی"۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے "وزارت صحت کو نئے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن سے بھی روک دیا اور رجسٹریشن کے لیے قائم ڈیسک بھی بند کرنے کا حکم دیا۔ پی ایم ڈی سی کو اختیار ہے کہ وہ نئے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن کی درخواستیں وصول کرے"۔ بعد ازاں ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے بیان دیا اور وفاقی حکومت کی جانب سے پی ایم ڈی سی کو فوری طور پر ڈی سیل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے رجسٹرار پی ایم ڈی سی کو اپنے دفتر میں بیٹھنے کی اجازت دے دی، جس پر عدالت نے رجسٹرار پی ایم ڈی سی کو اپنے آفس میں کم سے کم اسٹاف کے ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ "کورونا وائرس کی صورتحال میں وفاقی حکومت کی پالیسی کو اپنائیں، حکومت نے کروونا وائرس کے پیش نظر باقی اداروں کے ملازمین کو گھر بٹھایا ہوا ہے۔ آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ ان حالات میں کتنے ملازمین کے ساتھ کام کرنا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ "نئے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن پی ایم ڈی سی کا کام ہے، وزارت صحت کو نئے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن کا اختیار نہیں"۔ یاد رہے کہ 20 اکتوبر کو صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرڈیننس نافذ کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو تحلیل کر دیا تھا جس کے نتیجے میں پی ایم سی کے نام سے نئے ادارے کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔ جس پر پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر حفیظ الدین اور 31 ملازمین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کونسل کو تحلیل کرنے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ سماعت کے بعد عدالت نے 11 فروری 2020 کو پی ایم ڈی سی اور اس کے تمام ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی تھی، ملازمین نے مؤقف اپنایا تھا کہ پی ایم ڈی سی کی عمارت کو سیل کردیا گیا ہے اور ملازمین کو داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ سماعت کے دوران عدالت کے پوچھنے پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ وزارت صحت نے عمارت سیل کرنے کی درخواست کی تھی لیکن انتظامیہ نے عمارت سیل کرنے سے انکار کردیا تھا جس پر وزارت صحت نے پی ایم ڈی سی کی عمارت کو خود تالے لگائے تھے۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

صفحہ 15 از 16 اوليناولين ... 513141516 آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University